امن معاہدے کا ایک اہم موقع ضائع ہوگیا
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 12 / اپریل / 2026
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ نہیں ہوسکا۔ امریکی وفد کے قائد نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی ہماری حتمی شرائط ماننے پر آمادہ نہیں تھے اس لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ جبکہ ایران وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایک نشست میں معاہدہ ہونے کا امکان نہیں تھا۔
اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں اکیس گھنٹے تک جاری رہنے والے امن مذاکرات سے براہ راست کوئی معلومات کسی میڈیا کو حاصل نہیں تھیں۔ پاکستان نے بات چیت کو خفیہ رکھنے اور فریقین کو اعتماد سازی کامکمل ماحول فراہم کرنے کے لیے حتی المقدور کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ کیوں کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا اور شبہ کی فضا موجود تھی۔ اس کا اظہار بعد میں نائب صدر وینس اور ایرانی ترجمانوں کے بیانات سے بھی کیا جاسکتا ہے۔
کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے بارے میں ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایک نشست میں کوئی معاہدہ ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے بات چیت ختم ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعدبے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے‘۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر جنگ میں ملوث کسی ملک کا مذاکراتی وفد پہلے سے یہ سوچ کر آیا ہو کہ ایک نشست میں فیصلہ نہیں ہوسکتا تو ایسے مذاکرات کے نتائج بھی مایوس کن ہی ہوں گے۔ اس کے باوجود ایران ماضی کی طرح مذاکرات کی مثبت سمت کا اشارہ دے رہا ہے جبکہ امریکی وفد نے معاہدہ نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
امریکی وفد کے قائد نائب صدر جے ڈی وینس نے آج صبح امریکہ واپس روانہ ہونے سے قبل ایک مختصر پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے ان مذاکرات کو بیک وقت مثبت اور منفی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ اچھی خبر یہ ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوئی۔ اور بری خبر یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہیں پایا‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے بری خبر ہے۔ امریکی وفد بنا کسی معاہدے پر پہنچے واپس جا رہا ہے۔ اس گفتگو سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا تھا لیکن ایرانی کوئی حتمی وعدہ کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ امریکی نائب صدر نے اکیس گھنٹے پر محیط مذاکرات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ایران یہ وعدہ کرنے میں ناکام رہا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔ یہ آمادگی ابھی تک ہمیں نظر نہیں آئی‘۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایرانی وفد جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے ارادے سے باز رہنے کا وعدہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان شدید اختلافات، جنگ کی صورت حال اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اور اشتعال انگیز بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو مذاکرات کی ناکامی کے بعد نائب صدر کی گفتگو امریکی رویہ میں مثبت تبدیلی لگتی ہے۔ وینس نے میڈیا سے بات بھی نپی تلی اور متوازن کی اور معاہدہ نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ۔ انہوں نے مذاکرات کے بارے میں یہ اشارہ بھی دیاہے کہ ’ہم یہاں ایک انتہائی سادہ سی تجویز کےساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کیا جائے، یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ وینس کا کہنا تھا کہ’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا۔صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں۔ ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی‘۔
امریکی ارادوں اور خواہش کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ خاص طور سے نائب صدر اور صدر ٹرمپ جنگ کے بارے میں متضاد رائے رکھتے ہیں۔ جے ڈی وینس کو جنگ مخالف سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ رابطوں جیسا کہ انہوں نے تاثر بھی دیا ہے، ایک مثبت پیش رفت جاری رکھنے کے خواہاں ہوں۔ تاہم دیکھنا ہوگا کہ اس بات چیت کی ناکامی پر صدر ٹرمپ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایک بار پھر جارحانہ بیانات کا سلسلہ شروع کردیا اور عبوری جنگ بندی کا معاہدہ توڑ کر ایران پر حملے کیے گئے تو وینس کی خواہش یا بیان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ وینس نے ایران کے ساتھ افہام و تفہیم کا طریقہ کار وضع کرنے کی بات بھی کی ہے۔ اس سے یہ امید بھی قائم کی جاسکتی ہے کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مکمل طور سے رابطہ منقطع کرنے کی بجائے اسلام آباد میں دوبدو ہونے والی بات چیت کے سلسلہ کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ 47سال بعد دونوں ممالک نے پہلی بار براہ راست بات چیت کی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان سب مذاکرات بالواسطہ بات چیت پر مشتمل تھے۔ البتہ پاکستانی حکومت کی کوششوں اور خیر سگالی کے ماحول کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی وفود نے باالمشافہ گفتگو کی۔ ایسے ماحول میں اعتمادسازی کا موقع ملتا ہے اور فریقین کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں۔
بداعتمادی کے علاوہ امریکہ کی سیاسی مجبوری کے بارے میں غلط اندازوں نے بھی ان مذاکرات کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی وفد کے قائد اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے پاکستان سے روانہ ہونے کے بعد ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران امریکہ، ایران کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ہمارے پاس ضروری نیک نیتی اور ارادہ موجود ہے لیکن پچھلی دو جنگوں کے تجربات کی وجہ سے ہمیں مخالف فریق پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ ہم متعدد اقدامات تجویز کیے لیکن مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا‘۔محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کو ممکن بنانے میں پاکستان کی کوششوں پر شکریہ بھی ادا کیا۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ بداعتمادی کی یہ فضا دو طرفہ ہے۔ پاکستان نے اسے کم کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن بوجوہ اس مرحلے پر اس میں کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ اس کی دو وجوہات نوٹ کی جاسکتی ہیں۔ ایران یہ سوچ کر مذاکرات میں آیا تھا کہ سخت گیر بیانات کے بعد صدر ٹرمپ کو امریکہ میں شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے اور تہران حکومت گرانے میں ناکامی کے بعد وہ کسی بھی قیمت پر معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اسی لیے آخری لمحے میں لبنان میں اسرائیلی حملوں کے علاوہ امریکہ میں منجمد ایرانی اثاثے ریلیز کرنے کی پیشگی شرائط منوانے کی کوشش کی گئی۔ امریکہ نے یہ شرائط تو نہیں مانیں لیکن پاکستان کی کوششوں سے پھر بھی بات چیت شروع ہوگئی۔ البتہ اس ایرانی رویہ نے معاہدے کے امکانات کو محدود کردیا تھا۔ ایرانی وفد بااختیار ہونے کے باوجود صرف ایران کے پاسداران کے شدت پسندانہ ،مطالبات منوانے پر اصرار کرتا رہا۔ ان میں یورینیم افزدہ کرنے کے حق محفوظ رکھنے کے علاوہ، آبنائے ہرمز پر اجارہ داری اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر محصول عائد کرنے کا اختیار بھی شامل تھا۔ ایران اس کے علاوہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ بھی چاہتا تھا۔ جبکہ امریکہ جوہری صلاحیت کے مکمل خاتمے کے علاوہ آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے کی طرح عام آبی گزرگاہ کےطور پر بحال کروانا چاہتا ہے۔
ایران نے جنگ بند کرنے کو امریکہ کی مجبوری اور ٹرمپ کی سیاسی مجبوری سمجھ کر شاید مبالغہ آمیز اندازے قائم کیے۔ حالانکہ جنگ جاری رہنے سے صدر ٹرمپ کو زیادہ سے زیادہ مڈٹرم میں ری پبلیکن پارٹی کی ناکامی کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا لیکن امریکی و اسرائیلی حملوں سے ایرانی شہری ہلاک ہوں گے اور وہاں بنیادی انفرا اسٹرکچر تباہ کیا جائے گا۔ جنگ طویل ہونے کی صورت میں ایران میں متعدد جنگجو گروہ متحرک ہوسکتے ہیں اور بالآخر تہران کی موجودہ رجیم ختم کرنے کا امریکی و اسرائیلی خواب پورا ہوسکتا ہے۔ اس پس منظر میں ایرانی حکومت کو اس وقت اپنے لوگوں کی زندگی اور اپنا مستقبل محفوظ رکھنے کے لیے امن معاہدے کے لیے ٹال مٹول سے کام لینے کی بجائے سرعت سے فیصلے کرنے کی ضرورت تھی۔ مختصراً کہا جائے تو ایرانی وفد امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے ’فیس سیونگ‘ کا موقع دینے پر تیار نہیں ہؤا۔ امریکہ یقیناً ایسا معادہ چاہتا تھا جسے وہ امنی مکمل کامیابی بنا کر پیش کرے۔
امید کرنی چاہئے کہ مذاکرات کے موجودہ مرحلے کی ناکامی ایک نئی جنگ کا نقظہ آغاز ثابت نہیں ہوگی بلکہ فریقین جلد ہی ایک بار پھر آمنے سامنے بیٹھیں گے اور کسی معاہدے تک پہنچ سکیں گے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کے ہوتے ہوئے ایران کا بہترین مفاد یہی ہوگا کہ وہ کوئی معاہدہ کرلے تاکہ ایرانی عوام کو امن نصیب ہو اور معاشی پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں بنیادی سہولتیں حاصل ہوسکیں۔