امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ٹرمپ کی بے صبری

’ایکس‘ پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا پیغام اور امن کی خواہش   کا اظہار ، پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے ایک مثبت  اشارہ ہے۔  تاہم امریکی  صدر ٹرمپ کی بے صبری اور دھمکیاں اس سفارتی عمل کو مسلسل ’تباہ‘ کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

فریقین جنگ بندی پر راضی دکھائی دیتے ہیں۔   اس کے لیے بنیادی نکات پر بھی کسی  حد تک   اتفاق  رائے موجود ہونا چاہئے لیکن  ایک طرف ایران  کے لیے امریکی وعدوں  پر اعتبار کرنا مشکل ہے تو دوسری طرف  امریکی حکومت ہاتھ پر سرسوں جمانے جیسے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے جو موجودہ مشکل اور پیچیدہ تنازعہ میں ممکن نہیں ہوگا۔  اس مسئلہ کا حل دھمکیوں کی زبان میں بات کرکے تلاش نہیں ہوسکے گا۔  اس کی بجائے بہتر ہوگا کہ فریقین عبوری جنگ بندی پر راضی ہوجائیں۔ اس کے بعد مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کی شرائط پر بات کی جائے اور متفقہ طور سے بعض نکات پر کوئی ایسا معاہدہ تیار کیا جائے جو کسی کی شکست اور فتح کا اعلان نہ ہو بلکہ  امن کا پیامبر ہو۔

عبوری جنگ بندی سے ایک تو ایرانی عوام کو ریلیف ملے گا اور ان پر روزانہ  ہونے والی بمباری رکنے سے  ایرانی قیادت کو بھی جنگی صورت حال اور حکمت عملی کی بجائے امن معاہدہ پر پوری توجہ صرف کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی عرب ممالک پر ایرانی حملوں کا سلسلہ بند ہونے سے  ریجن کی طاقتوں کے درمیان پیدا ہونے والی بے اعتمادی اور بے یقینی کی فضا کسی حد تک کم ہوسکے گی۔ گویا ایک ایسا ماحول پیدا ہوسکے گا جس میں تنازعہ کا حصہ بننے والے سب فریق غصہ اور ہیجانی کیفیت کی بجائے وسیع تر منظر نامہ پر نگاہ رکھ کر فیصلے کرنے میں معاون ہوسکیں گے۔

صدر ٹرمپ نے دس دن کی مہلت کا حوالہ دیتے ہوئے تھوڑی دیر پہلے  ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ ایران کے پاس اب صرف 48 گھنٹے ہیں۔ اس مدت میں اگر اس نے معاہدہ نہ کیا  اور آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو امریکہ، ایران پر قیامت  مسلط کردے گا۔ اسلحہ  وبارود کے ساتھ تباہی پھیلا کر اگر امریکی قیادت واقعی ایران  مٹانے یا اس کی طرف سے پیدا ہونے والےسکیورٹی اندیشوں   کو ختم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے تو بدقسمتی سے اس کی تعبیر ڈراؤنی اور تکلیف دہ ہوگی۔ 

ایران کسی بھی صورت  میں دھمکیوں  یا  دباؤ میں  معاہدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا ۔ بلکہ اگر  ٹرمپ  کے  اعلان کے مطابق امریکہ ایران کے انرجی مراکز اور  پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر حملے کرتا ہے تو اس سے ایرانی عوام  ہی مشکلات اور پریشانی کا شکار ہوں گے۔ یہ اقدام مسلمہ بین الاقوامی اصولوں سے متصادم ہوگا ۔ امریکہ نے جنگ کا آغاز ایرانی عوام کو ’آزادی‘ حاصل کرنے کا موقع دینے اور دنیا کو جوہری  بلیک میل سے بچانے کے لیے کیا تھا۔ لیکن اگر ایرانی عوام کی بنیادی ضرورت کے وسائل تباہ کرکے ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا خواب دیکھا جارہا ہے تو اس سے زیادہ  گمراہ کن قیاس آرائی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔

