مذاکرات کی میز یا جنگ کا میدان: حتمی فیصلہ کہاں ہوگا؟

ایران۔ امریکہ اسرائیل جنگ آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے اس کی ہولناکی ہر آنے والے دن میں اور بھی واضح ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جنگ کا دائرہ کار پھیل رہا ہے۔ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔ یہ جنگ اسرائیل کی شروع کردہ ہے لیکن اس نے بڑی مہارت کے ساتھ اس جنگ کو ایران امریکہ جنگ بنا دیا ہے۔

 یہ اسرائیل کی کامیابی ہے، بڑی کامیابی ہے۔ ویسے تو اسرائیل اپنے قیام کے روز اول سے ہی کسی نہ کسی طاقت ور قوم/ ملک کی سرپرستی کا مرہون منت رہا ہے۔ ریاست اسرائیل کا قیام برطانیہ عظمیٰ کی مہربانی، سفارتی حمایت اور عملی معاونت کے باعث ممکن ہوا تھا ۔ اس کے بعد دھمکی بڑھوتی و حفاظت کی ذمہ داری امریکہ بہادر نے لے لی تھی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی۔ لیکن اسے پھیلانے میں اس نے مہارت دکھائی ہے۔ ایران نے جس طرح مزاحمت و مقاومت شروع کی اور جاری رکھی وہ حیران کن بھی ہے اور مثالی بھی۔

ایران ایک عرصے سے عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے اس کی معیشت ہی نہیں سیاست بھی مضمحل ہو چکی ہے۔ پابندیوں نے اس کے کس بل نکال دیئے ہیں اس کے باوجود وہ دو ایٹمی طاقتوں  کی جنگی مشینری کے سامنے جس طرح ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہے، وہ مثالی  ہے۔ دنیا یہ جنگ رکوانے کی سرتوڑ کاوشیں کر رہی ہے۔ امریکہ میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے ادارے،شخصیات ٹرمپ کی جنگی جنونیت کے خلاف برسرپیکار ہیں، عوام مظاہرے بھی کررہے ہیں۔ اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔عالمی سطح پر بھی امریکی صدر کی جنگی حکمت عملی کی پذیرائی نہیں ہے۔ اس حوالے سے پاکستان صف اول میں نظر آ رہا ہے۔ عرب ممالک کے حکمران ہوں یا اقوام مغرب کے ذمہ داران، سب پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ جنگ بندی کے لئے کچھ کیا جائے گا۔ امریکی صدر پاکستان کے وزیراعظم کا ٹویٹ، ری ٹویٹ کرتا ہے۔ ایرانی صدر پاکستان کے بارے میں پیغام اردو زبان میں جاری کرکے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ محبت و تشکر کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان کی سفارتکاری عروج پر ہے۔ ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں موجودگی اور جنگ رکوانے کی کاوشیں، پاکستان کے قد کاٹھ میں اضافہ کر رہی ہیں۔ یہ سب کچھ درست اور قابلِ ستائش ہے۔ ہمارے وزیرخارجہ اسحاق ڈار امن پروگرام کے سلسلے میں چین روانہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان اس جنگ میں بھی فرنٹ لائن سٹیٹ بن چکا ہے، لیکن اس بار جنگ رکوانے کے لئے۔

اقوام عالم امن کی پرچارک ہیں۔ سارے ملک اس جنگ کے منفی اثرات کا شکار ہیں۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں گرما گرمی ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری میں بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ عالمی سٹاک مارکیٹیں گڑبڑا چکی ہیں۔ سونے کی قیمت میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کی مارکیٹ سردبازاری کا شکار نظر آ رہی ہے۔ عالمی معاشیات شدید دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ و اسرائیل کی جنگ جوئیانہ پالیسیوں کے باعث خطہ عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے روز اول سے ہی خطے میں کشیدگی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ اسرائیل اپنے جغرافیہ کو گریٹر اسرائیل کے نقشے کے مطابق وسعت دے رہا ہے۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کا مستقل جغرافیہ ہی نہیں ہے۔ وہ 1948  میں اپنے قیام سے لے کر اب تک پھیل رہا ہے ۔اور اسے اپنے اعمال کے لئے امریکہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس سے پہلے برطانیہ عظمیٰ اس کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کو کسی ملک کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایران نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی تباہی کا مزا چکھ رہے ہیں۔ ان کے شب و روز بنکروں میں گزر رہے ہیں۔ ایرانی ڈرونز اور میزائلز اسرائیلیوں پر قیامت بن کر برس رہے ہیں۔ آئرن ڈوم کا پتہ نہیں کہاں کھو گیا ہے۔ خلیج میں آتش و آہن کا کھیل جاری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیرہ امریکی اڈے ہیں وہ سارے کے سارے غیر فعال ہو چکے ہیں۔ امریکی فوجی اور امریکی شہری جہاں جہاں بھی ہیں، ایران کی طرف سے حملوں کے باعث خطرات کا شکار ہیں۔ ایرانی میزائلوں کی درست ٹارگٹ کو ہٹ کرنے کی صلاحیت حیران کن حد تک بڑھ چکی ہے۔  ایرانی قوم کے مرنے مارنے کے لازوال عزم نے میزائلوں اورڈرونوں کو اس کے دشمنوں کے لئے قہر خداوندی بنا دیا ہے۔ جنگ کی ہلاکت خیزی بڑھتی جا رہی ہے۔

