جنگ جاری ہے
- تحریر شازار جیلانی
- ہفتہ 04 / اپریل / 2026
جنگ ختم ہوئی ہوتی اور ’امریکہ کو شکست‘ ہوئی ہوتی، جیسے ہماری سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے پریزنٹرز کی خواہش ہے، تو ٹرمپ ایرانی جرنیلوں کو مارنے کے باوجود اپنے جرنیلوں کو مستعفی ہونے پر مجبور نہ کرتا۔
اس نے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ میں آبنائے ہرمز کو اسی طرح (بند اور ایرانی ملکیت میں ) چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ تو ہم شادیانے بجا رہے ہیں کہ وہ بھاگ رہا ہے، ہار گیا ہے۔ اس نے آپ کو نہیں کہا کہ میں جا رہا ہوں۔ اس نے یورپ یعنی ناٹو اور عربوں کو احساس دلانے کے لئے کہا ہے، کہ دیکھ لینا! میں چلا جاؤں گا، پھر یورپ ہرمز سے اپنا تیل گزار نہیں سکے گا اور عرب اپنا تیل اس راستے سے بیچ نہیں سکے گا۔ وہ ایرانی ملاؤں سے نہیں ڈرتا۔ ٹرمپ ایرانی علم، سائنس اور نظریاتی فوج سے ڈرتا ہے۔ ایرانی ملاؤں کی بڑی پگڑیوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ وہ ایرانی فوج کے بڑے سروں کو کاٹ چکا ہے۔
حالات کا عرق ریزی سے تجزیہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے، کہ اس وقت ایران کا کنٹرول سول انتظامیہ کے پاس نہیں رہا۔ فوج سارے اہم فیصلے اور وسائل اپنے قبضے میں لے چکی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایران نے اس وقت کامیابی کے ساتھ پاکستانی ماڈل اپنایا ہوا ہے۔ ایرانی سول حکومت مذاکرات کرنے کے باوجود اس سے انکار کرتی رہتی ہے، اور ٹرمپ دونوں گروہوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھانے کی خاطر سب وہ کچھ کہتا رہتا ہے، جو دوران مذاکرات نہیں کہنا چاہیے۔
ایران جنگ ہار چکا ہے، وہ مذاکرات چاہتے ہیں، ہمیں اچھے لوگ مل گئے ہیں، جن کے ساتھ اچھے مذاکرات ہو رہے ہیں، ایران نے ہمیں تحفہ دیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ٹرمپ یہ بیانات دے کر دونوں پاور مراکز کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے میں لگا ہوا ہے۔اخبارات میں جو بھی خبریں ہیں، (اخبارات کو خبریں فیڈ کی جا رہی ہیں ) امریکہ نے حملہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے، اور اس کے سامنے اس کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔ اس نے ایران آنے سے پہلے وینزویلا میں تبدیلیاں لاکر وہاں کا تیل اپنے لیے مخصوص کیا ہے۔ ٹرمپ پر فوجیوں کی لاشوں کا کوئی بوجھ نہیں ہے۔ چھ سات فوجی مرے ہیں اور تیل کی قیمتیں امریکیوں کی دسترس میں ہیں۔ ٹرمپ کہتا ہے کہ تیل چاہیے تو ہم سے لے لو۔
وہ چین کے تجارتی راستوں کو محدود کرنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ وینزویلا تہہ و بالا کر کے ہرمز کو مخدوش بنانے سے چین کی تجارت اور صنعت کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ یورپ کو چھوڑنے اور ناٹو کو توڑنے سے سب سے بڑا فائدہ روس کو ہو رہا ہے، چین تو پہلے سے یورپ کے دشمنوں کی صف میں نہیں، بلکہ یورپ کا صنعتی پارٹنر ہے۔ ناٹو ممالک تجارت کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکہ سیاست اور اختیار پر گرفت کو مضبوط کرنا چاہ رہا ہے۔ کورونا کے دور کی طرح تیل کی کمی چین کو متبادل وسائلِ سفر کی طرف متوجہ کرے گا۔ تیل کی پیداوار، تجارت اور ٹرانسپورٹیشن اتنی سیاست زدہ ہو چکی ہے، کہ چین سمیت کسی کے لئے مزید محفوظ نہیں رہی۔ مڈل ایسٹ پر اپنا دار و مدار کم کر کے، چین اس دوران لیتھیم بیٹریوں کی ساخت، کوالٹی، پائیداری اور پیداوار کو بہتر کرے گا، جو اس کے لئے بہت بڑا مستقبل لائے گی۔ چین اس راستے کا فاتح بنا، تو ہرمز اور عربوں کے تیل کے کنوؤں کی پرانی اہمیت زیرو ہو جائے گی۔
