امریکہ نیٹو چھوڑ سکتا ہے: ٹرمپ

  • بدھ 01 / اپریل / 2026

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو نیٹو سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ برطانیہ کے پاس بحریہ نہیں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کے بعد نیٹو میں امریکہ کی رکنیت پر نظر ثانی کریں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اوہ ہاں، میں تو کہتا ہوں کہ یہ معاملہ اب نظرثانی سے بھی آگے جا چکا ہے۔۔۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا: ’میں کبھی بھی نیٹو سے قائل نہیں ہوا۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ یہ ایک کاغذی شیر ہے اور یہ بات پوتن بھی جانتے ہیں۔‘ برطانیہ کے جنگی بحری بیڑے کی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’آپ کے پاس تو بحریہ ہی نہیں ہے۔ آپ بہت پرانے ہیں اور آپ کے پاس ایسے طیارہ بردار جہاز تھے جو کام ہی نہیں کرتے۔‘

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے ڈاؤننگ سٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ یہ بات  اب تیزی سے واضح ہوتی جا رہی ہے کہ برطانیہ کا ’طویل مدتی قومی مفاد یورپ میں اپنے اتحادیوں اور یورپی یونین کے ساتھ قریبی شراکت داری قائم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ امریکی صدر کی اس دھمکی پر تبصرہ کررہے تھے کہ وہ امریکہ کو نیٹو اتحاد سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کے تناظر میں یورپ کے ساتھ قریبی روابط قائم کر رہے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ وہ یورپ اور امریکہ کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہیں کر رہے۔ ’میرا خیال میں ہمارے مفاد میں ہے کہ امریکہ اور یورپ دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہوں۔ تاہم جب بات دفاع اور سلامتی، توانائی کے اخراجات اور معیشت کی آتی ہے تو ہمیں یورپ کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات کی ضرورت ہے۔‘

پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم نے بتایا کہ ایران جنگ میں شامل ہونے کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کرنے کے لیے مجھ پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا گیا لیکن میں جنگ پر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ’چاہے کتنا ہی دباؤ ہو، چاہے کتنا ہی شور ہو، میں برطانیہ کا وزیر اعظم ہوں اور مجھے اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ٹروتھ سوشل پر برطانیہ سمیت دیگر اتحادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکہ اب آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہو گا۔‘

معاشی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ آسان نہیں ہو گا۔‘ کیئر سٹامر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ برطانیہ کے وزیر خارجہ عالمی رہنماؤں کے ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گی، جس میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

اسرائیل اور امریکہ کے حملوں پر رد عمل میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر اعظم نے اپنا سابقہ مؤقف دہرایا کہ برطانیہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