ادب کو رہا کرو

چلیں جی سیاست اور سماجیات پر تو لکھتے ہی رہتے ہیں، آج کچھ ادب کی بات کر لیتے ہیں ۔اب کچھ لوگ کہیں گے ارے بھئی ادب تو خود سیاست کا گڑھ بنا ہوا ہے ۔سیاست تو ویسے ہی بدنام ہے کہ اُس پر چند خاندانوں نے قبضہ جمایا ہوا ہے یا مخصوص چہرے ہیں جو ہر حلقے سے سامنے آ جاتے ہیں۔ نئے لوگ، نیا ٹیلنٹ تو سامنے آنے ہی نہیں دیتے ۔ 

تو جناب یہ فرمائیں، ادب میں کون سے نئے لوگ سامنے آتے ہیں یا آنے دیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی قدم قدم پر قبضے ہیں اور ناکے لگے ہوئے ہیں۔ اس وقت کراچی میں ہر سال ہونے والے ساکنانِ شہر قائد عالمی مشاعرے پر اِس لئے لے دے ہو رہی ہے کہ مشاعرے کی صدارت کسی کراچی سے تعلق رکھنے والے شاعر سے کیوں نہیں کرائی گئی کیوں افتخار عارف کو اسلام آباد سے بُلا کر صدارت دی گئی۔پھر یہ لے دے بھی ہو رہی ہے کہ کراچی کے سینئر ترین پروفیسر سحر انصاری کو مشاعرے میں نہیں بلایا گیا اور ذرائع کے مطابق اُن کا نام کٹوا دیا گیا۔

دوسری طرف ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا ہے کہ کسی بھی شاعریا شاعرہ کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ وہ اس ساکنانِ شہر کراچی مشاعرے کے سرپرست اعلیٰ بھی تھے۔ گویا فیصلوں میں انہیں بھی نظر انداز کیا گیا۔اس مشاعرے کے مہمانِ خصوصی گورنر سندھ نہال ہاشمی تھے۔ وہ شاعروں سے گھل مل جانے کی بجائے غیر مشاعروں، منتظمین اور کاروباری شخصیات میں گھرے رہے۔اب کچھ شاعر یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ اس مشاعرے میں پڑھوانے کے لئے منتظم مشاعرہ پیسے مانگتے ہیں یعنی شاعروں کے لئے لینے کے دینے پڑ چکے ہیں۔میں نے ساکنانِ شہر قائد مشاعرے کے شعرا  پر نظر ڈالی تو یکدم میرے ذہن میں سوال اُبھرا کہ کئی برسوں سے وہی شاعر بار بار بُلا کر ساکنانِ کراچی کے صبر کا کیوں امتحان لیا جا رہا ہے۔ نئے شاعروں یا اُن شاعروں کو جن کا اپنے شہروں میں بہت نام ہے اور شاعری بھی وہ کمال کی کرتے ہیں،انہیں کیوں نہیں بلایا جاتا ۔ اس لئے کہ اُن کی کوئی لابی نہیں یا اُنہیں برسوں سے ادب پر قبضہ کرنے والوں نے آگے نہیں آنے دیا۔

اس ساکنانِ شہر کراچی کے مشاعرے کی نسبت ایک اور پوسٹ نے بھی بڑی دھوم مچائی۔پوسٹ یہ تھی کہ افتخار عارف کراچی سے بذریہ جہاز کراچی گئے جبکہ فیصل آباد کے مشہور اور کہنہ مشق شاعر نصرت صدیقی کو جو اپنی بلند پایہ شاعری کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں،بدقسمتی سے اُن کی کوئی لابی یا گروپ نہیں، نہ ہی انہیں ادب کے نام پر سیاست کرنی آتی ہے، انہیں ٹرین کا ٹکٹ دیا گیا۔اب ذرا سوچئے کہ اس پیرانہ سالی میں وہ فیصل آباد سے کراچی بذریعہ ٹرین کم از کم 18 گھنٹوں میں پہنچے ہوں،اُن کی کیا حالت ہوئی ہو گی۔ ایسے مشاعروں کے منتظمین کیسے یہ امتیازی فہرست بنا لیتے ہیں۔ شاعر تو شاعر ہوتا ہے، وہ چاہے افتخار عارف ہوں یا نصرت صدیقی، اُسے تمیز بندہ و آقا کے خانوں میں کیسے ڈالا جا سکتا ہے۔کسی نے بہت سچ کہا ہے اس وقت ادب بھی ایک بڑا بزنس بن چکا ہے۔ ادب کے سرکاری ادارے ہوں یا عام تنظیمیں،وہ صرف مال بنانا چاہتی ہیں۔فروغِ ادب اُن کا مقصد نہیں ہوتا۔ وہ پرانا چورن نئی پیکنگ میں بیچتی ہیں مگر نئی سوچ، نئی فکر اور نئے زمانے کی شاعری اور ادب کو آگے نہیں آنے دیتیں۔

