بھٹو: سامراج کے لیے دردِ سر

ذوالفقار علی بھٹو ایک بے عیب فرشتہ نہیں تھے مگر وہ ایک انتہائی ذہین، تجزیاتی اور عوام کی نبض کو جاننے والے غیر معمولی سیاستدان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن سے نہ صرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بلکہ عالمی طاقتیں بھی خوف زدہ تھیں۔ اُن کی 47ویں برسی کے وقت اُن کے سیاسی وژن کو تاریخ اور آج کے عالمی حالات کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ میں 1977 اہم ترین برسوں میں ایک تھا۔ اُس برس بھٹو کی حکومت کے خلاف 9 سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک غیر فطری اتحاد، ”پاکستان قومی اتحاد“ کے نام سے تشکیل دیا گیا۔ اس اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں سے لے کر بائیں بازو والی جمہوریت کی بات کرنے والی جماعتوں تک، سب شامل تھیں۔ تاہم اس اتحاد کی شناخت تشدد بھری سرگرمیوں والے دائیں بازو کے رجحان والے اتحاد کی بنی۔ شروع میں تو اس اتحاد نے انتخابی دھاندلی کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے نئے انتخابات کا نعرہ بلند کیا مگر جلد ہی یہ نعرہ نظامِ مصطفی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ تاثر عام تھا کہ بھٹو حکومت کے خلاف مظاہروں کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب ایک مظاہرہ لاہور میں امریکی قونسل خانہ کے سامنے سے گزر رہا تھا تو قونسل خانہ کی عمارت کی چھت سے مظاہرین پر گلاب کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

بہرحال بھٹو کے ایک بااعتماد اور قریبی ساتھی ڈاکٹر مبشر حسن کی کوششوں سے حکومت اور قومی اتحاد کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا گیا۔ بھٹو نے اس معاہدے پر 5 جولائی 1977 کو دستخط کرنا تھے مگر اس کا کبھی بھی موقع نہ مل سکا۔ کیونکہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی رات کے اندھیرے میں اُس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے اپنے ساتھیوں میجر جنرل کے ایم عارف، میجر جنرل ریاض خان اور لیفٹیننٹ جنرل فیض چشتی کے ساتھ مل کر بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لا لگا دیا۔

بعض لوگ بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنہوں نے سنیارٹی پرنسپلز کو نظر انداز کرکے جنرل ضیا  کو فوج کے سربراہ کے عہدے پر تعینات کرکے ایک بہت سنگین غلطی کرتے ہوئے اپنی حکومت کے لیے خطرہ کھڑا کر دیا تھا۔ مگر سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ بھٹو کسی کو بھی فوج کا سربراہ بنا دیتے، ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ فرد سے فرق نہیں پڑتا بلکہ ادارے سے فرق پڑتا ہے۔ یہی سمجھنے میں بھٹو سے غلطی ہو گئی۔

بھٹو کے خاتمہ کے سلسلے میں ایٹم بم کا ذکر اکثر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے معروف صحافی حامد میر متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ بھٹو پاکستان کو ایک ایٹمی قوت بنانے کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے اُن کی حکومت کا خاتمہ امریکہ نے کروا دیا تھا۔ گویا تیسری دُنیا کے ممالک میں مداخلت کرکے اپنی پسند کا نظام لانا امریکہ کا پرانا اور پختہ شوق ہے۔ ویسے تو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اقدامات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر یہ انصاف پسند عالمی اُصولوں پر ہونے چاہئیں تاکہ کسی قوم کو دوسری قوم پر برتری حاصل نہ ہو۔ جب چند مخصوص ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں اور دیگر ممالک کے لیے یہ ممنوع قرار دیئے جائیں تو لوگوں میں فطری طور پر بے چینی ہوگی۔ ویسے بھی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ امریکہ ایسا واحد ملک ہے جس نے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے لہٰذا امریکہ کے ایٹمی اثاثے یا تو بین الاقوامی اداروں کی تحویل میں ہونے چاہئیں یا اُنہیں ضائع کر دینا چاہیے۔

