وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں سوال کی قیمت دو کروڑ روپے؟

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے  کے بارے میں خبریں اور تبصرے اس وقت سوشل میڈیا صارفین کی پوری توجہ لیے ہوئے ہیں ۔  البتہ ایسے میں بھی پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو  پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شان و شوکت کے بارے میں سوال کرنے پر دو کروڑ جرمانہ بھرنا پڑا ہے۔  نسیم شاہ کو یہ مشکل  سوشل میڈیا پر بے پر کی اڑانے والوں کے طفیل پیش آئی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے افتتاح کے موقع پر جمعرات 26 مارچ کو نسیم شاہ کے ’ایکس‘  اکاؤنٹ سے  وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قذافی سٹیڈیم آمد کے موقع پر  ایک پوسٹ کی گئی تھی جس میں  اس موقع کی تصاویر کے ساتھ سوال کیا گیا  تھا کہ ’ان کے ساتھ ملکہ کی طرح کا برتاؤ کیوں کیا جا رہا ہے؟‘ تھوڑی دیر بعد ہی نسیم شاہ نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی اور  دعویٰ کی اکہ یہ پوسٹ ان کے خیالات کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ ان کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا۔ لیکن وہ اس  بے قاعدگی اور اکاؤنٹ سے ہونے والی سرگرمی  کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور کسی کی بھی دل آزاری پر معافی مانگتے ہیں۔

اس وضاحت کے باوجود پاکستان کرکٹ  بورڈ نے انضباطی کارروائی کرنا ضروری سمجھا۔  اس بارے میں غور کرنے اور نسیم شاہ کا بیان لینے  کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائی گئی جس نے اس پوسٹ کے بارے میں  چھان بین کی اور نسیم شاہ کو غیر ذمہ دارانہ پوسٹ کرنے  پر  دو کروڑ  روپے جرمانہ عائد کیا۔   کرکٹ بورڈ کے مطابق نسیم شاہ کی پیش کردہ وضاحتوں کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگرچہ نسیم شاہ غیر مشروط معافی مانگ چکے ہیں، اس کے باوجود  انہوں نے اپنے سینٹرل کنٹریکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی ہے لہذا ان پر دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

تاہم   نسیم شاہ کی اس وضاحت کو قبول کرنے کے باوجود کہ ان کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا اور انہوں نے اس پر معافی بھی مانگ لی  ہے، کرکٹ بورڈ کی طرف سے  ان پر کثیر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ ناقابل فہم ہے۔ یہ تو ایسا ہی اقدام ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر چوری کی شکایت کرنے جائے اور پولیس اسے ہی دھر لے کہ  پہلے تو تم اس بات کی سزا بھگتو  کہ چور تمہارے گھر کیسے آئے۔ سوال ہے کہ آج کے زمانے میں کسی بھی اکاؤنٹ کا ہیک ہونا معمولی بات ہے۔ دنیا بھر میں ہیکرز ایسے کام کرتے ہیں اور اچھے بھلے لوگوں کو ہراساں کرتےے ہیں یا انہیں نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ حال ہی میں بعض ہیکرز نے  امریکی ایف بی آئی  کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کا ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کیا اور لاتعداد ذاتی معلومات اور تصاویر عام کردیں۔ دنیابھر میں یہ خبر دلچسپی سے پڑھی گئی لیکن کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ  ایف  بی آئی کے ڈائیریکٹر سے ای میل ہیک ہونے پر باز پرس کی جائے یاان پر جرمانہ عائد ہو۔

تاہم یہ تصویر کا محض سادہ اور دلچسپ پہلو ہے جس میں کرکٹ بورڈ اور اس کی قائم کردہ کمیٹی کی  بدحواسی اور بے بسی نمایاں ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کا ایک نوجوان کھلاڑی کیسے ایک معمولی لغزش پر  معافی مانگنے اور جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کیاجاتا ہے۔  مریم نواز ایک سیاست دان ہیں۔  پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے طور پر وہ ایک عوامی عہدے پر براجمان ہیں۔ یہ عہدہ محض طاقت  و اختیارات کی علامت نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ انہیں عوام کے سامنے جواب دہ بھی بناتا ہے۔ پبلک آفس پر کام کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنے تمام فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں  تنقید سننے اور سوالات کا جواب دینے  کے  لیے  تیار رہنا چاہئے۔ ضروری نہیں کہ ہر تنقید درست ہو یا ہر سوال متوازن ہو لیکن کوئی سیاسی عہدیدار یہ کہہ کر اس سوال کوہتک قرار نہیں دے سکتا کہ اس میں اس کی شان و شوکت  یارویہ کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔  مریم نواز  سے پہلے ان کے چچا شہباز شریف طویل عرصہ تک  پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ اس عہدے پر کام کرتے ہوئے وہ فخر سے خود کو ’خادم اعلیٰ‘ کہلواتے تھے۔  مریم نواز بھی اسی روایت کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں اور خود کو غریبوں کی ہمدرد اور عوامی مسائل کا چیمپئن  کے طور پر پیش کرنے کی خواہش ظاہر کرتی رہتی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر  ان کی شان و شوکت کے بارے میں کوئی سوال  کیا جاتا ہے خواہ وہ کسی طرف سے بھی ہو تو اسے خوش دلی سے قبول کرکے درگزر سے کام لینا چاہئے۔ نسیم شاہ تو ویسے بھی کم عمر اور ناتجربہ کار ہیں۔

