امریکہ نے ایران سے دوسرا پائلٹ بھی ریسکیو کرلیا

  • اتوار 05 / اپریل / 2026

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے طیارے کے لاپتہ رُکن کو ریسکیو کرنے کی تصدیق کردی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ریسکیو کیے گئے ’قابلِ احترام کرنل‘ کو چوٹیں آئی ہیں، تاہم وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ریسکیو مشن کے لیے درجنوں امریکی طیارے بھیجے گئے تھے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ  یہ معجزانہ مشن پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے بعد کیا گیا ہے، ہم اس کی فوری تصدیق نہیں کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ ہم اپنے دوسرے ریسکیو مشن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی امریکی فوجی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ امریکی صدر کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو امریکی حکومت کے متعدد ذرائع نے بتایا تھا عملے کے رُکن کو اتوار کو علی الصبح ایران کے دُور دراز کے علاقے سے ریسکیو کیا گیا۔ امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ ایران کے دُوردراز علاقے میں گرنے والے اس طیارے کے پائلٹ کو جمعے کے روز ریسکیو کر لیا گیا تھا۔ تاہم عملے کے دوسرے رُکن کی تلاش کے لیے ایران کے جنوبی علاقے میں امریکہ اور ایران دونوں کی جانب سے تلاش کا عمل جاری تھا۔

امریکہ کے اس کامبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو (یعنی سی ایس اے آر) مشنز میں جہاز اور نچلی پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹرز بھی شامل تھے۔ ایرانی حکام نے امریکی طیارے کے عملے کی رُکن کو زندہ ڈھونڈ نکالنے پر 66 ہزار ڈالرز کا انعام بھی رکھا تھا۔

خیال رہے کہ جمعے کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا تھا ایران میں مبینہ طور پر ایک امریکی جیٹ مار گرایا گیا ہے اور پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔  بعدازاں امریکہ نے تصدیق کی تھی کہ جمعے کو اس کے ایف-15 ای لڑاکا طیارے کو جنوبی ایران کی فضائی حدود میں مار گرایا گیا تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے دوسرے رُکن کو ریسکیو کرنے کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کا آمنا سامنا بھی ہوا۔

امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ لاپتہ امریکی کریو ممبر کی تلاش کے مشن کو ایک بڑا جنگی آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عملے کا یہ رُکن دُشوار گزار ایرانی پہاڑوں کے بیچ دُشمن کے نرغے میں تھا اور ہمارے دُشمن اس کی تلاش میں تھے۔ لیکن امریکی فوج 24 گھنٹے ان کی لوکیشن سے آگاہ تھی۔