سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی دھمکی اور امریکی سیاست
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 06 / اپریل / 2026
ایک طرف پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تیز کی ہیں اور خبروں کے مطابق عبوری جنگ بندی کا ایک منصوبہ دونوں ملکوں کو بھیجا گیا ہے۔ تو دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ سوشل میڈیا پر غصے سے بھرپور فحش کلامی پر مبنی ایک ایسا پیغام سامنے آیا ہےجو کسی ملک کے صدر اور مسلح افواج کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا۔
اس پیغام کی زبان اور اس میں کیے گئے دعوے پر دنیا بھر میں حیرت و استعجاب کا اظہار کیاجارہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ انیئس کالامار نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو نفرت انگیز قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی پلوں، بجلی گھروں کو تباہ کرنے سےسب سے پہلے متاثر شہری ہوں گے۔بجلی اور پانی نہیں ہوگا اور شہریوں کے لیے حملوں سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔انیئس کالامار کا کہنا ہےکہ یہ ممکنہ طور پر جنگی جرائم کی سلسلہ وار مثال ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کی صدر میرجانا اسپولیارِچ نے خبردار کیا ہے کہ شہری اور جوہری مقامات کے خلاف دانستہ دھمکیاں، جنگ میں ایک نیا معمول نہیں بننی چاہئیں ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جنگ جو بغیر حدود کے لڑی جائے، قانون کے مطابق نہیں ہوتی۔ یہ ناقابلِ دفاع، غیر انسانی اور پوری آبادیوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بجلی گھروں، ہسپتالوں، پلوں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی تباہی، نیز جوہری تنصیبات کے خلاف دھمکیاں آنے والی نسلوں کے لیے ناقابلِ واپسی نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس پیغام میں پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کرنے کی دھمکی کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے علاوہ سیاسی ترجمان اور مبصرین اس کی زبان اور امریکی صدر کی طرف سے فحش اور ہتک آمیز دشنام طرازی کے استعمال پر بھی حیرت کا اظہار کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے گالی نکال کر منگل کو امریکی ایسٹرن وقت کے مطابق رات 8 بجے تک آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بصورت دیگر ایران پر دوزخ کا دروازہ کھل جائے گا ۔ پھر کوئی پاور پلانٹ اور پل باقی نہیں رہے گا۔ اس پیغام کا پہلا جملہ ہی یہ تھا کہ ’منگل ، پاور پلانٹس اور پلوں کا دن ہوگا‘۔ یعنی اس دن ایران کے تمام بجلی گھر اور آمد و رفت کے لیے بنائے گئے پلوں کو تباہ کردیا جائے گا۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایسے حملوں کے بعد ایران کی رہی سہی مزاحمت دم توڑ دے گی اور تہران میں امریکہ کی مرضی کے مطابق حکومت مسلط کی جاسکے گی۔ آج ایسٹر کی ایک تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنے ان ارادوں کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی فحش کلامی کا مقصد بات سمجھانا تھا اور یہ طرز تکلم نیا نہیں ہے۔
آئیندہ تیس پینتیس گھنٹوں میں پتہ چل جائے گا کہ امریکی صدر ان دھمکیوں پر کس حد تک عمل کرپاتے ہیں یا پاکستان اور اس کے ساتھ ترکیہ اور مصر کی کوششوں سے امن کا کوئی معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ ان تجاویز میں جسے خبروں کے مطابق ’اسلام آباد اکارڈ‘ کا نام دیا گیا ہے ، مبینہ طور سے 45 دن کے لئے فوری جنگ بندی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تجاویز کے مطابق امریکہ حملے بند کردے اور ایران اسی وقت سے آبنائے ہرمز کھول دے۔ اس کے بعد فریقین پائیدار امن کے لیے بات چیت کریں اور کسی معاہدے تک پہنچیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے ان پاکستانی تجاویز کا جواب دے دیا ہے اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایسی صورت حال کو قبول نہیں کیاجاسکتا جس میں ایک وقفے کے بعد دشمن دوبارہ حملے شروع کردے۔ ہم اس تنازعہ کا مستقل حل چاہتے ہیں۔ دوسری طرف وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ایران کی طرف سے ا حوصلہ افزا تجویز موصول ہوئی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔
ہوسکتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن سے آئے ہوئے یہ بیانات تصادم کی کیفیت کو نارمل سطح پر لانے کی غرض سے دیے گئے ہوں اور منگل کی شام تک کی دی گئی ’مہلت‘ کے اندر فریقین جنگ بندی کے کسی معاہدے پر راضی ہوجائیں۔ اگرچہ یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ایک طرف پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک امن کے لیے کوششیں کررہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک جنگ جاری رکھنے اور ایران کی مکمل تباہی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ پر جنگ بندی کے کے لیے امریکی رائے عامہ کا دباؤ ہے تو اسے جاری رکھ کر تہران میں امریکہ نواز حکومت کے قیام اور ایرانی تیل ذخائر پر قابض ہونے کی چاہ بھی شدید ہے۔ تاہم جس سوال کا جواب شاید صدر ٹرمپ کے پاس بھی موجود نہیں ہوگا ، وہ یہ ہے کہ اگر امریکہ و اسرائیل مل کر ایران کا تمام شہری انفرا اسٹرکچر تباہ کردیتے ہیں تو اس کے جواب میں ایران خلیجی ممالک میں ایسے ہی اہداف کو کس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے اور ان کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے پاس کیا منصوبہ ہے۔ خلیجی ممالک میں پانی صاف کرنے کے اور بجلی بنانے کے پلانٹس تباہ ہونے کی صورت میں ان ملکوں میں ہی نہیں بلکہ پورے ریجن میں ایک ناقابل برداشت صورت حال پیدا ہوگی جس میں انسانی زندگی ناممکن ہوسکتی ہے۔ ایران نے ابھی تک اسرائیل میں بھی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا اپنے ہاں شہری زندگی مفلوج ہوجانے کے بعد وہ اسرائیل میں ایسے ہی ٹھکانے تباہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا؟ ان سوالوں کے آسان جواب موجود نہیں ہیں کیوں نہ ایران کی عسکری صلاحیت کے بارے میں اب تک قائم کیے گئے اندازے ناقص ثابت ہوئے ہیں۔
تاہم اس جنگی صورت حال کے درمیان صدر ٹرمپ کے سوشل ٹروتھ پر جاری ہونے والے تازہ ترین پیغام کی زبان اور مافی الضمیر نے معاملہ کے ایک نئے پہلو کو اجاگر کیا ہے۔ دنیا کے نمایاں اداروں اور لوگوں نے اس پیغام کی واہیات اور غیر مہذب زبان پر ضرور افسوس اور دکھ کا اظہار کیا ہے لیکن امریکہ کی حکمران ری پبلیکن پارٹی کی طرف سے کسی قسم کا کوئی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ ٹرمپ کا تعلق اسی پارٹی سے ہے اور اسی پارٹی کو کانگرس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت بھی حاصل ہے۔ ٹرمپ کا پیغام نہ صرف اس عہدے کے وقار اور شان کے منافی ہے بلکہ اس سے ایک ایسے بیمار اور ذہنی طور سے معذور شخص کی تصویر سامنے آتی ہے جسے اپنی زبان و بیان پر کنٹرول ہی نہیں ہے اور وہ کسی غلطی کا اعتراف کرنے کے بھی قابل نہیں۔ کیا ایسا شخص ملک کی صدارت پر فائز رہنے کے لائق ہے؟ دنیا بھر میں یہ سوال اٹھانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا لیکن اگر ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹ و کانگرس کے ارکان اس پر ناپسندیدگی اور لاتعلقی کا اعلان کرتے تو صدر کو مستقبل میں چوکنا ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اس بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ اس جنگ میں امریکہ جنگی جرائم کا بھی مرتکب ہوسکتا ہے۔ کیا یہ پہلو کانگرس میں امریکی عوام کے نمائیندوں اور بطور خاص ری پبلیکن پارٹی کے لیے تشویش ، پریشانی یا شرمندگی کا سبب نہیں ہونا چاہئے؟
دیکھا جاسکتا ہے کہ ری پبلیکین پارٹی کی طرف سے صدر ٹرمپ کے طرز عمل پر کوئی نمایاں آواز سننے میں نہیں آئی، ایسے صدر کے خلاف مواخذے کی بات کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اس سیاسی رویے سے یہ ضرور سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ رویہ صدر ٹرمپ سے مختص نہیں ہے بلکہ امریکہ کی حکمران سیاسی جماعت بھی دراصل امریکی بالادستی، قانون شکنی اور جارحیت کو پالیسی کے طور پر قبول کیے ہوئے ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی بدکلامی سے صرف امریکہ کے پوشیدہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے۔ درحقیقت دنیا کے امن اور بین الاقوامی قانون اور انسانی و اخلاقی اقدار کے لیے ٹرمپ نہیں بلکہ امریکہ بطور ملک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ جو یورپی لیڈر یہ امید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے تین سال گزرنے کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے، انہیں خبردار ہونا چاہئے کہ ٹرمپ ایک ایسی امریکی رائے عامہ کا نمائیندہ ہے جسے وہاں وسیع حمایت حاصل ہے۔ یہ خطرہ ایک فرد کے جانے یا رہنے سے زیادہ یا کم نہیں ہوگا۔