یہاں   یہ بحث غیر ضروری اور بے کار ہوگی کہ کیا یہ  ٹوئٹ واقعی نسیم شاہ کے خیالات کا پرتو تھا یا یہ انہوں نے خود ہی لکھوایا تھا یا  کسی نے اکاؤنٹ ہیک کرکے اسے مریم کی ’تضحیک‘ کے لیے استعمال  کیا۔ کیوں کہ   ٹوئٹ  میں کیا جانے والا سوال بے حد معصومانہ  تھا۔ اس میں کوئی  ہتک  آمیز فقرہ استعمال نہیں کیا گیا۔  بلکہ محض یہ پوچھا گیا ہے کہ  مریم  نواز کے ساتھ ملکہ  جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟ یعنی  انہیں   اعلیٰ درجے کا پروٹوکول کیوں دیا گیا۔ اس  سوال کو یا تو نظر انداز کیا جاسکتا  تھا یا اس پر یہ وضاحت کی جاتی کہ مریم نواز  صوبے کی  چیف ایگزیکٹو ہیں۔ وہ کرکٹ بورڈ کی دعوت پر قذافی اسٹیڈیم آئیں تو بورڈ نے انہیں شاندار پروٹوکول دینا ضروری سمجھا۔  اتنی وضاحت غیر ضروری تنازعہ ختم کرسکتی تھی لیکن کرکٹ بورڈ نے ایک عوامی عہدے دار کے بارے میں سوال کرنے  پر کثیر  جرمانہ عائد کرکے آمرانہ  طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ رویہ  ناقابل قبول اور کھیل کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔  اس صورت حال میں جرمانے کا سزاوار نسیم شاہ نہیں ہے بلکہ وہ کمیٹی ہے جس نے کسی مجبوری کے عالم میں ایک ناجائز  اور غلط فیصلہ کیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب  کے دفتر یا  ان کے کسی ترجمان کی طرف سے اس بارے میں کوئی وضاحت  سامنے نہیں آئی۔ مناسب ہوتا کہ  مریم   نواز خود ایک ہونہار نوجوان کھلاڑی کے اکاؤنٹ سے کسی نام نہاد ’ناپسندیدہ‘ پوسٹ  اور نسیم شاہ کی وضاحت پر خود یہ  بیان دیتیں کہ اگر نسیم شاہ نے یہ سوال کیا بھی ہوتا تو وہ خوش دلی سے اس کا جواب دیتیں۔ اور یہ کہ وہ کوئی ملکہ نہیں ہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے ایک عوامی عہدے پر کام کررہی ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو سوال کرنے اور  ان کے کسی اقدام پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایسا کوئی اقدام مریم نواز کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کرتا اور  انہیں واقعی فراخ دل عوامی لیڈر کا رتبہ دیا جاتا۔ تاہم کرکٹ بورڈ کے ذریعے ایک ’گستاخ‘ کو کثیر جرمانہ عائد کراکے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا سیاسی اور انسانی قد چھوٹا کیا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ مریم نواز نے نسیم شاہ کے ٹوئٹ کو دیکھا بھی نہ ہو  اور کرکٹ بورڈ سے شکایت بھی نہ کی ہو۔ ایسی صورت میں مریم نواز کو فوری طور سے کرکٹ بورڈ سے استفسار کرنا چاہئے کہ ان کے بارے میں پوچھے گئے ایک بے ضرر جواب پر سخت کارروائی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر کرکٹ بورڈ ڈسپلن کے نقطہ نظر سے کوئی نظیر قائم کرنے کے لیے ایسا فیصلہ ضروری سمجھتا ہے تو مریم نواز  خود نسیم شاہ کی طرف سے یہ جرمانہ ادا کرکے  کم از کم یہ پیغام دے سکتی ہیں کہ انہیں  عوامی سوالات پر کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو مریم نواز ہی نہیں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی کلچر اور عوامی  تعلق کے بارے میں  سوال اٹھانا جائز ہوگا۔