استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے پر فائرنگ، ایک حملہ آور ہلاک
ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس میں ایک حملہ آور ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ترکی کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ چفتجی کا کہنا ہے کہ استنبول میں یاپی کریڈی پلازہ کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے مسلح تصادم کے بعد ایک حملہ آور ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ترکی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس تصادم میں ہمارے دو پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ دہشتگردوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔
یہ معلوم کرلیا گیا ہے کہ یہ افراد ازمیر سے استنبول ایک کرائے کی گاڑی میں پہنچے تھے اور ان میں سے ایک کا تعلق ایسی تنظیم سے ہے جو مذہب کا غلط استعمال کرتی ہے۔ ان میں دو بھائی بھی شامل تھے، جن میں سے ایک کا نشے کرنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔
اس سے قبل ترکی کے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ استنبول میں اسرائیلی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
اسرائیل نے ترکی میں اپنی سفارتی خدمات کو کم سے کم سطح تک محدود کر دیا ہے اور یہودی تہوار ’پاس اوور‘ کے دوران وہاں عملے کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی۔ انقرہ اسرائیلی سفارتخانے اور استنبول میں قونصل خانے میں سکیورٹی ہمیشہ سخت رہتی ہے، اس لیے اس حملے کے پیچھے جو بھی تھا، اس کے کامیاب ہونے کے امکانات کم تھے۔
غزہ میں جنگ آغاز سے ترکی کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات میں ڈرامائی بگاڑ پیدا ہوا ہے اور رجب طیب اردوان کی حکومت اسرائیل پر کڑی تنقید کرتی آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کوئی حقیقی تعلق موجود نہیں ہے۔ حالانکہ ماضی میں وہ قریبی شراکت دار رہے ہیں اور اب بھی دونوں کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلی جنس روابط برقرار ہیں۔