ہم نے کبھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا: عباس عراقچی

  • ہفتہ 04 / اپریل / 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری  ایک بیان میں کہا  ہے کہ ’ہم پاکستان کی کوششوں کے لیے دل سے شکر گزار ہیں اور ہم نے کبھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے اہم بات اس غیر قانونی جنگ کے نتیجہ خیز اور دیرپا خاتمے کی شرائط ہیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم آپ کی جانب سے دی جانے والی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروانے کی کوشش جاری ہے اور پاکستان کے اس اہم معاملے پر بطور ثالث کے سامنے آنے پر خطے میں خاصی بحث جاری ہے۔

 وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب مبینہ حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ہے کہ تابکاری کا اخراج تہران ہی نہیں بلکہ خلیجی تعاون کونسل کے دارالحکومتوں میں بھی زندگی کا خاتمہ کر دے گا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’یوکرین میں زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کے قریب جھڑپوں پر مغرب کے غم و غصے کو یاد کریں؟ اسرائیل اور امریکہ ہماری بوشہر تنصیب پر اب تک چار بار بمباری کر چکے ہیں۔

دوسری طرف ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کے گورنر کے نائب سکیورٹی انچارج نے کہا ہے کہ آج ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔ ولی‌اللہ حیاتى کا کہنا ہے کہ بندر امام پیٹروکیمیکل کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے دونوں مقامات پر حملوں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ ایرانی ذرائع نے حیاتى کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک ان حملوں کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دونوں تنصیبات ایران کی پیٹروکیمیکل صنعت کا اہم حصہ ہیں، جہاں تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ ملک کے جنوب میں واقع یہ مراکز پیٹروکیمیکل پیداوار کے اہم مرکز ہیں اور خلیج فارس کے ذریعے برآمدات بھی کرتے ہیں۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اس صورتحال پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘ واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انہوں نے جمعے کو تہران میں ’دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کے خلاف حملوں کی ایک لہر‘ مکمل کر لی ہے۔