اسلام آباد مذاکرات اور بھارت
- تحریر حامد میر
- سوموار 13 / اپریل / 2026
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین 21 گھنٹے طویل مذاکرات کا فی الحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ بھارتی میڈیا مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلنے پر خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے لیکن کچھ بھارتی صحافی ایسے بھی ہیں جو پاکستان کو ان مذاکرات کی میزبانی پر مبارکباد دے رہے ہیں۔
میرے سامنے دو بھارتی صحافیوں کی آپس میں گفتگو ہے ۔ اس گفتگو میں دونوں صحافی خواتین اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات پر اپنی حکومت اور بھارتی میڈیا کے رویے پر سخت افسوس کا اظہار کرتی ہیں اور اپنے ہم وطنوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا دنیا میں سب کو فائدہ ہوگا جس میں بھارت بھی شامل ہے ۔ اسلام آباد میں پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد ہونے والے پہلے انتہائی اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پوری دنیا میں چرچا رہا لیکن بھارت کے کئی ٹی وی چینلز پر ان مذاکرات کا صرف اس لئے مذاق اڑایا گیا کہ یہ مذاکرات پاکستان میں کیوں ہو رہے تھے۔ بھارتی میڈیا کے اس غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ رویے پر’’دی وائر‘‘ کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی نے ایک اور سینئر صحافی نیروپوما سبرامنین سے گفتگو کی۔ اس گفتگو کا لنک مجھے ماہنامہ ترجمان القرآن کے ایڈیٹر جناب سلیم منصور خالد نے بھیجا ۔ حیرت ہوئی کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سلیم منصور خالد بائیں بازو کی عارفہ خانم شیروانی کو اتنی اہمیت دیتے ہیں ۔ جب میں نے اس لنک میں نیروپوما کی تصویردیکھی تو اس انٹرویو کو سننا شروع کر دیا ۔ نیرو پوما کافی سال پہلے اسلام آباد میں ’دی ہندو‘ کے نامہ نگار کی حیثیت سے مقیم تھیں ۔ پاکستان کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہیں اور گزشتہ سال بھی ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام آباد آئی تھیں ۔
نیروپوما ’دی ہندو‘ کے علاوہ انڈین ایکسپریس اور دیگر بھارتی اخبارات سے بھی وابستہ رہی ہیں اور آج کل ’دی ٹریبیون‘ میں کالم لکھتی ہیں ۔ اس گفتگو میں عارفہ نے نیروپوما سے پوچھا کہ ہم تو پاکستان کو دہشت گردی کا اسپانسر ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اسلام آباد مذاکرات کے ذریعہ پاکستان پوری دنیا کی توجہ کا مرکز کیسے بن گیا اور امریکی نائب صدر جے ڈی ونیس ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کیلئے اسلام آباد کیسے پہنچ گئے ؟ نیرو پوما سبرامنین نے اس اہم سوال کا وہ جواب دیا جو پاکستانی میڈیا پر میں نے نہیں سنا لیکن یہی اصل حقیقت تھی ۔ نیرو پوما نے کہا کہ جے ڈی ونیس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد بھیجا اور ٹرمپ کے پاکستان پر اس اعتماد کی وجہ بھارت کا آپریشن سیندور ہے ۔ اس بہادر خاتون صحافی نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے پاکستان کےخلاف آپریشن سیندور کے نام پر جنگ شروع کی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سیز فائر کروایا تھا۔ پاکستان نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تصدیق کردی لیکن بھارتی حکومت اس دعوے کی تردید کرتی رہی ۔
یہی وہ موقع تھا جب ٹرمپ اور پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ۔ پھر پاکستان کی حکومت نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کر کے اس کا دل جیت لیا اور یوں پاکستان چین کے ساتھ ساتھ امریکا کے بھی بہت قریب ہو گیا ۔ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے اس جنگ کی مذمت کی ۔ یوں پاکستان نے اپنے ہمسائے ایران کا دل بھی جیت لیا جبکہ بھارتی حکومت اسرائیل کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاتی رہی۔ 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا نے ایک دفعہ پھر ایران پر حملہ کیا تو پاکستان نے یہ جنگ رکوانے کی کوشش شروع کردی ۔ نیرو پوما سبرامنین نے پاکستان کو یہ جنگ رکوانے اور پھر اسلام آباد میں امریکا و ایران کے مذاکرات کرانے پر مبارکباد دی تو عارفہ خانم شیروانی بھی حیران رہ گئیں ۔
