صدر ٹرمپ کی مایوس کن تقریر
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 02 / اپریل / 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات قوم سے خطاب کیا۔ امید کی جارہی تھی کہ وہ اس تقریر میں ایران کے خلاف جنگ بندی کے بارے میں کوئی اعلان کریں گے یا وہ ایرانی لیڈروں سے براہ راست اور بالواسطہ ’مذاکرات ‘ کے دعوؤں کے بارے میں کسی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ لیکن وہ ان دونوں نکات پر بات کرنے میں ناکام رہے۔
مبصرین اور میڈیا اس رائے پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ صدر کی تقریر گزشتہ چند روز کے دوران سوشل میڈیا پر لکھی جانے والی پوسٹس کا چربہ تھی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس تقریر میں تو وہ ’دہشت‘ بھی نہیں تھی جو وہ سوشل میڈیا بیانات سے طاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ شاید نیٹو سے امریکہ کے تعلق کے بارے میں کوئی سخت اعلان کریں لیکن اس بارے میں انہوں نے ایک حرف بھی ادا نہیں کیا۔ البتہ درجنوں بار دہرایا ہؤا یہ دعوی ایک بار پھر بیان کردیا کہ ایران کو تباہ کیا جاچکا ہے اور امریکہ اپنے اسٹریٹیجیکل اہداف حاصل کرنے کے بالکل قریب ہے۔ درحقیقت ان اہداف میں بنیاد ی نکتہ افزودہ ایرانی یورینیم کے بارے میں تھا اور دوسرا اہم سوال آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق تھا کہ ایران کو اس کام پر کیسے آمادہ یا مجبور کیا جائے۔ ٹرمپ کی تقریر میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔ انہوں نے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ جنگ بند ہوگی تو آبنائے ہرمز از خود کھل جائے گی۔ یہ بیان درحقیقت امریکی صدر کے اعتراف شکست کے مترادف ہے کہ امریکہ اپنی عظیم بحری طاقت کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔
صدر ٹرمپ اسے یوں بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اب وہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں ’دلچسپی‘ نہیں رکھتے کیوں کہ امریکہ کو تو اس بحری راستے کی ضرورت نہیں ہے۔ گزشتہ روز برطانیہ اور دیگر یورپین ملکوں سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا تھا کہ وہ یا تو امریکہ سے تیل خریدیں یا پھر خود جاکر آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرلیں۔ اسے امریکی حکومت کسی بھی رنگ میں پیش کرنے پر قادر ہے لیکن عملی طور سے یہ امریکہ کا اعتراف ہے کہ اس کے پاس آبنائے ہرمز کھلوانے کا کوئی موزوں راستہ نہیں ہے۔ اسی طرح صدر اپنی تقریر میں ایران کو فراہم کیے گئے پندرہ نکات اور ان میں درج ی افزودہ یورینیم کی بازیابی و تحویل کے سوال پر بھی کوئی بات کرنے میں ناکام رہے۔ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک ان 15 نکات کی تفصیل بیان نہیں کی ہے لیکن میڈیا پر ان کے بارے میں متعدد معلومات سامنے آچکی ہیں۔ ان میں یورینیم سے دست بردار ہونے کے علاوہ ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور پراکسی گروہوں سے لاتعلقی اختیار کرنے کا وعدہ مانگا گیا ہے۔ اب ٹرمپ نے یہ مطالبہ بھی نہیں دہرایا۔
بظاہر اس وقت ایران کے خلاف امریکی جنگ صرف دو وجوہات کی وجہ سے جاری ہے۔ ایک ، اسرائیلی وزیر اعظم مسلسل دباؤ کہ ابھی جنگ بند نہ کی جائے۔ دوسری طرف یہ مشکل ہے کہ ایران مستقبل میں کسی بھی قسم کی جارحیت سے تحفظ کی ضمانت ملے بغیر جنگ بند کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ بین السطور محسوس کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے پاس متحدہ عرب امارات اور دیگر چھوٹی خلیجی ریاستوں کے اندیشے ختم کرنے کا بھی کوئی حل موجود نہیں ہے۔ ان ریاستوں کو ایران کے خلاف امریکی جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اور متعدد خلیجی حکمران محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ رجیم کے ساتھ تباہ حال ایران بھی ان کے لیے شدید خطرہ ہوگا اور انہیں مستقبل قریب میں اپنی امریکہ نواز پالیسیوں کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اس کا دوسرا راستہ ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے نکالا جاسکتا ہے لیکن یو اے ای کے حکمران اس آپشن کے لیے آمادہ نہیں ہیں یا امریکہ کا خوف انہیں کھلے دل و دماغ سے سوچنے کا موقع نہیں دیتا۔
