چین نے امریکی ناکہ بندی کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا

  • منگل 14 / اپریل / 2026

چین کی وزارت خارجہ نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔ یہ ناکہ بندی پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے ایک دن بعد پیر کو نافذ ہوئی۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گئو جیاکون نے خبردار کیا کہ یہ ناکہ بندی کشیدگی کو مزید بڑھائے گی اور جنگ بندی کے معاہدے کو نقصان پہنچائے گی۔ ایک پریس کانفرنس میں جیاکون نے کہا کہ یہ خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔

جیاکون نے ان خبروں کو من گھڑت قرار دیا کہ چین ایران کو نئے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ خبریں سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر چین نے تہران کو فوجی معاونت فراہم کی تو چین کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

جیاکون نے کہا کہ ’اگر امریکہ اس بہانے چین پر اضافی محصولات عائد کرنے پر اصرار کرتا ہے تو چین ضرور سخت جوابی اقدامات کرے گا‘۔

دوسری طرف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ پیر کے روز ہونے والی اس گفتگو میں عراقچی نے لاوروف کو 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والی ایران امریکہ بات چیت سے آگاہ کیا۔

روسی وزارت خارجہ کے سرکاری بیان کے مطابق ’روس نے ایران سے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور ایسے حل تلاش کرنا ضروری ہے جن سے تنازع کی جڑ ہی ختم کی جا سکے اور خطے میں طویل المدتی استحکام قائم ہو۔ اس عمل میں ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کے جائز مفادات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔‘

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی صورت میں دوبارہ تصادم نہیں ہونا چاہیے۔ روس بحران کے خاتمے میں مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کی تھی۔