ایران  اعلان کرچکا ہے کہ اس کے توانائی کے مراکز پر حملے ہوئے تو وہ  بھی خلیجی و عرب ممالک میں انرجی مراکز، پانی صاف کرنے کے یونٹس اور آئی ٹی مراکز کو نشانہ بنائے گا۔ اگر امریکہ و اسرائیل کے ان دعوؤں کو درست بھی مان لیا جائے کہ  زیادہ تر ایرانی میزائل تباہ کردیے جاتے ہیں اور سامنے آنے والا نقصان درحقیقت  تباہ شدہ میزائیلوں کے ٹکرے لگنے سے ہوتا ہے۔ تو بھی  گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران،  اسرائیل کے علاوہ متعدد عرب ممالک میں بعض اہداف  کو درست طور سے نشانہ بنانے میں  کامیاب ہؤا ہے۔ ایرانی انرجی ذرائع پر حملوں کے بعد اگر ایران نے بھی جواب میں ایسے ہی حملے  کیے تو  اس سے  ریجن کے متعدد ممالک میں زندگی  مفلوج ہوسکتی ہے۔ امریکی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ  وہ ایران کو تباہ  کرنے اور ’پتھر کے زمانے‘ میں واپس بھیجنے کے جوش میں کہیں اپنے ان حلیفوں ہی کو تباہ کرانے کی غلطی نہ کربیٹھے  جنہوں  نے دہائیوں تک امریکی سکیورٹی کے لیے کھربوں ڈالر صرف کیے ہیں اور وفاداری سے  مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔  یہ امریکی حکمت عملی  ایران کے علاوہ عرب  ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ اس بارے  میں درست اندازے قائم کرنے اور اپنی فائر پاور پر اندھا اعتماد کرکے تباہی  پھیلانے کی دھمکیاں یا کوشش انتہائی خطرناک  ہوسکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آج ہی  بوشہر کے جوہری مرکز کے قریب امریکی و اسرائیلی بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے  متنبہ کیا ہے کہ اگر ان حملوں سے تابکاری پھیلتی ہے تو صرف ایرانی عوام ہی  ہلاک  نہیں ہوں گے بلکہ سب عرب ملکوں میں اس تابکاری سے ہلاکت خیزی ہوگی۔ اس اعتراض کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عظمت کے  گیت گانے کے باوجود دنیا کااعتبار اور حمایت حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ ایران کے خلاف یک طرفہ جنگ میں حلیف ممالک کی حمایت نہ ملنے پر شدید مایوس ہیں۔ اس مایوسی میں انہیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو امریکہ کو مزید تنہا کردے ۔ ایران میں  عام شہریوں کی زندگی کوخطرات لاحق کرنے والا کوئی اقدام امریکہ کے سب دوستوں  اور حلیف  ممالک کو اپنے تعلقات پر نظر ثانی  کرنے پر مجبور کردے گا۔  متعدد مبصر یہ اشارے دیتے رہے ہیں کہ   امریکی اشتعال انگیزی  تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کو  جان لینا چاہئے کہ اگر ایک بار یہ تنازعہ عالمی جنگ میں تبدیل ہوگیا تو اس کی طوالت، تباہی اور عواقب کا اندازہ قائم نہیں ہوسکے گا۔ امریکی قیادت کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ایسی صورت میں ضروری نہیں کہ جنگ کے  اختتام پر صرف مشرق وسطیٰ یا ایشیا کے ممالک ہی تباہ ہوں۔ یا امریکہ ایسی عالمی جنگ سے ایک بار پھر ’سپر پاور‘ بن کر ہی ابھرے گا۔

دوسری طرف ایرانی لیڈروں کو بھی امریکی  دباؤ اور ظلم کے باوجود اپنے عوام کی زندگی اور ایران کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔  اس جنگ میں ثابت قدم رہنا اگرچہ ایرانی خود مختاری اور وقار کے لیے ضروری ہوسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس سے جلد از جلد باہر نکلنے کا راستہ تلاش  کرنا ہی ایران کے بہترین مفاد میں ہوگا۔ اس لیے اسے اپنی توقعات پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور امریکہ کو مزید چیلنج  کرنے کی بجائے اس سے مذاکرات  کی میز پر مراعات لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پاکستان کے علاوہ  مصر، ترکیہ ،  سعودی عرب، چین اور متعدد دیگر ممالک اس عمل میں ایران کے ساتھ معاونت  پر آمادہ ہیں۔ ایران کے لیے جنگ  بندی کے لیے ٹھوس اقدام کرنے کا  یہی موقع ہے ورنہ حالات  ایران ہی نہیں ثالثی کی کوششیں کرنے والے ممالک کے ہاتھ سے بھی  نکل سکتے ہیں۔

ایران میں قیادت کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایرانی نظام نے اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے باوجود   حکومتی نظام برقرار رکھا ہے۔ لیکن یہ غیر واضح ہے کہ سیاسی  و عسکری قیادت کے درمیان رابطوں اور اعتماد کی کیا صورت حال ہے۔ اس ماحول میں رہبر اعلیٰ مجتبی خامنہ ای کی غیر حاضری محسوس کی جاتی ہے۔ کہیں سے یہ اشارہ بھی نہیں مل پارہاکہ کیا وہ امریکی بیانات کے مطابق ’غیرمتعلق‘ ہیں یا جنگ بندی کے عمل میں ان کی رہنمائی اور ہدایات شامل ہیں۔ اگر مجتبیٰ خامنہ ای عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان رابطہ کار کے طور پر مؤثر کردار ادا نہیں کررہے تو اس کا یہی مقصد ہوگا کہ پاسداران انقلاب کی دوسرے درجے  کی قیادت کے پاس اصل اختیار ہے اور سیاسی لیڈر ان کے سامنے بے بس ہیں۔ 

جو ایرانی لیڈر  مذاکرات کے لیے پاکستان کے ساتھ رابطوں میں ہیں انہیں اپنی پوزیشن اور پاور اسٹرکچر  میں اپنی حیثیت کا تعین کرانا چاہئے۔ ایران کی طرف سے اگر  کوئی متفقہ قوت جنگ بندی کے لیے بات چیت پر آمادہ نہیں ہے تو شاید یہ بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھ پائے گی۔