اسلام آباد مذاکرات

آج اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ یہ بات بجائے خود لائق تحسین ہے کہ جب دُنیا ایک ایسی جنگ کے دہانے پہ کھڑی تھی جس سے مزید ہلاکتیں اور تباہی ہوتی تو پاکستان کچھ دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کے جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

اور پھر مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات بھی اسلام آباد میں ہو رہے ہیں ۔  دُنیا بھر میں ہر طرف پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی تعریف ہو رہی ہے۔ پاکستان نے اس جنگ کے آغاز سے ہی اسے رکوانے کی کوششیں جاری رکھیں ۔ پہلے انفرادی طور پہ اور پھر چند دوست ممالک کے تعاون سے ۔ اسلام آباد میں چار دوست ممالک کی میٹنگ کروائی ۔ اسحاق ڈار صاحب چین گئے اور چینی حکام سے ملاقات کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں رہے۔ شہباز شریف   نے ایرانی رہنماؤں کو متعدد ٹیلیفون کیے۔ یعنی یہ تینوں صاحبان مسلسل بھاگ دوڑ میں رہے ۔

پھر آخر میں شہباز شریف صاحب نے ٹویٹ کی ۔ اس طرح کے بیانات out of blue نہیں دئے جاتے ۔ اس کے لیے دونوں فریقین سے رابطے ہو چکے ہوتے ہیں اور کسی ایک نکتے پہ اتفاق ہو چُکا ہوتا ہے ۔ اور پھر ایسے بیانات دئے جاتے ہیں ۔ ٹویٹ بھی یقیناً ایران اور امریکہ کی رضامندی سے کی گئی ہوگی۔ اور اسی کا نتیجہ جنگ بندی اور آج کے مذاکرات ہیں ۔ اب ان مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، اس سے قطع نظر یہ بات تاریخ میں لکھی جا چُکی ہے کہ ان تینوں افراد کی انتھک کوششوں کی بدولت جنگ بندی ہوئی اور ایران اور امریکہ کے براہ راست مذاکرات ممکن ہوئے۔

یقیناً اس سارے معاملے میں صرف ایک یہی پہلو کارفرما نہیں بلکہ میدان جنگ میں ہونے والے واقعات اور آبنائے ہُرموز کی بندش کی وجہ سے عالمی معاشی بُحران اور پاکستان کے اپنے مفادات بھی شامل ہیں ۔ لیکن انسانی سطح پہ یہ کام کسی نہ کسی نے تو کرنا تھا اور یہ کردار پاکستانی قیادت نے بطریقِ احسن ادا کیا۔ آج کے مذاکرات میں میدان جنگ کی برتری کے ساتھ کون بیٹھے گا؟ راقم کی رائے میں وہ ایران ہوگا۔ جو غیر متوقع طور پہ انتہائی سخت جان ثابت ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس جنگ شروع کرتے ہوئے جو دعوے کیے تھے، اُن میں سے کچھ بھی پُورا نہیں ہوا۔ نہ ایران میں رجیم چینج ہوا۔ ان کی سیاسی اور عسکری کمان کے اعلیٰ عُہدیدار شہید کر دئے گئے۔ لیکن ان کی جگہ فوراً پُر کر دی گئی۔ شخصیات کی تبدیلی کے باوجود نظام وہی ہے۔

ایران کے حصے بخرے کرنے کے بھی دعوے کیے گئے۔ ایران اپنی پوری آب و تاب سے موجود ہے اور امریکہ کی ہر بات کا تُرکی بہ تُرکی جواب دیتا ہے۔ پھر خلیج میں امریکی اتحادیوں کا امریکہ پہ اعتماد کم ہوا ہے۔ امریکہ کا جانی و مالی نقصان ہوا۔ نیٹو اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کو بے اثر کرنے میں امریکہ کا رول سامنے آیا۔ اندرون ملک اس جنگ کی شدید مخالفت سامنے آئی ۔ اور صدر ٹرمپ کا ایک ایسے صدر کے طور پہ امیج سامنے آیا جس پہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ جو مذاکرات کے عین درمیان میں دوسرے ملکوں پہ حملہ کر سکتا ہے۔ الغرض ایران کو فوجی لحاظ سے شدید نقصان پہنچانے کے باوجود امریکہ ان مذاکرات کا کمزور فریق ہے۔

آج کے مذاکرات ایران کے دس اور امریکہ کے پیش کردہ پندرہ نکات کی بنیاد ہو رہے ہیں ۔ دونوں میں بُعدالمشرقین ہے ۔ اس لیے یہ کوئی آسان پروجیکٹ نہیں ہوگا۔ اور نہ ہمیں اُمید کرنی چاہئے کہ آج شام تک کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ اس میں دن اور ہفتے بھی لگ سکتے ہیں ۔ ڈیڈلاک بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے مذاکرات ناکام بھی ہو جائیں ۔ یہ تمام ممکنہ مناظر ہیں ۔ چند نکات تو ایسے ہیں جن پہ ابتدائی طور پہ اتفاق کیا جاسکتا ہے جیسے یورینیم کی افزودگی ، ایرانی پراکسیز کا خاتمہ ، ایران پہ دوبارہ حملہ نہ کرنے کی گارنٹی ، آبنائے ہُرموز کھولنا، ایران پہ معاشی پابندیاں ہٹانا وغیرہ ۔ لیکن فریقین اگر اس بات پہ ہی متفق ہو جائیں کہ دوبارہ جنگ نہیں کریں گے اور مذاکرات جاری رکھیں گے تو یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔

بحیثیت میزبان پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ مذاکرات کو ناکام نہ ہونے دے اور کوئی نہ کوئی ایسا سمجھوتہ کروا لے کہ جنگ دوبارہ نہ ہو۔ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اب سخت پرچہ آیا ہے۔ لیکن دیرپا امن کے لیے اصل سوال امریکہ اور اسرائیل کی نیت اور ایران کی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی خواہش کا ہے۔ کیا فریقن ان میں کوئی مثبت تبدیلی لائیں گے۔ ؟ اس سوال کا جواب وقت دے گا۔