مسیحی تہوار ایسٹر کی تاریخی اہمیت
- تحریر خالد محمود اوسلو
- سوموار 06 / اپریل / 2026
مسیح مذہب کا تہوار ایسٹڑ جسے نارویجن میں پھوسکے کہا جاتا ہے، کو دنیا بھر کے مسیح بڑی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ اسے عیسائیت میں عیدالفصح بھی کہا جاتا ہے۔ مسیحوں کا یہ سالانہ مذہبی تہوار ہے جو عیسی علیہ السلام کی شہادت اور پھر ان کو آسمان پہ اُٹھائے جانے سے منسلک ہے۔
اس واقع کی پیش آنے کے کئی روداد ہیں۔ اس میں مختلف مسیح فرقوں کی اپنی اپنی کہانی بھی ملتی ہے۔ البتہ اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ تہوار اس وقت واقع پذیر ہوا جب عیسی علیہ السلام دین یہودیت کی صیع تبلیغ کے لیے بیت المقدس میں اپنے 12 ساتھیوں کیے ہمراہ آتے ہیں۔ یہ تہوار ہر سال 21 مارچ اور 22اپریل کے درمیانی عرصہ میں مختلف تواریخ کو متعین ہوتا ہے۔ اور ہر سال، یہ دن بدلتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعین شمسی کیلنڈر کی بجائے قمری کیلنڈر کے مطابق کیا جاتا ہے۔
ہر سال اکیس مارچ کے بعد چاند کی چودہویں رات کے بعد آنے والے پہلے اتوار کو ایسٹر ڈے مقرر کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ دن ہر سال مختلف تواریخ کو منایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق عیسئ علیہ السلام اپنے وقت میں رائج دین یہودیت میں داخل ہو جانے والی مختلف بدعات کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے دین کی اصل روح کو بحال کرنے کی تحریک کا آغاز کرتے ہیں۔ اور مذہبی پیشواؤں اور پادریوں کی طرف سے مذہب کے نام پر تجارت اور ذاتی فوائد کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں ۔ وہ دینی علما کی طرف سے روا رکھی جانے والی منافقت کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اُٹھاتے ہیں اور اس مقصد کو لے کر عیسی علیہ السلام روایت کے مطابق ایسٹر سنڈے سے ایک ہفتہ پہلے پالم اتوار (کھجوروں والا اتوار ) کے دن یروشلم میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک گدھے پر سوار ہو کر داخل ہوتے ہیں اور یروشلم میں ایک بہت بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے امڈ آتی ہے۔ لوگوں نے ان کی راہ میں اپنے جبُوں کے ساتھ کجھور کے درخت کی شاخیں بچھا کر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں اور بادشاہ کے خطاب سے نوازتے ہیں۔
کجھور کی شاخوں کو عیسی علیہ السلام کی راہ میں بچھا کر استقبال کرنے کی بدولت، اس اتوار کو پالم سنڈے (کھجوروں کا اتوار ) کہا جاتا ہے جس سے اس مذہبی تہوار کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ایسٹر سے چالیس دن پہلے مسیح مذہب کے پیروکار روزہ رکھنے کا آغاز کرتےہیں جو کہ عیسی علیہ السلام کی طرف سے صحرا گردی کی یاد میں رکھے جاتے ہیں، جب وہ وہاں پر رہے ۔ عیسی علیہ السلام پالم سنڈے والے دن یروشلم میں داخل ہو کر سب سے پہلے ٹمپل میں جاتے ہیں اور درس دیتے ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے بارہ ساتھیوں کے ساتھ شہر سے باہر بتانیا کے مقام پر چلے جاتے ہیں پھر اگلے دن واپس ٹمپل میں آتے ہیں۔ وہاں پر جاری تجارت کے لگے ہوئے ٹھیلوں کو اُلٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رب کا گھر عبادت کی جگہ ہے جب کہ تم لوگوں نے اسے تجارت میں بدل دیا ہے۔ یہاں لوگوں کو مذہب کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