میری ناقص رائے میں نیروپوما سبرامنین کی طرف سے اسلام آباد مذاکرات پر پاکستان کو دی جانے والی مبارکباد بہت اہم ہے اور یہ مبارکباد بتاتی ہے کہ بھارت کا میڈیا پوری بھارتی قوم کی ترجمانی نہیں کرتا۔ جس طرح ہمیں پاکستانی میڈیا پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی کچھ مقبول آوازیں سنائی نہیں دیتیں، اسی طرح بھارتی میڈیا پر بھی پاکستان کے ساتھ امن کی بات کرنے والوں کی آوازیں کم سنائی دیتی ہیں۔ نیرو پوماسبرامنین نے بہادری اور فکری دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن مذاکرات کرانے پر پاکستان کو مبارکباد دے کر اپنے لئے کئی خطرات مول لے لئے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی والے انہیں غدار کہیں گے ۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ریاست کو پسند نہ آنے والاسچ بولنے والوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دیدیا جاتا ہے۔ امریکا اور ایران میں مذاکرات کرانے پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے۔ ان دو کشمیری رہنماؤں کی طرف سے پاکستان کی تعریف نئی دہلی میں کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگی کیونکہ نئی دہلی میں ڈاکٹر جے شنکر جیسے چھوٹے ذہن کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کا سفارتی قد مزید بلند ہوتا گیا تو بہت جلد پاکستان مسئلہ کشمیر کو بھی عالمی ایجنڈے کاحصہ بنادے گا۔ آنے والے وقت میں اگر مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا کوئی راستہ نکل آئے تو ایک دن مسئلہ کشمیر کے حل کا راستہ بھی ضرور نکل سکتا ہے ۔
امریکا اور ایران میں تنازعے کا ایک اہم فریق اسرائیل ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اس لئے ابتدا میں پاکستان کی سفارت کاری کا مقصد صرف امریکا اور ایران میں سیز فائر کرانا تھا ۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان کو امریکا کا پوسٹ مین اور وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کو دلال قرار دے کر اپنی حسرتوں پر خوب آنسو بہائے لیکن پاکستان چند دنوں کے اندر اندر سہولت کار سے ثالث بن گیا۔ اسلام آباد مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کا اہتمام کرنے پر پاکستان کی دل کھول کر تعریف کی- انہوں نے اتوار کو واپسی سے قبل کہا کہ ہم کسی ڈیل کے بغیر واپس جا رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے مذاکرات میں لچک نہیں دکھائی۔ بہرحال 21 گھنٹے ایک دوسرے کی بات سنی گئی اور یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
پاکستان کی کوشش ہوگی کہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بٹھایا جائے ۔ افسوس کہ 21 گھنٹے کے مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہ ہو سکا لیکن اس قسم کے مذاکرات تو 21 دن یا 21 ہفتے میں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ یہ مذاکرات کئی کئی ہفتے اور کئی مہینے جاری رہتے ہیں اور جب کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو پھر اس معاہدے پر عمل درآمد میں بھی بڑی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ میرے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق 1990 کے بعد سے اب تک دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے باہمی تنازعات کے حل کیلئے 2146 معاہدے کئے ان میں سے آج تک صرف چھ فیصد معاہدوں پر عمل درآمد ہوا ہے۔ پاکستان نے 2020 میں امریکا اور افغان طالبان میں دوحہ معاہدہ کرایا جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
امریکا اور ایران کو چاہئے کہ دو ہفتے کے سیز فائر میں توسیع کریں ۔ لبنان کو بھی سیز فائر میں شامل کریں اور کہیں نہ کہیں بات چیت جاری رکھیں۔ یہ بات چیت اور اس کی کامیابی ایران سے زیادہ امریکا کی ضرورت ہے جو سپر پاور ہونے کے باوجود سفارتی و سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ امریکی رائے عامہ بھی ایران کےساتھ امن چاہتی ہے۔ پاکستان نے سیز فائر کو ایک امن معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے جو بھرپور کوشش کی اس کی تعریف بھارت میں بھی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کو اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے مزید اسٹیک ہولڈرز کو اس کوشش میں شامل کرنا چاہئے۔ آج نہیں تو کل امریکا اور ایران کو ایک امن معاہدہ تو کرنا ہی پڑے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)