دنیا اسلام آباد سے اچھی خبر کی منتظر
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 11 / اپریل / 2026
آج دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر ہیں، کروڑوں نہیں، بلکہ اربوں لوگ اسلام آباد سے اچھی خبر کے منتظر ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت کم مواقع آئے ہیں کہ جب کوئی ایک ملک اِس طرح عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہو۔امریکہ کے لئے شاید پہلی بار مذاکرات کے لئے ایک اسلامی ملک کا انتخاب کرنا مجبوری بن گیا ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں جو کامیاب ڈپلومیسی اختیارکی ہے، اُس کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر ٹاپ ون پوزیشن اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ نے اپنے اختلافی معاملات کو حل کرنے کے لئے نیو یارک کو ایک ایسا شہر بنایا ہوا ہے،جہاں دشمن ممالک کے وفود بھی مذاکرات کے لئے آتے ہیں،مگر یہ واحد معاملہ ہے جب ایران نے امریکہ سے،امریکہ میں مذاکرات کرنے سے انکار کیا۔اِس وقت دنیا پر نظر ڈالی جائے تو دوسرا کوئی ملک نظر نہیں آتا جو ایران اور امریکہ کی اس وقت میزبانی کا بار اُٹھا سکتا ہو۔کسی پر امریکہ کو تحفظات ہیں اور کسی پر ایران کو،پھر ان مذاکرات میں جو نازک مقام آ سکتے ہیں اُن میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں ممالک اُس کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے،دنیا بھر کا میڈیا اس پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ تاہم ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک جس سوچ بچار کے بعد ان مذاکرات میں شریک ہو رہے ہیں،اُس کا مثبت نتیجہ ضرور نکلے گا اور امکان یہی ہے کہ اسلام آباد معاہدہ ہو جائے۔ اس طرح اسلام آباد کا نام اسلام سمیت تاریخ کے صفحات پر رقم ہو جائے گا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اِن مذاکرات کے لئے آنا اِس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کو کتنی اہمیت دیتا ہے دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی ان مذاکرات کے لئے آئے ہیں۔ پاکستان کے کردار کو دنیا کے بڑے ممالک بھی سراہ رہے ہیں۔فرانس، ترکی، اٹلی، چین اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کر کے ایک اہم کردار ادا کرنے پر مبارکباد دی ہے۔مذاکرات کامیاب ہونے کی اُمید اِس لئے بھی ہے کہ امریکہ ایران کو شکست دینے کے لئے پورا زور لگا چکا ہے۔اب اُس کے پاس صرف یہی آپشن تھا کہ وہ ایران کی شہری آبادی کو نشانہ بنا کے لاکھوں ایرانی شہید کر دے،مگر اس کے بعد فتح کا امکان نہیں تھا۔ایرانی قوم شکست نہ ماننے کا تہیہ کر چکی ہے۔ایسی صورت میں امریکہ اگر لاکھوں لوگوں کو مارتا ہے تو یہ اُس کے لئے ہیرو شیما سے بھی زیادہ شرمناک واقعہ ہو گا۔اس کے بعد وہ دنیا کو اَمن اور سلامتی کا سبق کس منہ سے دے سکے گا؟ یہ ایک بڑا سوال ہے،جس پر شاید ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے ساتھی ضرور سوچ رہے ہوں گے۔
اب تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان مذاکرات کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک محفوظ راستہ دیا گیا ہے کہ وہ اُس تنگنائے سے نکل آئیں جس میں پھنس گئے ہیں۔ اس پر یقین کرنے کو اس لئے جی چاہتا ہے کہ آخری دِنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جو مایوسانہ بیان آئے وہ ایک جھنجھلائے ہوئے شخص کا بیانیہ لگ رہے تھے۔وہ مسلسل ایران کو دھمکیاں دے رہے تھے اور مغلظات بھی اُن کی زبان کا حصہ بن چکی تھیں۔جب جنگی حکمت عملی کے سارے آپشنز ختم ہو جائیں تو پھر ایک زبان ہی بچتی ہے۔