بچت پلان ضروری ہے
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 31 / مارچ / 2026
توانائی کے موجودہ بحران پر قابو پانے کے لئے حکومت کی طرف سے جس بچت پلان کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، اس کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ عوام میں بھی اس پروگرام کی پذیرائی ہو تاکہ اس کے مثبت نتائج حاصل کئے جا سکیں۔
ایک وقت تھا کہ ہمارے ملک میں قدرتی وسائل کی کمی نہیں تھی۔ مطالعہ پاکستان کے مضمون میں بھی یہ پڑھنے کو مل جاتا تھا کہ پاکستان میں بجلی، پن بجلی گیس اور کوئلے کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ اور ایک وقت تھا کہ بجلی کے جانے یا لوڈ شیڈنگ کے نام سے بھی لوگ ناواقف تھے۔ گیس کے چولہے کھلے چھوڑ کر خواتین ماچس کی تیلی کی کفالت شعاری کرتی دکھائی دیتی تھیں۔ گھروں میں بلا وجہ۔ بلب اور پنکھے چلتے رہتے تھے۔ گویا مال مفت دل بے رحم۔ والا معاملہ تھا۔
قدرتی نعمتوں کی بے قدری کے بعد ان نعمتوں پر جب زوال آ نا شروع ہوا تو قدر نعمت بعد زوال کا مقولہ بھی سمجھ آ نے لگا۔
بجلی آ نکھ مچولی کھیلنے لگی۔ یار لوگ بجلی کے اچانک آ نے اور جانے کا انتظار کرنے لگے۔ دستی پنکھوں اور بجلی کے انتظار کے ساتھ ماہی کو پکھیاں جھلنے کی باتیں ہونے لگیں۔ واپڈا کا محکمہ سفید ہاتھی کہلاتے لگا اور لوڈ شیڈنگ کےساتھ ساتھ لوگ لوڈ منیجمنٹ سے بھی متعارف ہونے لگے۔ ذرا سی آ سمانی بجلی کےکرکثے اور آ ندھی و تیز ہوا کے چلنے اور تاروں کے ہلنے سے زمینی بجلی کے جانے کے واقعات میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا اور ہرطرف:
بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں
جو مجھ کو چھو لے گا وہ جل جائے کا
کے نغمے گونجنے لگے یہی حال گیس کا ہوا کہ گھروں کے چولہوں میں خال خال نظر آ نے لگی اور سلنڈروں کا استعمال بڑھنے لگا۔
صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی مشکل ہونے لگی اور مطالعہ پاکستان میں ملنے والے قدرتی ذخائر اور وسائل ناہید اور عنقا ہونے لگے۔
گویا توانائی کے بحران کا آ غاز ہو گیا ۔ریلوے اسٹیل مل اور پی آ ئی اے کے شعبے بھی اس بحران سے متاثر ہونے لگے اور صنعتی ترقی اور ملکی معیشت کا پہیہ رکتا اور بٹھہ بیٹھتا نظر آ یا۔ اب توانائی کے بحران کے ساتھ تیل کا بحران بھی سامنے ہے۔ گویا بقول منیر نیازی:
اک اور دریا کا سامنا تھا مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
اب پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں ایک طرف مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کیا ہے وہاں طبقاتی مساویانہ تقسیم اور کشمکش کا واویلا بھی مچایا جارہا ہے۔ موجودہ بحران کے تناظر میں ایک طرف حکومت نے کچھ طبقات کی مراعات میں کمی کا عندیہ دیا ہے تو دوسری طرف عوام ان طبقات پر مفت پٹرول اور بجلی کی نوازشات پر آگ بگولہ بھی ہیں۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے سمارٹ لاک اور توانائی بحران پر قابو پانے کی جس حکمت عملی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، وہ یقیناً نہ صرف بروقت ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔ لہذا عوام کو بھی اس حوالے سے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔
یہ خبر بھی گرم ہے کہ موثر سائیکل اور گاڑیوں کے لیئے ہفتہ وار آن لائن پٹرول کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز ہے جو بعض لوگوں کی نظر میں قابل عمل نہیں ہے۔ اور اس حکمت عملی می عام آ دمی کے فائدے کی بجائے کچھ خاص لوگوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ یوں بھی دیہاتوں میں ابھی لوگ آن لائن سہولت سے کم ہی مانوس ہیں۔ پٹرول پمپوں پر ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے ساتھ پٹرول کی بچت کے اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے موٹر ویز پر حد رفتار میں کمی کے ساتھ ساتھ دیگر حکومتی اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ دفاتر میں ورک فرام ہوم اور گاڑیوں کے بے تحاشا استعمال میں کمی کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔ کرونا کے دنوں میں بھی حکومت کی سمارٹ لاک ڈاؤن پالسی کے مثبت نتائج سامنے آ ئے تھے۔
شادی گھروں اور دفاتر کے اوقات کار میں کمی کی تجاویز بھی مثبت دکھائی دے رہی ہیں۔ تقریبات پر زیادہ خرچ اور پر تعیش طرز زندگی میں تبدیلی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قدرتی روشنی سے فائدہ اٹھانے کے لئے مارکیٹوں کو جلد کھلنے اور بند کرنے کی حکمت عملی کو اپنانا بھی ضروری ہے۔ پٹرول کی بچت کے لئے پیدل چلنے اور بائیسکل کے استعمال کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
حکومت کو بھی اپنے اخراجات میں کمی واپڈا سمیت دیگر محکموں میں افسران کی فوج ظفر موج اور بلاوجہ مراعات میں کمی جیسے اقدامات بھی اب ناگزیر ہیں۔ یوں بھی مختلف اداروں میں وسائل کو شیر مادر کی طرح ہڑپ کرنے کی روایات پنپ گئی ہیں اور صورت حال کچھ اس شعر کی سی ہے کہ:
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
پاکستان کے قدرتی ذخائر جن میں گیس اور کوئلہ شامل ہیں، اس حوالے سے مربوط حکمتِ عملی وضع کی جائے۔ بلوچستان جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کے لوگوں کو بھی اس سہولت سے فائدہ دیا جائے تاکہ ان کا احساس محرومی بھی دور ہو۔ ملک میں آ ئے روز ناقص گیس سلنڈروں کے حادثات کے تدارک کےلئے سخت اقدامات کئے جائیں۔
عوام کو بھی چاہیے کہ حکومت کے بچث پلان پر تنقید کرنے کی بجائے اہنے طرز زندگی میں تبدیلی لائیں تاکہ بچت پلان کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔ اور ہم سب مل کر ملک کو توانائی کے اس بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اس کے حوالے سے تعلیم کی بہتری کےلئے بھی ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے تعلیمی سیشن اثر انداز نہ ہوں اور تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں۔