خیر یہ تو کراچی کااحوال ہے جہاں کراچی آرٹس کونسل میں ہونے والی عالمی اردو کانفرنس ہو یا ساکنانِ شہر کراچی جیسے مشاعرے،اُن کے لئے کروڑوں روپے کی گرانٹس حاصل کی جاتی ہیں۔ جیسے احمد شاہ کے پاس یہ تیز بہدف نسخہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک سے خوشحال شاعروں اور شاعرات کو بُلا کر جو اپنے خرچ پر آتے ہیں، تقریبات کو عالمی رنگ دیتے ہیں اور اسی رنگ میں اُن کے سب معاملات چھپ جاتے ہیں۔ اسی طرح لاہور میں بھی ادب کے نام پر بہت سے تماشے ہوتے ہیںمگر حرام ہے کوئی نیا شاعر، کوئی نیا ادیب سامنے آتا یا آنے دیا جاتا ہو۔ مخصوص گروپ بنے ہوئے ہیں،اُن کے مخصوص شاعر ہیں وہی کبھی ایک طرف اور کبھی وکٹ کے دوسری کی طرف کھیلتے نظر آتے ہیں۔ لیبل کل پاکستان یا کل پنجاب مشاعرے کا ہوتا ہے لیکن چند ناموں کے سوا پورے پاکستان یا پنجاب سے کسی شاعر کو بلایا ہی نہیں گیا۔

 جہاں منتظمین کی نااہلیت پر سوال اٹھتا ہے وہاں ہر مشاعرے میں سفارشیں کرا کے یا لابی کے ذریعے شامل  ہونے والے شاعروں کو بھی شرم نہیں آتی کہ وہ سٹیج آرٹسٹوں کی طرح ہر مشاعرے میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنی ایک دو مقبول غزلیں سنا کے لفافہ پکڑتے اور غائب ہو جاتے ہیں۔ارے جب تمہارے پاس نیا کہنے کو کچھ نہیں، تو تھوڑا وقفہ لو گھر بیٹھو، کچھ نیا تخلیق کرو اور اس دوران اُن شاعروں کو آگے آنے دو جو اچھی شاعری کر رہے ہیں۔ لیکن گروپ بندی کی وجہ سے انہیں آگے نہیں آنے دیا جاتا۔یہ  لہر صرف لاہور، کراچی تک محدود نہیں۔ اب ایک اور برائی بھی در آئی ہے ادب کے ان مسلط ٹھیکیداروں نے بین الصوبائی اور بین الاضلاعی گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ ڈویژن اور ضلع کی سطح پر جو افسر تعینات ہوتے ہیں انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا،اُن کے زیر نگرانی علاقے میں کون اچھا شاعر ہے اور کون سینئر ہے۔ہر شہر میں ایک ادیبوں کا ایک کاریگر گروپ ہوتا ہے جو ایسے افسروں کوگھیرا ڈال کے قابو کر لیتا ہے چونکہ حکومت کی طرف سے یہ ہدایت بھی ہوتی ہے کہ اپنے اضلاع اور ڈویژن میں ادبی و ثقافتی سرگرمیاں منعقد کریں ۔اسی لئے وہ ایسے ”کاریگروں“ کے محتاج ہو جاتے ہیں،ایسے کاریگر ملتان میں بھی موجود ہیں اور انہوں نے حقیقی شاعروں ادیبوں کا حق مارا ہے۔پھر یہ کاریگر اپنے گروپ کے بندوں کو دوسرے اضلاع سے بلاتے ہیں،انہیں بھاری معاوضہ دلواتے ہیں،بدلے میں وہ انہیں بُلا لیتے ہیں اور یوں یہ گروپ بندی حقیقی اہل قلم کا نہ صرف راستہ روکتی ہے بلکہ اُن کی دلآزاری کا باعث بھی بنتی ہے۔

فروغِ ادب کے قومی ادارے بھی اِن قبضہ گروپوں سے محفوظ نہیں،اس کی وجہ اُن اداروں میں تعینات افسر ہیں،جو اِس بات سے گھبرا جاتے ہیں کہ اِن بڑے نام والے ادیبوں،شاعروں نے ہمارے خلاف کچھ کہہ دیا تو ہماری نوکری چلی جائے گی۔ حالانکہ وفاقی و صوبائی سطح پر قائم اِن اداروں کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ ملک بھر میں موجود ایسے ادیبوں،شاعروں کو سامنے لائیں،جو بہت اچھا ادب تخلیق کر  رہے ہیں لیکن جن کی آواز کو ابھرنے نہیں دیا جاتا جو بھی کانفرنس یا مشاعرہ ان بڑے اداروں کے زیر انتظام ہوتا ہے،اُس میں تین چار بڑے شہروں کی نمائندگی ہوتی ہے اُور اُن میں بھی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس سال سے ہر جگہ براجمان نظر آتے ہیں۔

پچیس کروڑ آبادی کے ملک میں 125 ادب شاعر اپنی گٹھڑیاں اٹھائے ہر جگہ نظر آئیں گے۔ کیا بس اتنا سا ادب ہمارے ہاں تخلیق ہو رہا ہے،نہیں صاحب لکھنے والے ہزاروں ہیں اور کمال لکھ رہے ہیں۔ بس ایک ادبی مافیا انہیں آگے نہیں آنے دیتا ہے۔کوئی ہے جو اس ناجائز قبضے سے پاکستان کے ادیبوں اور شاعروں کو رہائی دلائی۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)