مگر کسی نے کیا خوب کہا ہے انگریزی میں اتنی وسعت نہیں جتنی فارسی میں ہے،اِس لئے امریکہ کے صدر کو ایرانیوں کے ٹھہرے ہوئے مدلل جواب مزید مایوس کرتے رہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر اپنی دھمکی پر عمل کر گزرتے اور ڈیڈ لائن کے بعد ایران کی تہذیب مٹانے کے اپنے احمقانہ منصوبے پر عمل کر بیٹھتے تو آج صورتحال کیا ہوتی۔ پوری دنیا امریکہ کے حملے کی مذمت کر رہی ہوتی اور ایران پھر بھی اپنے عزم و حوصلے پر قائم رہتا ۔ اِس لئے اُمید یہی ہے کہ امریکہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی برتر فریق بن کر شریک نہیں ہو گا بلکہ اُسے ایران کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بیٹھنا ہو گا۔دونوں ممالک ایک دوسرے کی شرائط سے آگاہ ہیں اور دونوں ہی یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ ان پر کہاں کہاں لچک دکھائی جا سکتی ہے۔ مذاکرات میں سب سے اہم نکتہ یورینیم کی افزودگی کا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے گویا اپنی یہ ضد بنا لی ہے کہ ایران کو یورینیم کی صلاحیت سے محروم کرنا ہے جبکہ ایران کا مسلسل اصرار ہے کہ وہ پُرامن مقاصد کے لئے اپنا پروگرام جاری رکھنا چاہتا ہے۔
یہ اختلاف مذاکرات میں کس طرح دور ہونا ہے اس پر بات کی جا سکتی ہے،شاید کسی موقع پر پاکستان بھی اس میں کوئی کردار ادا کر سکے۔یہ بات تو امریکی حکام کو بھی اچھی طرح معلوم ہو گی کہ اس سے بہتر مذاکرات کا موقع پھر کبھی نہیں ملے گا۔ اگر اسے گنوا دیا جاتا ہے تو پھر ایک بڑی تباہی سے گزرنا ہو گا۔دوسری جانب ایرانی قیادت بھی ان مذاکرات کو بڑی اہمیت دے رہی ہے۔اُس کے پاس بھی ایران کو برسوں کی پابندیوں اور تنہائی سے نکلنے کا ایک اچھا موقع ہے۔ اس سے پہلے ایران اور امریکہ کے درمیان جو مذاکرات ماضی میں ہوتے رہے ہیں،اُن کے پیچھے ایک بڑی جنگ کا پس منظر نہیں تھا۔اس بار دونوں ممالک کے درمیان ایک تباہ کن جنگ چھڑی جس پر ایران کا بھی بہت نقصان ہوا اور ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں، نیز اسرائیل کو نشانہ بنا کر پورا پورا بدلہ لیا۔
جب دنیا بھر کی نظریں کسی ایونٹ پر ہوں تو کسی شعبدہ بازی کے ذریعے کوئی ملک یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ تو معاہدے کے لئے تیار تھا مگر دوسرے فریق نے آمادگی ظاہر نہیں کی۔امریکی وفد کی طرف سے بہترین عمل تو یہی ہو گا کہ وہ امریکی حملے میں آیت اللہ خامنہ اور دوسری سینئر قیادت کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرے، مگر شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی اَنا کے باعث ایسا نہ ہو سکے۔امریکہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو اُس کے پاس سوائے اِس کے کوئی اور راستہ نہیں بچتا کہ وہ دوبارہ حملے شروع کر دے۔مگر ساتھ ہی اُسے یہ بھی احساس ہے کہ کوئی بھی امریکی حملہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے نہیں روک سکتا،اُس کے بحری جہاز اور پاسدارانِ انقلاب اب بھی وہیں موجود ہیں۔
ایران کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ امریکہ ایران پر حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرے۔اس مطالبے میں لچک پیدا کی جا سکتی ہے اور اس کا ایک راستہ یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ امریکہ ایرانی تیل پر لگائی گئی پابندیاں اُٹھا لے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مقابلے کی وجہ سے مستحکم ہو جائیں۔دونوں ممالک اگر ان مذاکرات کو کئی دہائیوں پرانی دشمنی کو ختم کرنے کا ایک موقع بنا لیں تو یہ ایک ایسی کامیابی ہو گی جو دنیا کے حالات بدل دے گی۔ پوری دنیا ایسی ہی خبر کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)