افغانستان سے بات ہو رہی ہے: دفتر خارجہ پاکستان

  • جمعرات 02 / اپریل / 2026

پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی خطرناک ہے جس کا فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔سفارت کاری اور مذاکرات ہی مسائل حل کرنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

دفتر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے، پاکستان نے اپنا وفد چین کے شہر ارومچی بھیجا ہے، وفد بھیجنے کا مقصد ہے افغانستان کے اندر سے دہشتگردی بند کی جائے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔افغان طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لیے موجود ہ۔ے واپس نہیں آیا، پاکستان کھبی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا۔ افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان کا فیک نیوز کا دھندہ بے نقاب ہو چکا ہے۔بھارتی خبروں سے ہوشیار رہیں۔ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے فیک نیوز جاری ہیں۔ پاکستان کی سفارت کاری پر انڈیا اور بیرون ممالک سے فیک نیوز فیڈ کی جارہی ہیں۔طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ یہ افراد سرٹیفائیڈ جھوٹے اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔ ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان سے منسوب بیان کو بھی غلط پیش کیا گیا، بعد میں ایرانی وزارت خارجہ سے وضاحت جاری کی گئی۔ بھارتی فیک نیوز والوں اور جھوٹوں سے ہوشیار رہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور کیا گیا۔اس تنازع کے باعث نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گہرے مذاکرات ہوئے۔نائب وزیراعظم نے طبی مشورے کے باوجود اس دورے میں شرکت کی جو پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس دورے کے دوران افغانستان سمیت دیگر علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین اور پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