صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقاصد کی تکمیل تک ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں زیادہ شدت سے حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آج رات امریکی عوام سے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد تمام فوجی مقاصد حاصل کرلیے جائیں گے۔ ایران جنگ کا مشکل حصہ مکمل ہوچکا ہے۔ اب ایران خطرہ نہیں رہا۔ ایران جنگ کے سٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں۔ مقاصد کی مکمل تکمیل تک جنگ جاری رہے گی۔ ہم اپنا مشن مکمل کریں گے۔
امریکی صدر نے ایران کے تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی اشارہ دیا۔ امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا تاہم انہوں نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتا رہا ہے۔ 47سال سے یہ صورتحال قائم تھی۔ ایران جنگ کے خاتمے کے بہت قریب آ رہے ہیں۔ ہمیں آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، تنازع ختم ہو گا تو آبنائے ہر مز قدرتی طور پر کھل جائے گی۔
ٹرمپ نے خطاب کے دوران اسرائیل، سعودی عرب، قطر، یواے ای، کویت اور بحرین کو عظم ممالک قرار دیا اور کہا کہ ہم ان ممالک کو نقصان پہنچنے اور کسی بھی شکل میں ناکام نہیں ہونے دیں گے ۔تیل کی قیمتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا بہت سے ممالک تیل قیمتوں میں اضافے پرپریشان تھے ۔ یہ اضافہ ایران کے ہمسایہ ممالک پر حملوں کی وجہ سے ہوا لیکن ہمیں وینزویلا کے بعد مشرق وسطیٰ کے تیل کی اب ضرورت نہیں رہی ۔کیونکہ امریکا اب آئل اور گیس کا نمبر ون پروڈیوسر ہے۔
دریں اثنا گزشتہ روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام کھلا خط جاری کیا جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ پر مسلط کی گئی جنگ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ خط میں ایرانی صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا واشنگٹن واقعی امریکا فرسٹ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے یا اسرائیل کا نمائندہ بن کر آخری امریکی فوجی تک جنگ لڑنے کو تیار ہے؟ ایران کی امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، امریکی عوام گھڑی ہوئی کہانیوں سے ہٹ کر حقیقت دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جدید تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی، یا تسلط کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ایران نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا ۔البتہ ہمیشہ حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔یہ تصور طاقتور حلقوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی بھی ملک اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے سے دستبردار نہیں ہوگا، ایران کا ردعمل متوازن اور جائز ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس جنگ سے امریکی عوام کے کون سے مفادات حاصل ہو رہے ہیں؟ کیا ایران کی جانب سے کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا؟ کیا معصوم بچوں کا قتل، کینسر کے علاج کی ادویات بنانے والے اداروں کی تباہی، یا کسی ملک کو پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کے دعوے امریکہ کی عالمی ساکھ کو بہتر بناتے ہیں؟۔
انہوں نے کہا ایران نے مذاکرات کیے، مذاکرات کے دوران حملے کا فیصلہ امریکی حکومت کا تھا، توانائی اور صنعتی تنصیبات پر حملے براہ راست ایرانی عوام کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایرانی صدر نے خط میں مزید لکھا کہ کیا یہ درست نہیں کہ اسرائیل ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے فلسطینیوں کے خلاف اپنے اقدامات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ دنیا نازک موڑ پر کھڑی ہے، تصادم کا