بہرحال بھٹو کا خاتمہ محض ایٹم بم کے ساتھ جوڑنا اُن کی سیاسی بصیرت کے تنوع سے ناواقفیت کے برابر ہوگا۔ اُن کے متعدد اقدامات امریکی سامراج کے مفادات کے لیے ٹھیک نہیں تھے۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے معاشی عدم مساوات کو کم کرنے اور سرمایہ دار خاندانوں کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے سوشلزم سے متاثر معیشت کو متعارف کرواتے ہوئے بڑی صنعتیں، بینک اور تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کرکے امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو مسترد کیا۔ صنعتوں کو قومی تحویل میں لیے جانے والے اقدامات نے نہ صرف پاکستان کے سرمایہ داروں کو بھٹو کا دُشمن بنا دیا بلکہ امریکہ کو بھی ناخوش کیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے سوشلزم کا نام لیا ہے یا انڈسٹری کو نیشنلائز کیا ہے سامراج کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر 1950 کی دہائی کے اوائل میں جب ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم محمد مصدق نے تیل کے شعبہ کو نیشنلائزکیا تو برطانوی انٹیلی جنس اور امریکی انٹیلی جنس نے مل کر ایران کی حکومت کے خلاف بغاوت کو منظم کرکے حکومت کا تختہ اُلٹ کر محمد رضا پہلوی کو اقتدار پر بٹھا دیا۔ سنہ 1959 میں انقلاب کے ذریعے فیڈل کاسترو نے کیوبا کی حکومت سنبھال کر ملک کو سوشلسٹ ریاست بنا کر صنعتیں، بینک اور توانائی کے وسائل کو نیشنلائز کر دیا۔ تب سے کیوبا امریکی سامراج کی نفرت کے نشانے پر ہے۔ اس نفرت کو ٹرمپ کے دور میں نئی توانائی ملی ہے۔

اسی طرح 1970 کی دہائی کے اوئل میں جب چلی کے سوشلسٹ راہنما سالواڈور آلندے عام انتخابات جیت کر لاطینی امریکہ میں منتخب ہو نے والے پہلے مارکسسٹ کے طور پر سامنے آئے تو اُن کی حکومت نے تانبے کی کانوں اور مالی اداروں کو نیشنلائز کیا۔ امریکی سامراج کو پھر تکلیف ہوئی اور 11 ستمبر 1973 کو چلی کی فوج نے امریکہ کی حمایت سے چلی کی حکومت کے خلاف خونی بغاوت کی جس میں صدر آلندے کو قتل کر دیا گیا۔ سنہ2000 میں امریکہ کے تھنک ٹینک نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا کہ کس طرح امریکی صدر رچرڈ نکسن اور اُن کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر نے سی آئی اے کو چلی کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے کے لیے متحرک کیا۔

جب تیل و گیس کے وسیع ذخائر والے ملک وینزویلا میں 1999 میں ہیوگو شاویز نے اہم صنعتوں کو نیشنلائز کیا تو امریکہ کو بہت تکلیف ہوئی۔ اسی تکلیف کے تناظر میں وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی گئی اور آخرکار اس سال کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مادورو اور اُن کی اہلیہ کو اغوا کر کے امریکہ کی ایک جیل میں قید کر دیا۔ قانون کے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے مگر اقوام متحدہ امریکہ کی بدمعاشی کے آگے بے بس دکھائی دیتا ہے۔