عیسی علیہ السلام کے اس اقدام کے بعد مذہبی علما اور سیاسی راہنما سر جوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ تو ہمارے جاہ و جلال اور دولت کی ساری امارت کو گرانے پہ اتر آیا ہے جس سے ہماری طاقت، دبدبہ، رُعب اور کاروبار ہی برباد ہو جائے گا۔ دینی علما خود کو اتنا طاقتور نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خود عیسی علیہ السلام کو اپنے راستے سے ہٹا سکیں لہذا وہ رومن سلطنت کے گورنر پلیتیوس کو ورغلا کر قائل کرتے ہیں کہ حضرت عیسی مذہب کے نام پر سیاسی بغاوت کر کے روم کے اقتدار کو یروشلم میں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح اپنی تبلیغ میں مصروف عیسی علیہ السلام کے خلاف سیاسی اور مذہبی اکابرین کا گٹھ جوڑ تشکیل پاتا ہے۔ جس کا مقصد عیسی علیہ السلام کو راستے سے ہٹا کر مذہب کے نام پر اپنی عیاشیوں اور بدعات پر مبنی کارستانیوں کو جاری و ساری رکھنا تھا۔
عیسی علیہ السلام اپنے حواریوں کو اپنے مشکل وقت سے خبردار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم میں سے ایک شخص مجھے سے غداری کر کے مروائے گا۔ اور مشکل پڑنے پر آپ لوگ مجھے تنہا چھوڑ جاؤ گے۔ جب عیسی علیہ السلام یہ تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا سب سے قریبی وفادار پیٹر کہتا ہے کہ میں ہر حال میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ اگر میری جان بھی چلی جائے تو ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ عیسی علیہ السلام کہتے کہ پیٹر آج رات کے پچھلے پہر مرغ کی اذان صبع سے پہلے تم تین دفعہ مجھے سے لاتعلقی کا اعلان کرو گے۔ عیسی علیہ السلام جمعرات کے دن تمام عقیدت مندوں کے پاؤں دھو کر ان کو عشائے ربانی جسے آخری خوان نعمت بھی کہا جاتا ہے، کے لیے ایک میز پر اکٹھا کرتے ہیں۔ اور سب کو ایک روٹی کے ٹکڑے کر کے بانٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے میرا جسم سمجھو اور پھر ایک پیالے میں مشروب پیش کرتے ہیں جس کو وہ اپنا خون گردانتے ہیں ۔
یہ آخری کھانا تناول کرنے اور مشروب نوش کرنے کے بعد عیسی علیہ السلام ساتھیوں کو لے کر جبل الزیتوں پر چلے جاتے ہیں۔ عیسی علیہ السلام بڑی بے چینی میں مبتلا ہوتے ہیں اور ایک خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے تین ساتھیوں کو گیٹسیمانی باغ میں لے جاتے ہیں اور ان کو تلقین کرتے ہیں کہ تم نے سونا نہیں تاکہ میں تنہا نہ رہ جاؤں۔ لیکن حضرت عیسی جیسے ہی عبادت کرتے ہیں، یہ تینوں گہری نیند کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عیسی علیہ السلام ان کو سویا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں کہ تم تو میرے فرمان کے برعکس سو کر آرام فرما رہے ہو۔ تو سنو اب فیصلہ ہو گیا ہے۔ مجھے اب گنہگاروں کے حوالے کرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور مجھ سے غداری کرنے والا پہنچنے ہی والا ہے۔ عیسی علیہ السلام کے یہ فرمانے کے ساتھ ہی ان کا وفادار یہودہ تلواروں اور لاٹھیوں سے لیس سرکاری اہلکاروں کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور آکر سیدھا عیسی علیہ السلام کے قدموں کو چومتا ہے۔ اس نے ان سرکاری اہلکاروں کو یہ بتا رکھا تھا کہ میں جس کے قدم چوموں گا، وہ ہی عیسی علیہ السلام ہوں گے۔ اس طرح سرکاری اہلکار آگے بڑھ کر عیسی علیہ السلام کو گرفتار کر لیتے ہیں اور عیسی علیہ السلام کی یہ پیشگوئی کہ میرا اپنا مجھ سے غداری کرے گا سچ ثابت ہوجاتی ہے۔
