سارا بوجھ عوام پر نہ ڈالیں
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 04 / اپریل / 2026
کم از کم میں نے تو نہیں سوچا تھا کہ پٹرول458 روپے اور ڈیزل520 روپے فی لٹر ہوتے دیکھوں گا، ہم جیسے لوگوں نے تو پٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں میں 10 یا 20 روپے فی لٹر اضافہ ہوتے دیکھا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ اب اتنی قیمت بڑھتی تھی تو اپوزیشن رہنما پریس کانفرنس کر کے کہتے تھے۔
کہتے کہ حکومت نے رات کے اندھیرے میں عوام پر شب خون مارا ہے، اُن پر جان لیوا حملہ کیا ہے، حکومت اس دس بیس روپے کے اضافے پر بھی صفائیاں دیتی پھرتی تھی۔ اب موجودہ حکومت کو سہولت یہ حاصل ہے کہ امریکہ ایران جنگ ہو رہی ہے اور لوگ صحیح طور پر دہائی دے رہے ہیں کہ اِس جنگ کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر ہو رہا ہے۔ بھارت،بنگلہ دیش،نیپال،سری لنکا حتیٰ کہ افغانستان میں بھی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں اتنا ہوشربا اضافہ نہیں ہوا جتنا پاکستان میں ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں حکومت سے معیشت چونکہ سنبھالی نہیں جا رہی تھی اِس لئے موجودہ صورتحال سے فائدہ اُٹھا کر عوام پر سارا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے کل ہی اعلان کیا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہیں بڑھائی جا رہی ہیں اور ٹیکس کم کئے جا رہے ہیں گویا حکومت کا کام یہ نہیں ہوتا سارا پرنالہ عوام پر کھول دے۔ وہ اِدھر اُدھر بھی دیکھتی ہے اور کوشش کرتی ہے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالے، لیکن یہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔اپنی مراعات میں ایک پیسے کی کمی نہیں کرنی اور عوام کو ایک پیسے کی رعایت نہیں دینی۔ اس موقع پر خود مسلم لیگ(ن) کے اندر سے بھی آوازیں آ رہی ہیں کہ عوام پر رحم کیا جائے، وہ تو مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر مر جائیں گے۔ خواجہ سعد رفیق کا بیان جو انہوں نے ٹویٹ کیا ہے اس ضمن میں ایک توانا آواز ہے۔انہوں نے کہا مانا آپ کو پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھانا پڑ رہی ہیں مگر یہ نہ بھولیں کہ عوام کو زندہ رہنے کا حق بھی دینا ہے۔ پٹرول مہنگا آیا ہے تو اپنے ٹینکر ہی کم کر دیں،قیمتیں بڑھا کر اُن پر ٹیکس بھی بڑھا دینا ستم بالائے ستم ہے۔ اِس کا مطلب ہے آپ نے اس مہنگائی کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
میں جس علاقے میں رہتا ہوں اُس میں مزدوروں کی آبادی زیادہ ہ جو صبح سویرے مزدوری کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ میں جب اُس سے کچھ دور واقع پٹرول پمپ پر جاتا تھا تو میں اُس وقت جب پٹرول220 روپے لٹر ہوا تھا،اِن لوگوں کو موٹر سائیکل میں 100روپے کا پٹرول ڈلواتے دیکھتا جو صرف تین پوائنٹس آتا تھا۔ میں سوچتا اتنے کم پٹرول سے یہ کہاں پہنچ سکیں گے۔ ایک دو سے پوچھا تو وہ کہتے اس سے زیادہ پیسے ہی ہمارے پاس نہیں ہوتے۔اب اُن کا کیا بنے گا۔ 458 روپے لٹر والا پٹرول100روپے میں کتنا آئے گا۔ موٹر سائیکل پانچ کلو میٹر بھی نہیں چلے گی۔مزدوری تو اس حساب سے بڑھی نہیں، روزانہ دو تین سو روپے کا پٹرول ڈلوانے سے بھی بات ہزاروں روپے ماہانہ بن جاتی ہے۔ کیا بنے گا کیسے گزارا ہو گا۔ کروڑوں کی تعداد میں یہ محنت کش تو اپنا بوجھ بھی آگے کسی پر منتقل نہیں کر سکتے۔ البتہ طفل تسلیوں کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔مثلاً وزیر خزانہ نے کہا ہے موٹر سائیکل والوں کو ماہانہ20لٹر پٹرول 100روپے فی لٹر رعایت پر ملے گا۔کیسے ملے گا، کب ملے گا، کون دے گا کچھ پتہ نہیں، پھر 100روپے رعایت کا مطلب ہے 358 روپے فی لٹر۔غریبوں کے لئے تو یہ بھی کسی تازیانے سے کم نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک کڑا وقت ہے کچھ چیزیں تو بطور ملک ہمارے بس میں ہی نہیں۔ ویسے کہنے کو ہم بڑی اہم پوزیشن پر ہیں اور جنگ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،مگر حیرت ہے کہ ہم پٹرول اور ڈیزل سستا نہیں لے پا رہے۔ ویسے روزانہ یہ خبریں آ جاتی ہیں کہ آبنائے ہرمز سے ہمارے بحری جہاز گزر آئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی کبھی کبھی یہ درفنطنی چھوڑ دیتے ہیں کہ پاکستانی پرچم لگا کر امریکہ کے9جہاز آبنائے ہرمز پار کر آئے ہیں، مگر یہ سب تو کہانیاں لگتی ہیں۔ نظر تو ایسا آ رہا ہے کہ اس جنگ کا سب سے بڑا شکار پاکستان ہوا ہے۔اُس کی پہلے سے کمزور معیشت مزید بوجھ تلے دبتی چلی جا رہی ہے۔سفارت کاری میں اگر ہم کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں تو پھر یہ کامیابی ہمیں کیوں حاصل نہیں ہو رہی۔کیا وجہ ہے کہ آئی ایم ایف بھی اسی وقت اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے۔ سبسڈیز ختم کرنے پر زور دے رہا ہے، ٹیکسوں میں اضافہ کی فرمائشیں کر رہا ہے اس کے بورڈ آف گورنرز کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ پاکستانی عوام کس حال میں ہیں۔ وہ نچوڑ رہا ہے اور بری طرح نچوڑ رہا ہے۔
امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار تعلقات کا کیا فائدہ اگر ہم آئی ایم ایف کے دباؤ سے نہیں نکل سکتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اشارہ آئی ایم ایف کا رُخ دوسری طرف پھیر سکتا ہے مگر ہم نے اس طرف نہ جانے کی نجانے کیوں قسم کھا رکھی ہے۔ بات صرف اس حد تک تو نہیں رُکے گی کہ ہم پٹرول اور ڈیزل مہنگا کر کے اِس ضمن میں ہونے والا خسارہ کم کر لیا ہے۔اصل مسئلہ تو یہ ہے،ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا جو سیلاب آئے گا اُسے کیسے روکیں گے۔ڈیزل بار برداری کی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو گی۔فیکٹریوں کو جانے والا خام مال ہو یا وہاں سے آنے والی پروڈکٹس کی منڈیوں یا بازاروں میں ترسیل اُس کی لاگت بھی بڑھے گی، جس کا بالآخر بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے،پھر ایکسپورٹ کے لئے تیار کی جانے وکالی اشیا بھی اخراجات میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔معاملات بہت سنگین صورتحال کی طرف جا رہے ہیں۔حکومت نے حالات کو ٹالنے کے لئے اگر صرف پٹرول و ڈیزل مہنگا کرنے کا راستہ اختیار کر لیا ہے تو یہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عارضی بحران ہے ۔جنگ نے بالآخر جلد ختم ہونا ہے کہ اس کی وجہ سے خود امریکہ کے اندر ایک بے چینی پائی جاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسے زیادہ عرصے تک جاری نہیں رکھ سکیں گے،مگر جس طرح اِس جنگ کے اثرات اس خطے اور دنیا بھر میں مرتب ہو رہے ہیں،وہ اپنا دیرپا اثر چھوڑ سکتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان ترقی کی طرف چل نکلا تھا مگر یہ جنگ آڑے آ گئی ہے اور ہم پیچھے چلے گئے ہیں۔ اصل کام تو یہی ہے کہ پاکستان کو پیچھے جانے سے روکا جائے۔حکومت کے سادگی اور اخراجات کم کرنے کے ضمن میں کئے گئے اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ پروٹوکول کی وبا اُسی طرح جاری ہے اور باقی گاڑیاں بھی چل رہی ہیں۔ضرورت تو اِس امر کی ہے کہ افسروں، محکموں اور وزرا نیز مشیران کو دی گئی گاڑیاں واپس لے کر پول میں کھڑی کر دی جائیں۔تمام افسر اور وزرا اپنی ذاتی چھوٹی گاڑیاں اپنے پٹرول سے چلائیں۔وہ ترقیاتی منصوبے جنہیں کچھ مدت کے لئے ٹالا جا سکتا ہے، روک دیئے جائیں۔ وزرا،ارکان اسمبلی، ارکان سینٹ کو دی جانے والی گرانٹ منجمد کر دی جائے۔ ایک ہنگامی صورتحال نافذ کر کے سوائے تنخواہوں کے تمام مراعات ختم کر دی جائیں۔
اس سے عوام میں یہ احساس پیدا ہو گا وہ اکیلے ہی قربانی نہیں دے رہےبلکہ سبھی اِس مشکل صورتحال سے نکلنے کیلئے قربانی دے رہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو عوام میں پیدا ہونے والا اضطراب کسی بڑے بحران کا سبب بن جائے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)