جب اقوام متحدہ کی بات ہو رہی ہو تو بھٹو کا ذکر بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ اُنہوں نے کئی بار اقوام متحدہ کی لاچارگی کی نشاندہی کرتے ہوئے ویٹو کی روایت پر شدید تنقید کی اور سلامتی کونسل کو نااہل قرار دیا۔ اُنہوں نے متعدد بار جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ دنیا کے امن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ بھٹو دور کا ایک بہت اہم کام 1973 کا آئین مانا جاتا ہے۔ اس آئین میں کمزوریاں ہوسکتی ہیں اور اس پر بحث ہونی چاہیے مگر یہاں اس آئین کی تیاری اور منظوری کے طریقہ کار پر بات ہوگی۔ سنہ 1972 میں ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کافی مذاکرات ہوئے تاکہ سب کی رضامندی حاصل ہو سکے۔ پارلیمانی کمیٹی نے مختلف تجاویز پر غور کرنے کے بعد ایک متفقہ مسودہ تیار کیا۔ اُس وقت کی قومی اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں نے اس پر دستخط کرکے 10 اپریل 1973 کو متفقہ طور پر منظور کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس آئین کو متفقہ جمہوری کہا جاتا ہے۔

خلیجی ممالک کے موجودہ حالات کے تناظر میں لاہور والی اسلامی سربراہی کانفرنس کا ذکر فطری ہے۔ سنہ 1974 میں بھٹو نے تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو ایک جگہ اکٹھے کرکے اسلامی دنیا کی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری دُنیا کو حیران کردیا۔ یہ کانفرنس اس لحاظ سے خاص تھی کہ اس میں مسلم ممالک کے اقتصادی اور ثقافتی روابط کو مضبوط کرنے اور فلسطین کی آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے امریکہ نے دو مرتبہ اس کانفرنس کو منسوخ کروایا تھا۔ اس بار بھی امریکہ نے پاکستان کو کانفرنس ملتوی کرنے کا کہا، مگر بھٹو نے سعودی عرب کے شاہ فیصل اور لیبیا کے کرنل معمر قذافی کی حمایت اور مالی تعاون سے یہ کانفرنس منعقد کر کے اسلامی ممالک میں سیاسی بیداری پیدا کرکے امریکہ کو ناخوش کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کانفرنس کے اگلے سال یعنی 1975 میں امریکہ نے اقتصادی معاملات کو نمٹنے کے لیے جی سکس کی بنیاد رکھی۔ یاددہانی کے لیے یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے وقت جماعت اسلامی بھٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے”بنگلہ دیش نامنظور“ کے نعرے لگارہی تھی۔

بھٹو یہ جانتے تھے کہ ثقافتی شناخت سے ہم اپنی انفرادیت کو تشکیل دینے کے ساتھ معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے دنیا سے اپنا تعلق بہتر طریقے سے بنا سکتے ہیں۔ لہٰذا اُنہوں نے پاکستان کی پہلی کلچر پالیسی تشکیل دی۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ایک متحدہ پاکستانی ثقافتی شناخت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کی زبانوں، روایات، موسیقی اور فنون کو محفوظ اور فروغ دیناتھا۔ کئی اہم ثقافتی ادارے، جیسا کہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اور لوک ورثہ اسی پالیسی کا سلسلہ ہیں۔ بھٹو نے یہ پالیسی مرتب کرنے کے لیے عظیم شاعر اور دانشور فیض احمد فیض کی خدمات حاصل کی تھیں۔ فیض کو 1962 میں امن، ترقی اور انسان دوستی کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے پر لینن امن انعام ملا تھا۔ یہ انعام سوویت یونین کی طرف سے دیا جاتا تھا اور اسے مغرب کے نوبل امن انعام کے متبادل کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔ بھٹو نے جب شناخت کو فروغ دینے کے لیے ایک کمیونسٹ کو چنا تو امریکی سامراج کو تکلیف تو ہوئی ہو گی۔ جب آپ سامراج کو اتنی تکلیفیں دیں تو پھر آپ کو مرنا تو پڑے گا۔

ویسے تو بھٹو کو مارنے کی وجہ اُن کا نعرہ ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ ہی کافی تھا۔ معلوم نہیں سامراج نے نومبر 1967 سے لے کر اپریل 1979 تک کس طرح بھٹو کو برداشت کیا۔

(بشکریہ: روزنامہ جد  و جہد آن لائن)