اسی لمحے جب عیسی علیہ السلام کو گرفتار کیا جاتا ہے تو تمام کے تمام ساتھی ان سے تعلق داری کا انحراف کرتے ہیں اور پیٹر جس نے ساتھ مرنے کا عہد کیا تھا، تین دفعہ دہراتا ہے کہ میرا عیسی علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ جیسے ہی یہ انکار کر چکتا ہے تو مرغ کی سحر کی اذان فضا میں گونجتی ہے۔ عیسئ علیہ السلام کو پکڑ کر جمعے کے دن رومن سلطنت کے مقامی گورنر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور مذہبی زعما کا اکٹھا کیا ہوا ہجوم بلند آواز میں مطالبہ کرتا ہے کہ اسے صلیب پہ لٹکا دیا جائے۔ گورنر پلیتوس پوچھتا ہے کہ اس کا گناہ گیا ہے لیکن ہجوم بس صلیب پر لٹکنے کے نعرے لگاتا جاتا ہے۔ موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے پلیتوس عیسی علیہ السلام کو چھوڑنے کی بجائے انہیں ان کے حوالے کر دیتا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق رومن حکمران پلیتوس عیسی علیہ السلام کو بے گناہ سمجھتا ہے اور خود انہیں سزا دینے سے گریز کرتا ہے۔ لیکن وہ مذہبی پیشواؤں کے دباؤ اور سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر عیسی علیہ السلام کو ان کے حوالے کر دیتا ہے ۔ یہ مذہبی زعما سپاہیوں کے حصار میں عیسی علیہ السلام کو لے جاکر ایک حویلی میں بے تحاشہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور سخت اذیت دیتے ہیں۔ عیسی علیہ السلام کو ایک جُبہ پہنا کر ان کے سر پہ کانٹوں کا تاج رکھا جاتا ہے۔ عیسی علیہ السلام پر یہ دن بہت بھاری گزرتا ہے۔ اور انہیں بہت ہی طویل اذیت میں رکھا جاتا ہے۔ اسی اذیت کی وجہ سے عیسائی مذہب میں اس جمعہ کے دن کو طویل جمعہ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب نہ ختم ہونے والی تکلیف ہے۔ اس جمعہ کو مبارک جمعہ بھی کہا جاتا ہے۔
عیسی علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا کر وہیں قبر میں دفن کیا جاتا ہے۔ لیکن دوسرے دن وہی مذہبی زعما ایک بار پھر پلیتوس کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام نے مرنے سے پہلے کہا تھا کہ میں پھر تیسرے دن اُٹھ جاؤں گا لہذا عیسی کی قبر پر سخت پہرہ لگایا جائے تاکہ ان کا کوئی ماننے والا انہیں قبر سے نکال نہ دے۔ لہذا پلیتوس بڑے سخت پہرے دار قبر پر بٹھا کر بھاری کم پتھروں سے قبر کو ڈھانپنے کا حکم دیتا ہے۔ یکم ایسٹر اتوار کو علی الصبح جب دو خواتین جاتی ہیں تو دیکھتی ہیں کہ ایک فرشتہ آ کر قبر سے پتھر سرکا دیتا ہے اور پھر جب پہرے دار دیکھتے ہیں تو قبر کو عیسی علیہ السلام کے جسد خاکی سے خالی پاتے ہیں ۔
مسیحی عقیدہ کے مطابق عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھا لیا گیا تھا اور اسی لیے ایسٹر جس کا آغاز غم سے ہوتا ہے اس کا اختتام خوشی پہ ہوتا ہے۔ اور ایسڑ کا پہلا اتوار عیسی علیہ السلام کی قربانی کے عوض خوشی میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح ایسٹر سنڈے خوشی سے منایا جاتا ہے۔