پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور سیاسی کھینچا تانی
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 03 / اپریل / 2026
ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دے کراس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جبکہ اپوزیشن پارٹیاں اسے حکومت کی نااہلی اور ناکام معاشی پالیسی کا ثبوت قرار دیتی ہیں۔ تحریک انصاف نے اب اس سوال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ روز ہونے والے اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184.49 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح پیٹرول کی قیمت ساڑھے چار سو روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی سو اپانچ سو روپے لیٹر سے بڑھ گئی ہے۔ اس اضافہ پر ملک بھر میں شدید مایوسی اور پریشانی کا عالم ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔ ایران جنگ جاری رہنے اور آبنائے ہرمز کا تنازعہ حل نہ ہونے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا جبکہ اس کی رسد بھی مسائل کا شکار ہوگی۔ یوں رسد اور طلب میں بڑھتے ہوئے عدام توازن کی وجہ سے دنیا بھر میں عام صارفین کو یہ مصنوعات مہنگی دستیاب ہوں گی۔
اس حد تک حکومت پاکستان بے قصور ہے ۔ ملک میں تیل کی پیدا وار بے حد محدود ہے اور اس کی عالمی قیمتوں پر پاکستان کا کنٹرول نہیں ہے۔ فروری کے آخر میں ایران پر حملے سے پہلے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت 77 امریکی ڈالر فی بیرل تھی لیکن اس وقت یہ قیمت 111 ڈالر فی بیرل ہے۔ شروع میں حکومت نے اس امید پر کہ جنگ جلد بند ہوجائے گی، قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں کیا تھا۔ مارچ کے شروع میں پیٹرول اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ملک میں چار ہفتے کا اسٹاک موجود ہے ، اس لیے یہ مشکل وقت کسی بڑی پریشانی کے بغیر ٹل جائے گا۔ تاہم اس وقت یہ اندازہ نہیں کیا گیا تھا کہ جنگ طویل اور تباہ کن ہوسکتی ہے اور جنگ بندی ہر آنے والے دن کے ساتھ مشکل دکھائی دینے لگے گی۔ گزشتہ روز ہونے والا اضافہ حکومت کی طرف سے اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بین الاقوامی قیمتوں اور سپلائی کی صورت حال پر اس کا کنٹرول نہیں ہے۔
ہر سال دنیا میں تیل کی سپلائی کا بیس فیصد آبنائے ہرمز کے راستے اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ یہ تیل عام طور سے پاکستان سمیت بیشتر ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ عرب ممالک میں پیدا ہونے والا تیل زیادہ تر آبنائے ہرمز کے راستے ہی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ ایران جنگ کی وجہ سے ایک طرف آبنائے ہرمز بند ہے اور تیل کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہورہا ہے تو دوسری طرف کمیابی کی وجہ سے تیل کی سپاٹ قیمت ہر دن کے حساب سے تبدیل ہورہی ہے۔ ایسے میں ہرملک صرف اس اسٹاک کی حد تک ہی یقین سے کچھ کہہ سکتا ہے جو اس کے اپنے سٹوریج میں موجود ہو۔ پاکستان میں ناقص انفرااسٹرکچر اور کم مالی وسائل کی وجہ سے حکومت چاہنے کے باوجود ملکی ضروریات کے مطابق تیل وافر مقدار میں اسٹور نہیں کرسکتی۔ چین جیسا بڑا ملک تیل کی بڑی مقدار ذخیرہ کرتا ہے لیکن سپلائی لائن بند ہونے کی صورت میں یہ ذخیرہ دو سے تین ماہ میں ختم ہوسکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف اس صنف کی مہنگی فراہمی تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ اس اضافہ سے بیشتر ضروریات زندگی مہنگی ہوجاتی ہیں اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ پاکستان ایندھن کی فراہمی کے لیے بھی درآمد شدہ گیس پر انحصار کرتا ہے لہذا گیس کی قیمتوں میں اضافہ تیل سے پیدا ہونے والی مہنگائی کے علاوہ ہوگا۔ ملک کے بیشتر لوگوں کو پرانی آمدنی اور وسائل پر اس ناگہانی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس لیے قیمتوں میں اضافے سے بے چینی اور تشویش پیدا ہونا قابل فہم ہے۔ البتہ اس معاملہ کو سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ یہ ایسے معاملات ہیں جن کا کسی حکومتی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ابھی تو تیل کی قیمتوں پر شور برپا ہے لیکن آبنائے ہرمز بند رہنے سے متعدد اشیائے صرف کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ان میں خاص طور سے کھاد اور دیگر زرعی و صنعتی مصنوعات شامل ہیں۔ جنگ میں طوالت پاکستان اور دیگر ملکوں کی معاشی مشکلات میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ کرے گی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کرنے والے عام طور سے دو پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ ایران پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس لیے سوال کیا جاتا ہے کہ پھر پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا کیا جواز ہے؟ دوسرا اعتراض تیل و ڈیزل پر عائد سرکاری محصول کے بارے میں کیاجاتا ہے، جس کی وجہ سے اصل قیمت صارفین تک پہنچنے تک دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ معترضین کا خیال ہے کہ اگر تیل مہنگا ہوگیا تو حکومت ان مصنوعات پر محصول لینا بند کردے تاکہ عام لوگوں کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ اس بیانیے کے مطابق حکومت جو محصول وصول کرتی ہے ،وہ عام طور سے سرکاری عیاشیوں پر صرف ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں بند ہونا چاہئے۔
