ویل ڈن پاکستان

ایک انتہائی بگڑتی صورت حال میں پاکستان جیسا ملک جو بال بال قرضوں میں جکڑا ہے، جس کی ابھی ابھی افغانستان کے ساتھ جنگ رُکی ہے، جو چند مہینے پہلے تک بھارت کے ساتھ ایک باقائدہ جنگ لڑ چُکا ہے ۔ اور جو آئی ایم ایف کے علاوہ تمام عرب ممالک کا بھی مقروض ہے۔

اس کا ایک ممکنہ عالمی جنگ میں امن کے نہایت سرگرمی سے کام کرنا اور تقریباً غیر جانبدار رہ کے کام کرنا یقیناً ایک نہایت قابل تحسین کارنامہ ہے ۔ پاکستان کی عسکری اور فوجی قیادت نے اس بحران میں ابھی تک بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے ۔ یہاں تک کہ ایران سرکاری طور پہ پاکستان کا شُکریہ ادا کر رہا ہے۔ اور صدر ٹرمپ نے بھی رات شہباز شریف کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے۔ متحدہ عرب امارات کی ممکنہ طور پہ خواہش ہوگی کہ پاکستان اس تنازعہ میں اُن کے حق میں ایک فریق بن جائے لیکن پاکستان اُن کی یہ خواہش پوری نہ کر سکا جو راقم کی رائے میں ایک درست فیصلہ تھا۔

اسی لیے متحدہ عرب امارات نے اپنا قرض واپس مانگ لیا۔ یہ سودا راقم کی رائے میں سستا ہے۔ اور پاکستان کا انتخاب درست ہے ۔ بصورت دیگر پاکستان کو زیادہ نقصان اُٹھانا پڑتا۔ آج رات ہونے والی فائر بندی بھی پاکستان کی انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ٹویٹ ہمارے وزیراعظم سے کروائی گئی ہے اور ایک محفوظ راستہ نکالا گیا ہے ۔ غالب امکان یہی ہے کہ تجویز امریکہ کی طرف سے آئی ہوگی۔ کیونکہ ایرانی تو سب سڑکوں پہ تھے۔ کسی ڈر یا خوف کا اظہار نہیں کر رہے تھے ۔ صدر ٹرمپ بڑے بڑے بول بول چُکے تھے۔ جس سے ساری دُنیا میں اُن پہ تنقید ہو رہی تھی ۔ اور اپنی تمام تر طاقت کے باوجود اور اتنی جانوں کے ضیاع کے باوجود بھی ایران کو شکست نہ دی جا سکتی تو؟

اور اس بات کا امکان موجود تھا۔ اس لیے راقم کی رائے میں امریکہ کی طرف سے اس ٹویٹ کا کہا گیا ہوگا۔ اور پاکستان کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں ۔ اور امریکہ اور چین سے بھی۔ چین کے ساتھ بات چیت میں بھی پاکستان دوبارہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ بہر حال وجہ کچھ  بھی ہو یہ عمل علاقے میں پاکستان کی اہمیت واضح کرتا ہے اور اس میں پاکستان کے لیے خیرِ مستور یہ ہے کہ جنگ پھیلنے کا پاکستان کو بے حد نقصان ہوتا۔ پھر پاکستان کو سعودی عرب کا ساتھ دینا پڑتا اور ایران سے لڑائی۔ یہ انتہائی ناپسندیدہ صورت حال ہوتی ۔ پاکستان کو ابھی بھی ایسی کسی بھی صورت حال سے بچنے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا ہے جو جھوٹی خبریں بنانے اور پھیلانے میں طاق ہے اور اس کوشش میں ہے کہ کسی نہ کسی صورت میں پاکستان کی بدنامی ہو ۔ پاکستان ناکام ہو اور وہ تالیاں بجائیں ۔ ساری دُنیا پاکستان کے رول کی تعریف کر رہی ہے لیکن یہ طبقہ اس پہ کالک پھیرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ مؤقف کیا اختیار کرنا ہے کہ ایران کی حمایت کے لیے تنقید کی جائے لیکن وہاں تو ایران پاکستان کا شُکریہ ادا کر رہا ہے ۔ کبھی عرب ملکوں کی طرف ہوتے ہیں ، یو اے ای کے قرض واپس مانگنے پہ خوشیاں مناتے ہیں ۔ اسحاق ڈار صاحب کے دورہ چین کے دوران نہایت جھوٹی خبریں بناتے ہیں پھیلاتے ہیں ۔ تاکہ اس رجیم کو گندا کیا جا سکے۔ لیکن بھول جاتے ہیں کہ یہ رجیم پاکستان کا اس وقت چہرہ ہے۔ حکومت میں کیسے آئے وہ الگ موضوع ہے لیکن حقیقت موجود یہی ہے کہ وہ پاکستان سے باہر پاکستان کا چہرہ ہیں ۔ کسی کو اچھا لگے یا بُرا۔

اور اگر جنگ بندی مستقل ہوگئی تو تاریخ میں نام اسی پاکستانی قیادت کا آئے گا۔ لہذا آپ جتنا مرضی فیک نیوز سے پاکستان کو گندا کر لیں حقیقت یہی رہے گی۔ صدر ٹرمپ کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ صبح تہذیب کو تباہ کرنے کی بات کرتے ہیں اور شام کو جنگ بندی کا اعلان ۔ ایک دن ایک بندے کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں تو دوسرے دن بے عزتی۔ وہ کسی قانون اور ضابطے کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ عالمی اداروں تک کو تباہ کر چُکے ہیں ۔ لیکن پھر بھی ایک مُستقل جنگ بندی اور امن کی اُمید کرنا غلط نہیں ۔ آئیے ہم سب مستقل امن کی دُعا کریں ۔ آمین