پاکستان کی سفارتی کامیابی

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور  ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامہ ای نے دو ہفتے کی عبوری جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس جنگ بندی میں اسرائیل بھی شامل ہے۔ تاہم اس کا اصرار ہے کہ لبنان میں جنگ بندی اس معاہدے میں شامل نہیں ہے جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم نے تمام علاقے میں ہر جگہ جنگ بندی پر اتفاق کی خبر دی تھی۔

پاکستان کو یہ سفارتی کامیابی ایک ایسے موقع پر  حاصل ہوئی  ہے جب امریکی صدر ایران پر خوفناک حملے کرنے اور ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے ہولناک بیانات دے رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے  منگل کی شام 8  ایسٹرن ٹائم کی حد مقرر کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کے بعد ایران میں نہ تو کوئی پل بچے گا اور نہ ہی کسی بجلی گھر کو چھوڑا جائے گا۔ دنیا میں بیشتر لوگوں کو ان خوفناک اعلانات پر عمل درآمد کا یقین تھا کیوں کہ تہران بھی جنگ بندی کے لیے کسی قسم کی لچک دکھانے میں ناکام ہورہا تھا۔   دنیا بھر میں یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ امریکہ نے اگر اپنے اعلان کے مطابق ایران پر شدید حملے  کیے تو اس سے یہ جنگ سنگین اور پیچیدہ ہوجائے گی، ایران لازمی طور سے عرب ممالک میں حملے کرکے  ’انتقام‘ لینے کی کوشش ککرے گااور دنیا کی معیشت اس غیر یقینی  صورت حال کا سامنا نہیں کرسکے گی۔

پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کے علاوہ دیگر اشیائے صرف کی فراہمی سے  پیدا ہونے والے اثرات امریکہ سمیت دنیا بھر کے ہر ملک میں محسوس کیے جارہے تھے۔ یہ جنگ اگرچہ ایران میں بمباری کی صورت میں لڑی جارہی تھی لیکن درحقیقت اس کے دھماکے پوری دنیا میں محسوس ہورہے تھے۔ ہر ملک کے شہری بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مصارف زندگی کی صورت میں اس کا بوجھ برداشت کررہے تھے۔ تاہم منہ زور اور بدکلام امریکی صدر کے سامنے کوئی بات کرنے کا حوصلہ نہیں کررہا تھا۔  حتی کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی   عضو معطل بن کر رہ گیا تھا۔ اگرچہ گزشتہ روز سلامتی کونسل میں عرب ممالک پر  ایرانی حملے روکنے کے لیے بحرین کی قرار داد کو چین اور روس نے ویٹو کردیا اور پاکستان نے ااس رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا لیکن کہیں سے یہ امید دکھائی نہیں دے رہی تھی کہ  امریکہ کو جنگ پھیلانے اور مشرق وسطیٰ کو مکمل تباہی کی طرف دھکیلنے سے کیسے روکا جائے۔ اس پس منظر میں پاکستان نے مصر اور ترکیہ کے ساتھ مل کر امن کی کوششیں جاری رکھیں۔ پاکستان نے چین کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا اور  اب صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ چین کے اثر و رسوخ ہی کی وجہ سے ایران عبوری جنگ بندی پر  آمادہ ہؤا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کو دھمکانے اور کسی بھی طرح شکست قبول کرنے پر آمادہ کرنے کےلیے  گزشتہ روز ’ایک رات میں ایرانی تہذیب کو نیست و نابود کردینے ‘ کا پیغام نشر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں کے بعد  ایرانی تہذیب نہ صرف صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی بلکہ اسے کبھی واپس بھی نہیں لایا جاسکے گا۔   سوشل میڈیا پر جاری اس پیغام کے بعد ایک طرف جنگ بندی کی امیدیں دم توڑنے لگیں تو دوسری طرف دنبا بھر میں اس پیغام کو  نسل کشی کا اعلان کہتے ہوئے سخت تنقید کی گئی۔  امریکہ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے متعدد  سینیٹرز اور ارکان کانگرس نے ٹرمپ کو پاگل شخص قرار دیتے ہوئے کام سے روکنے کی آئینی شق پر عمل کرانے کی بات شروع کردی تھی۔ ری پبلیکن پارٹی کے بعض عناصر  نے بھی اس پیغام کو ناقابل قبول قرار دیا۔ اس اعلان کے بعد اگرچہ ٹرمپ کے لیے اپنے اعلانات پر عملی جامہ پہنانا مشکل ہوچکا تھا کیوں کہ ان پر جنگی جرائم کا الزام عائد ہوسکتا تھا اور شاید کانگرس میں ری پبلیکن ارکان بھی بغاوت پر آمادہ ہوجاتے۔  تاہم  یہ تنقید ٹرمپ کو  اپنے ارادوں سے باز نہیں رکھ سکتی تھی ۔  انہیں اس بحران سے نکلنے کے لیے  ’فیس سیونگ‘ کی ضرورت تھی۔ یہ ضرورت پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے پوری کردی۔