حالانکہ ایسا مؤقف حقیقت حال سے میل نہیں کھاتا۔ دنیا بھر کی حکومتیں تیل کی مصنوعات پر محاصل عائد کرتی ہیں تاکہ سرکاری اخراجات اور بہبود کے کام مکمل کیے جاسکیں۔ کچھ امیر ملکوں نے ضرور تازہ بحران میں ان محاصل میں ریلیف دیا ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں یہ رعایت دینا آسان نہیں۔ ایک تو آئی ایم ایف اس کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسرے حکومتی اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت کو مزید قرضے لینا پڑیں گے۔ جو ایک ناقابل عمل پالیسی ہوگی۔ پاکستان میں فی کس آمدنی ٹیکس کی شرح بہت کم ہے اور عام طور سے شہری انکم ٹیکس دینے سے گریز کرتے ہیں۔ حکومت کو اسی لیے متبادل محاصل پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ناروے ایک امیر ملک ہے اور خود تیل پیدا کرتا ہے لیکن یہاں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مارکیٹ کے حساب سے ہی طے ہوتی ہیں۔ حکومت اپوزیشن کے اصرار پر بھی تیل مصنوعات پر محصول کم کرنے پر راضی نہیں تھی تاہم پارلیمنٹ میں حکومت کی ایک حلیف پارٹی کے تعاون سے محصول کم کرنے کی ایک تجویز منظور کی گئی جس کے بعد حکومت کو مجبوراً تیل کی قیمت میں 4 اور ڈیزل کی قیمت میں 3 کرونر کمی کرنا پڑی۔ لیکن عام طور سے ان محاصل کو قومی آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ان اضافی محاصل میں کسٹمز، ٹرانسپورٹ اور منافع وغیرہ شامل ہوتا ہے۔ اس لیے جو لوگ پاکستان میں لوگوں کو تیل کی فی بیرل قیمت پاکستانی روپوں میں بدل کر حکومت کی ’لوٹ مار‘ کے بارے میں ’آگاہی‘ دینا چاہتے ہیں، وہ صریحاً پروپیگنڈا ہے اور اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اسی طرح پاکستانی جھنڈے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے بارے میں بھی یہ غلط فہمی عام کی گئی ہے کہ یہ سب آئل ٹینکرز تھے اور سیدھے پاکستان آرہے تھے۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ یہ ٹینکرز تیل کے علاوہ مختلف مصنوعات لے کر مختلف ممالک کی طرف جارہے تھے۔ پاکستانی جھنڈے کے ساتھ گزرنے کی اجازت دے کر ایرانی حکومت نے جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کے ساتھ رضامندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حکومت کو اپنے عوام کو اس بارے میں حقیقی تصویر دکھانا چاہئے تھی۔
بدقسمتی سے وزیر اعظم ، وزرا اور سرکاری ترجمانوں کے بیانات عام طور سے سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان میں حکومتی کوششوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور عوام کو حقیقی صورت حال کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ایران جنگ پاکستان کے لیے عمومی معاشی چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس سے ملک میں افراط زر میں اضافہ ہوگا اور اشیائے صرف کی قلت کی وجہ سے مصنوعات نایاب بھی ہوسکتی ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو قومی حکمت عملی بنانے اور عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی۔ اس کا آغاز سرکاری سطح پر بچت اسکیموں سے کیا جاسکتا تھا۔ لیکن پاکستان میں سرکاری عہدیداروں کی نقل و حرکت یا سہولتیں استعمال کرنے کے طرز عمل میں کوئی قابل ذکر تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بچت کے اعلانات بھی نمائشی اور نعروں کی حد تک ہوتے ہیں۔ یہ حکومتی رویہ انتظامی نااہلی اور سیاسی بے اعتدالی کہلائے گا۔
موجودہ معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لیے حکومت کو عوام سے رابطہ کاری مہم تیز کرنی چاہئے، معلومات عام ہونی چاہئیں اور اسلام آباد و صوبائی دارالحکومتوں میں حکومتی و سرکاری اہلکاروں کے طرز زندگی میں نمایاں فرق دکھائی دینا چاہئے۔ تب ہی حکومت اعتماد کے ساتھ عوام سے ایک جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مشکل حالات میں یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرسکتی ہے۔ اگر نعروں سے کام چلا کر عوام کو مسلسل اندھیرے میں رکھا جائے گا تو ان مشکل دنوں میں انہیں گمراہ کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