امن مذاکرات، امیدیں اور خدشات
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 09 / اپریل / 2026
پاکستانی وزیر اعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی ان تھک محنت سے ایران اور امریکہ کے درمیان فوی جنگ بندی تو ہوگئی اور اب دوونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی وفود جمعہ کی شام تک اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں سخت سکیورٹی انتظامات ہورہے ہیں۔ اس موقع پرامن کی مخالف قوتوں کی جانب سے کسی اندیشے اور شرارت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لیے پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہوگی۔
جنگ بندی کا فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کی فوری ضرورت تھا مگر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی خواہش کے خلاف تھا۔ البتہ ٹرمپ کو اپنی سیاسی ساکھ اور ضرورتوں کا خیال رکھنا تھا۔ دلدل میں پھنسی گردن کو نکالنے کے لیے منگل کی رات شہباز شریف کا ایکس پر ایک پیغام اہم مگر ضروری راستہ ثابت ہؤا۔ سفارتی معاملات میں جب کوئی سربرا ہ حکومت براہ راست سوشل میڈیا پر کوئی تجویز پیش کرتا ہے تو اس کے پیچھے سخت محنت اور کسی حد تک پیشگی حاصل کی گئی ضمانتیں شامل ہوتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ضرور اس معاملہ میں استثنا حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں جو چاہیں اپنے ہی ٹروتھ سوشل پر بیان کرکے کہیں آگ اور کہیں تباہی کا پیغام دے دیں۔ البتہ بیشتر سیاسی لیڈر اور حکومتیں اس بارے میں محتاط رویہ اختیار کرتی ہیں اور پھونک پھونک کر قدم رکھا جاتا ہے۔
ایران پر امریکی حملہ شاید حالیہ تاریخ کا سنگین ترین وقوعہ تھا جس کا نہ تو کوئی جواز تھا اور نہ ہی اس کے واضح اہداف تھے۔ اب عالمی میڈیا اس بات پر متفق دکھائی دیتا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ٹرمپ کو قائل کیا کہ حملے کے پہلے چند گھنٹوں میں اگر ایران کی اعلیٰ قیادت ہلاک کردی جائے تو تہران میں اپنی مرضی کی حکومت لائی جاسکتی ہے۔ اس سے اسرائیل کو ایک اہم ملک پر براہ راست دسترس حاصل ہوجاتی اور امریکہ کے لیے ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کا ایسا خواب پورا ہوجا تا جس کے لیے 1953 سے سازشیں کی جاتی رہی تھیں۔ جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مودورو کو اغوا اور وہاں من پسند حکومت قائم کرکے دنیا میں تیل کے سب سے بڑے معلوم ذرائع پر امریکی حکومت قابض ہو چکی تھی۔ ایرانی تیل کے کنٹرول کا خواب دیکھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی آنکھیں ضرور چمکنے لگتی ہوں گی۔ اسی لیے نیتن یاہو کے لیے انہیں اس جنگ جوئی پر آمادہ کرنا مشکل نہیں تھا۔
اندازوں اور منصوبہ کے مطابق پہلے ہی روز ایران کے رہبر اعلیٰ سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو ختم کردیا گیا۔ البتہ اس کے نتائج حسب توقع نہیں تھے۔ تہران میں حکومت تبدیل نہیں ہوسکی اور شدید بمباری کے باوجود ایرانی قیادت نے ہتھیار پھینکنے سے صاف انکار کردیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ ایرانی تہذیب نیست و نابود کرنے اور بجلی گھروں و پلوں کو تباہ کردینے کی دھمکیوں پر اتر آئے۔ ایسا کوئی بھی قدم مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتا لیکن ٹرمپ طاقت کے نشے میں کسی اصول یا ضابطے کو نہیں مانتے۔ سوشل میڈیا پر بلند بانگ الفاظ کے ساتھ مسلسل لمبی لمبی ہانکنے کی عادت نے انہیں ایک ایسی بند گلی میں داخل کردیا جس سے نکلنے کا راستہ موجود نہیں تھا۔ پاکستان کی ہوشمندانہ سفارت کاری اور شہباز شریف کے جنگ بندی کے لیے بروقت پیغام نے اس مشکل سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا جسے واشنگٹن اور تہران نے غنیمت جانا۔
یہ بحث بے معنی ہے کہ جنگ بندی والے پیغام سے پہلے پاکستانی لیڈر واشنگٹن اور تہران میں کس کس سے رابطے میں تھے اور کب اور کیسے ایکس پر پیغام لکھنے کا فیصلہ ہؤا۔ یہ واضح ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ اور ایرانی حکومت سے پیشگی اتفاق رائے حاصل نہ کیا ہوتا تو شہباز شریف یہ پیغام بھی جاری نہ کرسکتے۔ سفارت کاری کا یہ پہلو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہونی چاہئے۔ ایسے رابطے کسی ثالث ملک کی کمزوری کی بجائے اس کی اہمیت اور سفارتی طاقت کو واضح کرتے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا تھا جس پر واشنگٹن اور تہران کے علاوہ ریاض اور بیجنگ بھی اعتبار کرتے تھے۔ ان کوششوں میں پاکستان کو ترکیہ ، مصر ، عمان اور قطر کی مکمل اعانت و حمایت حاصل تھی۔ یورپی ممالک امریکہ کے ساتھ قریبی تعلق کے باوجود اس ہولناک جنگ کو رکوانے میں کردار ادا نہیں کرسکے۔ اسی لیے اب پوری دنیا اپنے اپنے انداز میں پاکستانی سفارت کاری کی توصیف کررہی ہے۔ فرانس سمیت یورپی حکمران شہباز شریف کو مبارک باد کے پیغامات بھیج رہے ہیں اور اسرائیل کی طرف سے اس جنگ بندی کوناکام بنانے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسرائیل کے لیے جنگ بندی ناقابل قبول تھی۔ وہ ایران پر مزید تباہی مسلط کرنا چاہتا تھا تاہم اس راستے پر چلتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اپنی سیاست کو اندیشے لاحق ہونے لگے تھے۔ عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کی وجہ سے امریکہ کا عالمی امیج تباہ ہورہا تھا۔ ٹرمپ کے لیے جنگ بندی بے حد اہم تھی۔ شاید اسی لیے جنگ بندی پر اتفاق رائے سے پہلے صدر ٹرمپ کسی دیوانے کی طرح خوفناک بیانات دینے لگےتھے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید اس طرح ایرانی لیڈروں کو خوفزدہ کیا جاسکے۔تہران کے حکمران تو متاثر نہیں ہوئے البتہ دنیا بھر میں منگل کی رات مسلط ہونے والی ممکنہ تباہی کے تصور سے شدید پریشانی اور خوف کا سماں تھا۔ اس خوف میں شہباز شریف اور حکومت پاکستان نے امید کی کرن روشن کی ہے۔ اسی پر انہیں دنیا سے داد بھی مل رہی ہے۔
جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی اسرائیل نے لبنان میں شدید حملے کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں دو سو سے زائد لوگوں کو ہلاک کیا۔ یہ تل ابیب کی طرف سے ایران کو مشتعل کرنے اور مذاکرات سے منکر ہوکر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اکسانے کی کوشش تھی۔ شہباز شریف جنگ بندی سے متعلق اپنے پیغام میں بتا چکے تھے کہ سیز فائر ایران کے علاوہ علاقے کے تمام ممالک پر لاگو ہوگی ۔ ان میں لبنان بھی شامل تھا۔ البتہ اسرائیل کی منہ زوری کا مان رکھنے کے لیے امریکی حکومت کے نمائیندوں نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ لبنان پر جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ایرانی لیڈروں نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے نہ مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کیا اور نہ ہی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی لیکن دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دنیا کے سب ممالک نے اس اسرائیلی ہتھکنڈے کو مسترد کیا اور اسے امن معاہدے کے خلاف سازش کہا گیا۔ اسی عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ اب نیتن یاہو لبنان سے جنگ بندی کا معاہدہ کرنے کی بات کررہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یقیناً واضح کیا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے میں سنجیدہ ہے، اسرائیل اسے خراب کرنے کی کوشش نہ کرے۔
اسے دنیا کی خوش قسمتی سمجھنا چاہئے کہ امن کی کوششوں کو تارپیڈو کرنے کی یہ اسرائیلی کوشش فی الوقت ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ البتہ اسلام آباد میں ہفتے کو شروع ہونے والے مذاکرات بھی آسان نہیں ہوں گے۔ تہران کو اپنے ہاں انتہا پسند عناصر کے دباؤ سے نکل کر مناسب شرائط پر مستقل امن پر آمادہ ہونا چاہئے۔اسی کے ساتھ امریکہ کو بھی جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ضمانتیں حاصل ہونے کے بعد ایران پر معاشی پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کرنا چاہئے۔ تاہم امریکی حکومت میں بھی شدت پسند عناصر کی کمی نہیں ہے جو مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک دوسرے براہ راست بات چیت کرنے والے امریکی و ایرانی وفود کو تعصبات اور ماضی کی غلط فہمیوں کو پس پشت ڈال کر کھلے دل سے ایک دوسرے کے احترام پر مبنی رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ اسی طرح امن کے لیے کوئی معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ کام بے حد مشکل ضرور ہے لیکن پانچ ہفتے کی جنگ نے امریکہ اور ایران پر واضح کردیاہے کہ اس کے سوا ان کے پاس اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔
اسرائیل اس تنازعہ میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کو اب اسرائیل کے بارے میں اپنا طرز عمل تبدیل کرنا چاہئے۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے سے نہ تو یہ ریاست ختم ہوگی اور نہ ہی اس کا اثر و رسوخ ختم ہوگا۔ اس کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار رکھنے سے مسلسل یہ اندیشہ رہے گا کہ وہ کسی بھی وقت امن کی کوئی بھی کوشش ناکام بنا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر پاکستان اور سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہوں اور اس کے ساتھ مواصلت کا سلسلہ شروع ہوسکے تو اسرائیل کو سکیورٹی کی ضمانت مل سکتی ہے اور مسلمان ممالک فلسطینیوں کے لیے کوئی رعایات حاصل کرسکتے ہیں۔