مقررہ مدت پوری ہونے سے چار گھنٹے پہلے شہباز شریف نے ایکس پر ایک پیغام میں فریقین کو دو ہفتے کے لیے  عبوری جنگ بندی کی دعوت دی۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے حملوں کے ارادے سے باز رہنے اور ایران سے اس مدت میں خیر سگالی کے اظہار کے لیے  آبنائے ہرمز کھول دینے کی درخواست کی۔ وائٹ ہاؤس نے  اس  تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے جلد اس پر رد عمل دینے کا اعلان کیا ۔   مکمل تباہی کے اعلان کی مدت پوری ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے صدر ٹرمپ نے ایک پیغام میں عبوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس دوران انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم  شہباز شریف اور  چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے  فون پر بات چیت کی اور عبوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ ایران نے بھی  جنگ  بندی کا احترام کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے   پر  اتفاق کرلیا ہے۔ یہ جنگ بندی اگرچہ عبوری ہے تاہم واشنگٹن اور تہران سے جو اشارے موصول ہورہے ہیں، ان کے مطابق فریقین کسی وسیع تر معاہدے تک پہنچنے کے لیے بنیادی نکات پرمتفق ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے فریقین کو 10 اپریل سے اسلام آباد میں باہمی بات چیت کے لیے مدعو کیا  ہے۔  ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیر اعظم سے  فون پر گفتگو میں اس اجلاس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کردی ہے ۔اگرچہ ابھی تک امریکہ نے آمادگی ظاہر نہیں کی تھی لیکن صدر ٹرمپ کے جنگ بندی کے بارے میں پیغامات سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ امریکہ بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے  ذریعےکسی حتمی معاہدے تک پہنچنے  پر تیار ہے۔ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ   ایران کے پیش کردہ دس نکات  کسی حتمی معاہدے کا مناسب نقظہ آغاز  ہو سکتے ہیں۔ ان نکات میں ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور جوہری ہتھیاروں کے  حصول سے اجتناب کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تاہم  اس کے ساتھ ہی حتمی جنگ بندی معاہدے کے تحت  لبنان وعراق سمیت ہر جگہ جنگ بند کرنے، ایران کو دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت دینے اور تعمیر نو کے لیے مصارف ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایران معاشی پابندیاں اٹھانے اور امریکہ میں اپنے منجمند اثاثے واپس لینے کا مطالبہ بھی کررہا ہے۔

عبوری جنگ بندی کو اگرچہ حتمی معاہدے پر محمول نہیں کیا جاسکتا لیکن  ایک دوسرے کو نشانہ بنانے  میں توقف سے بات چیت کا بہتر ماحول پیدا ہوگا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ ایران کاکہنا ہے کہ امریکہ نے  دو مرتبہ معاہدے کے لیے بات چیت کے دوران  ایران پر حملے شروع کیے۔ جبکہ امریکہ کو شبہ ہے کہ ایران یقین دہانیوں کے باوجود یورینیم افزودہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں عدم اعتماد کی اس خلیج کو پاٹنا سب سے مشکل ہوگا۔  دوسری طرف جہاں تک بنیادی مسئلہ کا تعلق ہے، ایران جوہری ہتھیار بنانے سے باز رہنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کررہا ہے۔ اس کے بعد امریکہ کے پاس  ایران پر معاشی پابندیاں برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔

اس جنگ میں کوئی کامیاب اور کوئی ناکام نہیں ہؤا اگرچہ دونوں طرف سے ایسے ہی بلند بانگ دعوے کیے جارہے ہیں۔ ایران نے  البتہ اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہ کرکے عزم کا ثبوت دیا اور مسلسل بمباری اور ہلاکتوں کا سامنا کرنے کے باوجود حکومتی نظام مستحکم رکھا اور کسی حد تک اسرائیل اور عرب ممالک  میں  امریکی ٹھکانوں پر حملے کرکے اپنی مزاحمت کا ثبوت  بھی فراہم کرتا رہا۔ فریقین اس تباہی اور غیر ضروری جنگ کے بغیر بھی کسی نتیجہ تک پہنچ سکتے تھے لیکن اب پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے۔ اب سب کو مل کر مزید تقصان سے بچنے اور کسی باوقار اور قابل عمل معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس صورت حال میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور جارحانہ کردار کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن  یاہو   نے ہی صدر ٹرمپ کو ایران پر  حملے شروع کرنے  پر آمادہ کیا اور وہی مسلسل جنگ بندی کی مخالفت بھی کرتا رہا ہے۔ اب بھی وہ امن کی پاکستانی کوششوں کو کسی بھی طرح  خراب کرنے کا خواہاں ہے۔ اسی لیے لبنان  کے خلاف عسکری کارروائی جاری  رکھنے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ امریکہ ضرور اسرائیل کو لگام ڈالے لیکن اس سے پہلے ایرانی قیادت کو اسرائیلی شر انگیزی سے بچنے کے لیے غیر ضروری اشتعال سے پرہیز کرنا ہوگا۔ ایک بار امریکہ کے ساتھ حمتی  امن معاہدہ طے پاجائے تو اسرائیل کی جنگ جوئی کے بارے میں بھی عالمی سیاسی و سفارتی دباؤ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل تہران میں ملا رجیم ختم کرنے اور من پسند لوگوں کی حکومت  قائم کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس حد تک امریکہ  اپنے جنگی اہداف میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ تہران  کی موجودہ قیادت  کو بھی  امن معاہدہ کے بعد ان غلطیوں سے اجتناب کرنا ہوگا جن کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں اور اپنے ہی لوگوں میں مسترد کیا جاتا ہے۔ جنگ بندی کے بعد ایران کو مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے لیے  خطرے کے طور پر ابھر نے کی بجائے دوست اور تعاون کرنے والے فریق کا کردار کرنا چاہئے تاکہ پائیدار امن پورے علاقے میں خوشحالی اور عوامی بہبود  کا سبب بن سکے۔

اس  تنازعہ میں پاکستان ایک اہم سفارتی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے  مشکل صورت حال میں  ایران کا اعتماد بھی حاصل کیا اور امریکہ کو بھی ہوشمندی سے کام لینے پر آمادہ کیا۔ امید کرنی چاہئے کہ دو  روز بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات  مستقل امن اور کسی ایسے معاہدے  کی بنیاد بن جائیں جس سے تنازعے اور دشمنیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوسکے۔