بڑھتی تفریق و تقسیم اور مایوسی

ہمارا معاشرہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ تقسیم افقی سمت میں بھی ہے اور عمودی طور پر بھی ہو چکی ہے۔ تقسیم در تقسیم کا یہ عمل ایک عرصے سے جاری ہے۔  مذہبی طور پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر، لسانی بنیادوں پر،صوبائی عصبیت کی بنیادوں پر ہمارے ہاں تقسیم کا عمل جاری ہے۔

امریکی سی آئی اے نے عرب و عجم کی تفریق کو وسیع کرنے اور فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرنے اور اسے خونی بنانے میں خوب کام کیا۔ جب داعش نے امریکیوں کے سکھائے گئے کمیونیکیشن سسٹم کے استعمال کے ذریعے اپنا فکری اثر و رسوخ مغرب تک پھیلانے کی کامیاب کاوشیں کیں تو پھر سی آئی اے نے داعش کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا لیکن داعش اس وقت تک ایک قوت بن چکی تھی۔

ہمارے ہاں معاشرتی سطح پر بھی ایسی ہی فرقہ وارانہ تقسیم پائی جاتی ہے۔ سیاسی سطح پر ہم پنجابی، بلوچی، پٹھان، مہاجر، سندھی، سرائیکی میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہماری قومی سیاست میں یہی چلن ہے۔ لسانی بنیادوں پر قومیتی تعصب نے بنگالیوں میں علیحدہ وطن کی تحریک کو تقویت دی تھی جو بالآخر سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوئی۔ باقی ماندہ پاکستان میں قومیتوں کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ سندھ میں لسانی بنیادوں پر تقسیم بڑی واضح ہے۔ بلوچستان میں بھی ایسے ہی مسائل ہیں۔ پنجاب میں ذاتیں برادریاں مکمل طور پر فعال ہیں۔ کشمیری، ارائیں، جاٹ، گجر، راجپوت وغیرہ ہم سیاست و ثقافت میں اہم عامل جانے اور مانے جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد گزرے 78سالوں کے دوران معاشرتی، ثقافتی و سیاسی حالات میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں سب سے اہم تبدیلی آبادی میں اضافہ ہونا ہے۔ آبادی میں اضافے کو ہم قومی تعمیر و ترقی کا عامل بنانے میں ناکام ہیں۔ہماری افزائش آبادی کی شرح خطے کے ممالک کے حوالے سے بلند ہے جبکہ معاشی نمو کی شرح مقابلتاً پست ہے جس کے باعث ہمارے ہاں تعمیر و ترقی کا وہ دور شروع نہیں ہو سکا جو ہونا چاہیے تھا ۔

ہم قدرتی وسائل کے حوالے سے انعام یافتگان میں شمار کئے جاتے ہیں لیکن ہم قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کواپنی ترقی کے لئے اسعمال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ہماری جغرافیائی حیثیت بھی ایک نعمت ہے۔ہم اسے بھی اپنے قومی مفادات میں اچھے طریقے سے استعمال نہیں کر سکے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا نظم سیاست و ریاست مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہو سکا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے مسائل حل نہ ہونے کے باعث معاشرتی تفریق و تقسیم بڑھتی چلی گئی  اور اب یہ صورت ہوگئی ہے کہ مڈل کلاس تقریباً ناپید ہو چکی ہے اور معاشرے میں غریب اور امیر صرف دوطبقات ہی باقی رہ گئے ہیں۔ ایک طرف اشرافیہ ہے جو انتہائی قلیل تعداد میں ہے لیکن جاری نظام حاکمیت کے باعث وہ طبقہ مقتدر ہے ۔ذرائع پیداوار کے ساتھ ساتھ دولت کی پیدائش کے ذرائع پر قابض ہے۔ اس کے ساتھ جڑے ہوئے صاحبانِ اقتدار اس کے مفادات کے امین ہیں۔ اشرافیہ کے مختلف طبقات اور گروہوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے۔ یہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مفادات لیتے ہیں عوام پستے رہتے ہیں۔ ایسے ہی مفاد یافتہ اور مراعات یافتہ افراد کے درمیان ایک غیر مرئی سمجھوتہ ہے جو اب نظر آنے لگا ہے کہ یہ طبقات عوام کا خون چوستے چوستے کس قدر طاقتور ہو چکے ہیں اور عوام نڈھال ہو چکے ہیں۔

عوام یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگیاں کرتے کرتے نڈھال ہو چکے ہیں۔بجلی کا کوئی بھی بل اٹھا کر دیکھ لیں استعمال شدہ بجلی کی قیمت کے ساتھ ساتھ بارہ تیرہ قسم کے ٹیکس اس میں شامل نظر آئیں گے۔ استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے زیادہ ٹیکسوں کا حجم ہوگا۔ ٹیکس ظالمانہ اور غیر منطقی ہیں۔ صارف بجلی کے میٹر کی قیمت خود ادا کرتا ہے لیکن بل میں ہر ماہ اسی میٹر کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے۔ اب تو حکومت نے ایک نئے ٹیکس کا اضافہ کر دیا ہے کہ ہرصارف ایک فکس ٹیکس بھی ادا کرے گا ۔یہ ٹیکس کیا ہوتا ہے کسی کتاب میں اس قسم کے ٹیکس کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ یہ صرف بلوں میں پایا جاتا ہے۔

سرکاری نظام اس حد تک ناکارہ ہو چکا ہے کہ وہ نہ تو عالمی زرعی اداروں کے تفویض کردہ ٹیکسوں کے اہداف پورے کر پا رہا ہے جس کی واضح مثال جاری مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کے شارٹ فال میں ملتی ہے۔ اور نہ ہی عامتہ الناس کے مفادات کی نگہبانی کر پا رہا ہے۔ اس کی مثال پٹرول کی قیمت میں 137روپے فی لٹر اضافہ تھا جسے عوامی احتجاج پر 80روپے  کر دیا گیا ہے۔ حکمران کی سوچ عوامی مفادات کے لئے کچھ کرنے کی بجائے اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور عالمی اداروں کے احکامات کی بارآوری کے لئے مختص ہو چکی ہے۔ عوامی مسائل برھتے جا رہے ہیں۔ عام شہری نظام سے مکمل طور پر مایوس ہو چکا ہے اسے کسی بھلائی کی توقع نہیں ہے۔ مایوسی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)