کویت اور امارات پر ایران کے مزید حملے
ایران کے ڈرون حملوں کے بعد کویت کی ایک اہم منا الاحمدی آئل ریفائنری کے بعض حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم اس حملے میں انتظامیہ کی جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
منا الاحمدی ریفائنری مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک ہے۔ یہاں روزانہ تقریباً تین لاکھ 46 ہزار بیرل تک تیل صاف کرنے یا ریفائن کرنے کی صلاحیت ہے۔ کویت میں تین بڑی آئل ریفائنریاں ہیں۔ پانچ ہفتوں پر مشتمل تنازع کے دوران منا الاحمدی ریفائنری کو اس سے پہلے بھی دو بار ایرانی ڈرونز نے نشانہ بنایا تھا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ڈرون حملوں کے نتیجے میں اس ریفائنری کے کئی آپریشنل یونٹس میں آگ لگ گئی۔‘ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں ریفائنری کے کسی بھی کارکُن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ہنگامی کارروائیاں جاری ہیں اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مُلک کو میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے نئے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔
وزارت نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ مُلک کا فضائی دفاعی نظام میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے اور انہیں تباہ کرنے میں مصروف ہے۔ امارات کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں سنائی دینے والی آوازیں انہی حملوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے ایک اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف 35 جنگی طیارہ وسطی ایران کی فضاؤں میں نشانہ بنائے جانے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس جنگی طیارے کو پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے پر حملے کے وقت اور گرنے کے دوران شدید دھماکے کے باعث اس بات کا امکان کم ہے کہ پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی قیادت کی جانب سے تاحال اس خبر پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کل ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں قشم جزیرے کے قریب ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا کہا گیا تھا۔
اس سے تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایک ایف 35 جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ ایک امریکی ایف 35 جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد ایران کے اوپر پرواز کے دوران کسی مسئلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے ایک اڈے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