اسرائیل کے لبنان پر حملے خطے میں امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں: پاکستان
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدامات خطے امن اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، پاکستان لبنان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلفونک گفتگو ہوئی جس میں فریقین نے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا گیا، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نے پاکستان کی امن و استحکام کے فروغ کے لیے کوششوں میں مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش ظاہر کی۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی کے مکمل احترام اور عملدرآمد پر زور دیا، دونوں رہنمائوں نے خطہ میں امن اور استحکام برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل کی جانب سے لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے فوری طور پر کارروائیاں بند کرنے کی اپیل کی ہے۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں شہری بشمول بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، اور ساتھ ہی شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں فوجی سرگرمیاں جنگ بندی اور خطے میں پائیدار اور جامع امن کی کوششوں کیلئے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی لبنان پر تاریخ کے شدید ترین حملے کیے گئے جس میں 254 افراد شہید اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان پر اسرائیل کی جانب سے 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے کئے گئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران سے ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اعلان میں واضح طور پر لبنان کا ذکر بھی کیا تھا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی لبنان میں جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، لبنان کے وزیر اعظم نے لبنان اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے حملوں کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔
لبنان کی سماجی اُمور کی وزیر نے کہا ہے جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے لبنان کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔ بی بی سی سے گفتگو میں سماجی اُمور کی وزیر حنین سید کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لبنان کو جنگ بندی کی شرائط میں شامل کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