امریکہ ایرانی مولویوں کی عقیدت اور بیانیہ سے جب چاہے نمٹ سکتا ہے، اس کا اصل ہدف وہاں کی سائنس، ٹیکنالوجی اور فوج ہے۔ وہ نشانے لگا لگا کر ایرانی یونیورسٹیوں اور فوج کو مدد دینے والی صنعتوں کو برباد کر رہا ہے۔ وہ جانے والا نہیں۔ وہ ایرانی فوج برباد کر کے جائے گا۔ صدام نے جب کویت سے نکلنے کا فیصلہ کیا، تب اس کی لاکھوں فوج ایک رات کی بمباری میں برباد کی گئی تھی۔ اس وقت بھی یہی سمجھا گیا تھا کہ جنگ ختم ہو گئی۔ اس کے بعد عراق رہا نہ صدام، گو وقت لگا، لیکن امریکی فوجی کارروائیوں کا پیٹرن یہی ہے۔ آؤ، حملہ کرو، واپس جاؤ، پھر آؤ، پھر حملہ کر کے جاؤ، اور پھر آ جاؤ۔ اس دوران دشمن کے سارے وسائل فوج، دفاع اور ری کنسٹرکشن کے لئے مختص کراؤ، عوام کو نظر انداز کرنے دو، اور اس دوران نا اتفاقیاں بوتے رہو۔
ایران اور پاکستان نے امریکہ سے ایک جتنا وقت لیا تھا۔ ضیا الحق اور خمینی صاحب ایک ساتھ آئے تھے۔ پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا۔ اس دوران پاکستان کی روس سے جنگ رہی لیکن دشمنیاں نہیں پالیں۔ امریکہ کے ساتھ پارٹنرشپ اور طالبان کے ساتھ مدد رہی، لیکن دشمنیاں نہیں پالیں، بلکہ مدت ہوئی اب تو انڈیا کے ساتھ بھی دشمنی نہیں ہے، بلکہ اینٹ آنے کے بدلے میں پتھر پھینکا جاتا ہے، اور غیر مساوی وسائل کے باوجود ڈیٹرنس قائم ہے۔
ایران نے پکی دشمنیاں پالیں، شاید ایران میں مذہب مولویوں کی حکومت کی گرفت کو برقرار رکھنے کے لئے واحد ذریعہ کنٹرول کافی نہیں سمجھا گیا تھا، اس لیے منافرت بھری دشمنی کا بیانیہ بھی ضروری تھا۔ ایران اپنے بیانیہ کا قیدی ہے، جس کی آج وہ سزا بھگت رہا ہے۔ ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کوئی مشترکہ بارڈر نہیں۔ کوئی ٹھوس دشمنی نہیں، بقول یووال حراری مقدس افسانوں کی لڑائی ہے۔امریکہ ہزاروں کلومیٹر دور ہے۔ وہاں میزائل حملوں کی دھمک پہنچتی ہے نہ دھول، اور ایران دھول، دھویں اور دھمک میں ڈوب گیا ہے۔ سب سے بڑی جنگ جیتنا اپنی قوم وسائل اور فوج کو جنگ سے بچانا ہوتا ہے۔ گزشتہ عشروں میں مڈل ایسٹ کے چار پانچ ممالک میں ایران کے میزائل گرتے رہے، یہاں تک کہ ایران کے ٹریگر ہیپی جرنیلوں نے ایک وقت میں پاکستان میں بھی میزائل پھینکے۔ میزائل باری کے ساتھ ساتھ یوں بیانیہ کا پرچار جاری رہا۔
پاکستان کی ڈیموکریٹ کے ساتھ نہیں بنتی تھی تو ریپبلکن کے ساتھ تعلقات بہتر ہو جاتے، اور ریپبلکن کے ساتھ خراب ہو جاتے تو ڈیموکریٹ کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے۔ ایران کے تعلقات امریکہ کے ساتھ خراب تھے، کسی پارٹی کے ساتھ نہیں۔ ورنہ اس دوران ہر سوچ کے صدور آ کر چلے گئے۔ سوویت یونین سمیت امریکہ نے اس دوران کس کس کو کہاں کہاں شکستیں دیں، ایران کو اس پر غور کرنا چاہیے تھا، اپنے بیانیہ اور پراکسیز پر نہیں۔ امریکہ اور ایران کا کہیں پر کوئی جوڑ نہیں تھا، نہ ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)