خلیجی ریاستوں کے برعکس سعودی عرب جنگ بندی کا حامی دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد میں ترکیہ، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ کی شرکت سے بھی اس کا عندیہ ملتا ہے۔ اگرچہ ریاض سے کوئی واضح اور دوٹوک بیان سامنے نہیں آیا لیکن جیسے صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے بارے میں ہتک آمیز گفتگو کی ہے، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی حکومت امریکی حملے اور اس سے حاصل ہونے والے اہداف سے متفق نہیں ہے اور اس نے امریکہ تک اپنی یہ رائے پہنچا دی ہے۔ حالات کے بہاؤ سے تشکیل پانے والا یہ تاثر ان اخباری رپورٹوں کے برعکس ہے جن میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ولی عہد محمد بن سلمان صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے پر آمادہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ سعودی حکومت کی طرف سے اب ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اب اپنی حفاظت کے لیے امریکہ پر پورا بھروسہ نہیں کرتا۔ اس کا اولین اظہار گزشتہ سال کے دوران پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرکے کیا گیا تھا۔ اب ایرانی میزائل و ڈرون حملوں کے درمیان یوکرین کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ دیگر عرب ممالک ایسے اشارے دینے میں ناکام ہیں جس کی وجہ سے جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی تصویر مبہم اور پیچیدہ ہے۔
اس دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ صرف ان جہازوں کو روکا جارہا ہے جن کا تعلق جارحیت کرنے والے ممالک سے ہے۔ دریں اثنا پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تیز کی ہیں۔ اسحاق ڈار ایرانی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کے بعد وطن لوٹ آئے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد چین بھی امن کی کوششیں کرنے والے ملکوں میں نمایاں طور سے شامل ہوگیا ہے۔ دونوں ملکوں کی طرف سے امن کے لیے جو پانچ نکات سامنے آئے ہیں ان میں جارحیت کے فوری خاتمے کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمد و رفت کی اجازت ہونی چاہئے۔ یہ مطالبہ اس ایرانی مؤقف سے مختلف ہے جس میں اس بحری گزرگاہ سے گرزرنے والے جہازوں کو محصول دینے کا پابند کرنے کی خواہش کی جارہی ہے۔
بصد کوشش صدر ٹرمپ کی تقریر سے اگر کوئی مثبت پہلو تلاش کیا جائے تو وہ یہی ہے کہ امریکہ اب تک جنگ بندی کا خواہش مند ہے اور ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ اگر ایرانی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ کیے بغیر جنگ سے دست بردار ہوجاتا ہے تو اس سے ایران کو جلد یا بدیر کسی نئی جنگ کا سامنا ہوگا۔ اسرائیل کے حملے جاری رہ سکتے ہیں اور علاقے کے کچھ ممالک ااس جنگ میں کود سکتے ہیں جس سے صورت حال غیر معمولی طور سے سنگین ہوسکتی ہے۔ ایران کے مفاد میں یہی ہوگا کہ امریکہ کسی باضابطہ معاہدے کے تحت جنگ بندی پر آمادہ ہو تاکہ اسے دوبارہ حملوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ٹرمپ کے لیے جنگ بندی معاہدہ شاید امریکہ کی مکمل فتح کا اعلان کرنے کے لیے ضروری ہے۔ کیوں کہ یک طرفہ طور سے جنگ بند کرنے کی صورت میں ٹرمپ کامیابی کے دعوے تو کرسکتے ہیں لیکن ان پر اعتبار نہیں کیاجائے گا۔ اس کے برعکس جنگ بندی کے لیے اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوجائے جس میں ایران کچھ مراعات دے تو امریکی حکومت اسے اپنی کامیابی کی دلیل کے طور پر پیش کرے گی۔
بالواسطہ طور سے جنگ بندی کی بات چیت تو چل رہی ہے لیکن صدر ٹرمپ ایران کی طرف سے غیر مشروط شکست تسلیم کرنے کے خواہاں ہیں ۔ یا وہ چاہتے ہیں کہ جنگ بندی معاہدے میں امریکہ کے بنیادی مطالبے مانے جائیں۔ ایران اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے علاوہ بنیادی طور پر اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ اس پر مستقبل میں پھر سے جنگ نافذ نہیں کی جائے گی۔ اسی لیے شاید اب چین کو اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔ البتہ چین نہ تو امریکہ کو ایسی ضمانت دینےکرنے پر مجبور کرسکتا ہے اور نہ ہی خود ایسی کوئی گارنٹی دینے کا خواہاں ہے جس میں اسے مستقبل کی کسی جنگ میں فریق بننا پڑے۔ یہ اقدام چین کی جنگ نہ کرنے کی حکمت عملی سے متصادم ہوگا۔ تاہم امن کی کوششوں میں چین کے شامل ہونے سے صدر ٹرمپ پر دباؤ میں اضافہ ہوگا اور وہ جنگ بندی کے لیے کسی متوازن معاہدے پر متفق ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ کی تقریر سے پہلے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران ، امریکہ کا دشمن ہے اور نہ ہی اس کے لیے خطرہ ہے۔ ایران نے کبھی جارحیت میں پہل نہیں کی۔ وہ اب بھی جنگ نہیں چاہتا لیکن حملے کی صورت میں اپنا دفاع کررہا ہے۔ ایرانی صدر نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ خود دیکھیں کہ اس جنگ سے انہیں کیا فائدہ ہؤا یا کون سے امریکی مفادات پورے ہورہے ہیں؟ مسعود پزشکیان کا یہ خط ایران کی طرف سے امن کی خواہش کا اظہار ہے تاہم واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری اور وقار پر سودے بازی نہیں کرے گا۔