’عمران رہائی فورس‘ بنانے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کو آئینی عدالت کا نوٹس
وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ’رہائی سے متعلق فورس‘ کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ انہیں 10 روز میں جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
آئینی بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کے لیے اس نوعیت کی فورس کی تشکیل مناسب نہیں۔ ملک ظہیر ایڈووکیٹ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے رہا کروانے کے لیے ’رہائی فورس‘ کے اعلان کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر کی۔
آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے اپنے دلائل میں کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو قانون کے مطابق سزا سنائی گئی ہے اور وہ اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سزا کے خلاف عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں مختلف مراحل میں زیر سماعت ہیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ایک منتخب نمائندہ اور صوبے کے انتظامی سربراہ بھی ہیں۔ وہ کس طرح ایک سزا یافتہ مجرم کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ملک ظہیر ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ عدالت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ایسے کسی بھی اقدام سے روکے جو ملکی آئین اور مفاد عامہ کے خلاف ہو۔
تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا صوبائی کابینہ نے ایسی کسی فورس کی منظوری دی ہے یا کابینہ کے کسی اجلاس میں اس نوعیت کی تجویز پیش کی گئی ہے؟ اس پر درخواست گزار نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ سزا یافتہ شخص کے لیے اس طرح کی فورس نہیں بننی چاہیے اور وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ قانون کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہ ہو۔