ڈونلڈ ٹرمپ: نوبل امن انعام کا خواہاں مگر امن دشمن

حیرت انگیز طور پر امریکی صدر نے دنیا کے متعدد تنازعات ختم کرانے اور خود کو امن و انسانیت کا سب سے بڑا چیمپئن ثابت کرنے کے بعد ایران جنگ شروع کرکے اپنے  آپ کو امن کا اصل دشمن  ثابت کیا ہے۔ یہ جنگ کسی عذر کے بغیر ایسے موقع پر شروع کی گئی جب عمان کی ثالثی میں فریقین  جوہری ہتھیاروں پر قابل قبول معاہدہ کرنے  ہی والے تھے۔  البتہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی بات مان کر طاقت کے ذریعے اہداف حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس مقصد میں ناکامی اور چالیس دن کی ہولناک اور انسان کش جنگ جوئی کے بعد جب امریکہ کے لیے اس تنازعہ سے نکلنے کے تمام راستے بند ہوگئے تو ٹرمپ نے اپنے زہرناک بیانات کے  ذریعے طاقت کے زور پر اس جنگ کو لپیٹنے  اور  دھمکیوں سے  خود کو کامیاب ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جس وقت ٹرمپ بدحواسی کے عالم میں اپنے پرائے سب کے نشانے  پر تھے،  ایسے میں  وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل  عاصم منیر نے انہیں فیس سیونگ کا موقع دیا ۔ پہلے عبوری جنگ بندی اور پھر اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے امریکہ  کو موقع ملا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ سکے تاکہ فریقین مزید شرمندگی ، نقصان اور تباہی سے بچ سکیں۔

تاہم  یہ مذاکرات ٹرمپ کی  ہٹ دھرمی اور  اپنی طاقت کے بارے میں غلط اندازوں کی وجہ سے ناکام ہوئے ۔ ایران میں ہونے والی تباہی کو ایران کی مکمل شکست اور مجبوری  سے تعبیر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شاید ان کے چند قریبی رفقا یہ گمان کیے بیٹھے تھے کہ نائب صدر وینس کے اسلام آباد پنچنے کی دیر ہے، ایران کے نمائیندے آگے بڑھ کر ان تمام شرائط پر صاد کہیں گے جو امریکہ پیش کررہا ہے۔ لیکن ایران نے کسی شکست خوردہ ملک کی بجائے دنیا کے طاقت ور ترین ملک کا پانچ ہفتے سے زائد مدت تک  مقابلہ کرنے والے حوصلہ مند فریق کی طرح   اپنی شرائط  پیش کیں اور واضح کیا کہ امن معاہدہ برابری کی بنیاد پر ہی طے پاسکتا ہے۔ ایسے معاہدے میں امریکہ کو فاتح اور ایران کو مفتوح ثابت نہیں کیا جائے گا۔  ایک خود مختار ملک کا یہ اعتماد ٹرمپ جیسے خود پسند  شخص کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ بصورت دیگر اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں جو معلومات سامنے آرہی ہیں، ان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایرانی وفد لچک دکھانے اور کچھ نہ کچھ رعایات دینے پر آمادہ تھا۔ لیکن امریکی نائب صدر کو تو پاکستان کی درخواست کے باوجود ان پیچیدہ اور مشکل مذاکرات میں ایک دن کے اضافے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ٹرمپ کے اسی سخت گیر رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سفارت کاری اور معاہدہ طے کرنے کے ہنر سے کس حد تک بے بہرہ ہیں اور  ڈیل کے نام پر حکم صادر کرنے اور فریقن ثانی کو اپنی شرائط ماننے  پر مجبور کرنے ہی کو سیاست و سفارت سمجھتے ہیں۔

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلسل  مختلف النوع بیانات دیے ہیں۔ ان بیانات کا سلسلہ ایران  کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے سے پہلے سے جاری ہے۔   شہباز شریف کی درخواست پر دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق  کے بعد   بھی ٹرمپ اپنے دہشتناک اور انتہاپسندانہ بیانات کی وجہ سے امن کے راستے و امکانات مسدود کرتے رہے تھے۔ ان میں   سب زیادہ شرمناک بیان ایرانی تہذیب کو ایک رات میں مٹا دینے کے بارے میں تھا جس کے بعد امریکی کانگرس کے متعدد ارکان نے آئینی شق 25 کے تحت  ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے کی  مہم شروع کی  تھی۔  8 اپریل کو  دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کی تجویز موصول اور قبول  کرنے  کی وجہ سے امریکہ میں ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانے کی بحث ٹھنڈی پڑ گئی۔