فریقین اب ایک دوسرے کے بجلی گھروں اور پانی صاف کرتے پلانٹوں کو برباد کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ تیل کے کنویں پہلے ہی نشانے پر آ چکے ہیں۔ امریکہ زمینی جنگ لڑنے کی تیاری کر چکا ہے ۔اس کے میرینز مختلف مقامات سے، مطلوبہ میدان جنگ کی طرف منتقل کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ بڑے خطرناک اور خوفناک بمبار جہاز ایران کے قریب مقامات پر لا رہا ہے۔ جنگ خطرناک مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ ہم جنگ بندی کے لئے کی جانے والی سفارتی کاوشوں کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ فریقین اپنی اپنی شرائط پاکستان کے حوالے کرتے ہیں۔ پاکستان فریقین تک پہنچاتے ہیں جو اپنا اپنا جواب پاکستان کو دیتے ہیں اس طرح بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ فریقین جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو للکاربھی رہے ہیں، بمباری، میزائل باری اور ڈرون باری بھی جاری ہے۔ بالواسطہ مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔ تباہی و بربادی اور امن،برابری دونوں ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ ابھی دونوں نتیجہ خیز نہیں ہیں، نہ امن مذاکرات کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی جنگ فیصلہ کن ہو رہی ہے۔

تاریخ کے مطابق، تاریخی اعتبار سے مذاکرات کے فیصلے میدان جنگ میں ہوتے ہیں۔ امن کا فیصلہ جنگ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ جب میدان جنگ میں کسی بھی ایک فریق کی فتح اور دوسرے کی شکست کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر فیصلہ، مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر لکھا جاتا ہے۔ یہی تاریخ ہے یہی تاریخ کا فیصلہ ہے۔پاکستان میں مذاکرات کی سٹیج سجی ہوئی ہے۔ فریقین بالواسطہ امن کے لئے کوشاں نظر آ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو شرائط پیش کی جا رہی ہیں۔  اسحاق ڈار چین روانہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز صدر پاکستان آصف علی زرداری کا اچانک بغیر اطلاع کے چینی سفارتخانے چلے جانا اسی سلسلے کی کڑی نظر آ رہی ہے۔ امن کی باتیں جاری ہیں، جاری رہیں گی۔ اصل فیصلہ میدان جنگ میں ہونے جا رہا ہے۔ فریقین جنگ کی شدت بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے سویلین ٹھکانوں کو بھی نشانے پر لیاجا رہا ہے۔ سردست ایران کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے۔ ایران نے عالمی معیشت کے ایک پوائنٹ، آبنائے ہرمز کو ایسے دبوچ رکھا ہے جیسے کسی کی گردن پر پاؤں رکھ دیا گیا ہو۔ ایرانی میزائلز،ڈرونز نے امریکی و اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی طیارے و میزائل ایرانی اہداف پر مسلسل تباہی نازل کررہے ہیں۔

 امریکی عظمت خاک میں ملتی نظر آ رہی ہے۔ تاریخ بن رہی ہے۔ تاریخ بدل رہی ہے۔ میدان جنگ میں تاریخ لکھی جارہی ہے۔ اس کا حتمی باب، مذاکرات کی میزپر بیٹھ کر لکھا جائے گا لیکن جب ایک فریق کی مکمل فتح اور دوسرے کو شکست ہوچکی ہوگی۔ میدان جنگ کا حتمی فیصلہ ہی مذاکرات کی میز پر لکھا جائے گا۔ ابھی تھوڑا انتظار کرنا ہوگا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)