جنگ بندی کی بجائے  اگر ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے یا  اعلان کے مطابق اس کے بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کرنے کا اقدام کرتے تو انہیں داخلی طور سے اپنا اقتدار سنبھالنا  مشکل ہوجاتا۔ اب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ  ان کے  تہذیب مٹادینےکا سخت بیان دینے ہی کی وجہ سے ایران بھاگا بھاگا مذاکرات کے لیے آگیا۔ حالانکہ جنگ بندی کی تجویز پاکستان نے دی تھی اور امریکی صدر نے اسے پہلے قبول کیا۔ اپنے مشیر خاص وٹکوف پر ایران کے عدم اعتماد کی وجہ سے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس کو   ایران ہی درخواست  یاخواہش پر بات چیت کے لیے بھیجنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس لیے اب ان کا یہ بیان کہ انہوں  نے ایران کو مکمل تباہ کرنے کا بیان دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا تھا ، محض یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود  ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹ اور مبالغہ آرائی کو کیسے سیاسی ہتھکنڈے  کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اسلام آباد  میں مذاکرات ختم کرنے کے باوجود امریکی حکومت نے دو ہفتے کی جنگ بندی  ختم نہیں کی بلکہ مسلسل  دعویٰ کیا جارہا ہے کہ درحقیقت اس بات چیت میں اکثر باتوں پر اتفاق ہوگیا تھا لیکن چند معاملات رہ  گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی دھمکی آمیز انداز میں ٹرمپ یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتے  کہ ایران جلد ہی مذاکرات   میں واپس آئے گا اور ہماری شرائط مان لے گا۔ حالانکہ ٹرمپ خود   بات چیت  شروع کرنے اور کسی بھی طرح  معاہدے پر پہنچنے کے لیے بے چین ہیں۔  اب سےتھوڑی دیر پہلے ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی  لیڈروں نے ڈیل کرنے کے لیے دو بار فون پر رابطہ کیا ہے۔ حلانکہ یہ واضح امریکی پوزیشن رہی  ہے کہ ایران کے ساتھ ساری مواصلت پاکستان کے توسط سے ہوتی رہی ہے۔

 گزشتہ روز فوکس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے  ٹرمپ نے تحکمانہ انداز میں معاہدہ کرنے کا  ’حکم‘ سناتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم ایران سے سو فیصد مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔ ہم 90  فیصد یا 95 فیصد پر  متفق نہیں ہوں گے  بلکہ مجھے سو فیصد چاہئے۔ اور  یقین سے کہا کہ اور وہ واپس آئیں گے اور سو فیصد ہمارے مطالبات سے اتفاق کریں گے۔ حالانکہ  حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کو پندرہ نکاتی   مطالبات کی فہرست  روانہ کی تھی۔ ایران نے اسے مسترد کرنے کے بعد  جواب میں دس نکات روانہ کیے جن  کی بنیاد پر ایران معاہدہ کرنے پر راضی ہوسکتا تھا۔  ٹرمپ نے بعد میں ان ہی دس نکات کو  معاہدے کے لیے معقول بنیاد قرار دیتے ہوئے بات چیت پر اتفاق کیا اور  امریکی وفد اسلام آباد روانہ  ہؤا۔

امریکہ کی حالت دراصل اس شخص کی ہوچکی ہے جو کمبل سے  جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن کمبل اسے نہیں چھوڑتا۔ امریکہ  بوجوہ جنگ بند کرنا چاہتا ہے لیکن اس کا سارا بوجھ ایران پر ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر سفارتی لب و لہجہ میں یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تو پاکستان جیسے ثالث ممالک ایران کو بھی کسی طرح امریکہ کو ’باعزت ‘ طریقے سے اس تنازعہ سے نکلنے کا راستہ دینے پر آمادہ کرسکتے تھے۔ لیکن ٹرمپ  ایک  طرف بات چیت اور معاہدے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف شدت پسندانہ لب و لہجہ میں ایران کے بارے میں ہتک آمیز بیانات جاری  کرتے ہیں۔ امریکی حکومت میں اگر کوئی ہوش مند ٹرمپ کو یہ بتا سکتا  تو دنیا کے لیے خوش آئیند ہوتاکہ اگر وہ چند روز اپنی زبان بند رکھیں یا کچھ کہنے سے پہلے معاونین سے  مشورہ کرلیں تو  امن معاہدے کا راستہ آسانی سے ہموار ہوسکتا ہے۔

مسلسل اپنی کامیابی اور ایران کی مکمل تباہی کا اعلان کرنے والے صدر ٹرمپ کو  یہ مان لینے میں شرم محسوس ہوتی ہوگی کہ انہوں نے اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے  ایران کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار تھما  دیا ہے، جو وہ ہمیشہ اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ امریکہ تمام تر دعوؤں کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے  میں کامیاب نہیں ہوسکا اور اب اس کا بلاکیڈ کرکے ایران کو معاشی طور سے عاجز کرنا چاہتا ہے۔ لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ امریکہ اور ٹرمپ کی بے صبری اور اس بلاکیڈ  کے عالمی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کی وجہ سے بالآخر انہیں  خود ہی بات چیت کا راستہ اختیار کرکے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا پڑے گا۔ ایران پر حملے سے پہلے آبنائے ہرمز کبھی بند نہیں کی گئی تھی لیکن اب ایران جان چکا ہے کہ وہ قلیل عسکری صلاحیت کے ساتھ بھی اس بحری راستے کو بند کرکے دنیا کی سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ ایران اس  نودریافت   شدہ غیر معمولی  طاقت   سے  باآسانی دست بردار ہوجائے گا۔

ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرانے، اور تنازعات ختم کرانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ تاریخ میں نوبل امن انعام کا  ان سے بڑا حقدار پیدا نہیں ہؤا۔ لیکن    بدقسمتی سے بسیار گوئی اور انا کے  اسیر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے  رویہ کی وجہ سے  دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