پاکستان امن کی فاختہ
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 14 / اپریل / 2026
ایک وقت تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا دکھائی دینے لگا تھا اور اس کی ساکھ پر بھی سوال اٹھائے جاتے تھے۔ مگر اب جو کچھ دنوں سے ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں تو یہ بھی اللہ کا خاص کرم ہے۔
اسے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کا اعزاز ملنے والا ہے۔ اس نے 47 سال سے ایک دوسرے سے الجھنے والوں کو ایک میز پر لا بٹھایا ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت سجا اور نکھرا ہوا ہے کہ اس کے بام و در سے عالمی امن کی تازہ ہوا کے جھونکے چل پڑے ہیں۔ پاکستان نے اپنے سفارتی رکھ رکھاؤ سے ثابت کیا ہے کہ وہ امن کی فاختہ ہے جہاں سے ساری دنیا میں امن کے پیغام کو عام کیا جا رہا ہے۔ یوں اب پاکستان کا دارالحکومت اسلام آ باد بھی امن کا دارالحکومت بن گیا ہے۔ جو اس اہم تحریری معاہدے میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جائے گا۔ یہ امن مذاکرات عمان ترکیہ یا کہیں اور بھی ہو سکتے تھے مگر قدرت نے اس کار خیر کے لئے پاکستان کو چنا اور اب اسلام آ باد امن مذاکرات پوری دنیا کے لئے مرکز نگاہ بن گئے ہیں۔
پاکستان نے بہترین سہولت کار اور ثالث ہونے کا جو بین ثبوت دیا ہے اس پر اسے پوری دنیا سے مبارکبادیں اور شاباشیں مل رہی ہیں۔ اب ان شااللہ پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی وقعت میں بھی اضافہ ہوگا اور پاکستانیوں کی بیرون ملک شناخت انڈین کی بجائے پاکستانی سے ہوگی۔
گیارہ اپریل سے شروع ہونے والے مذاکرات کے مختلف ادوار ہوئے جس میں ایران اور امریکہ نے پہلے الگ الگ وفود کی صورت ملاقاتیں کیں پھر دونوں نے براہ راست مذاکرات کئے اس کے بعد تیسرے مرحلے میں تکنیکی حکام کی ملاقاتیں ہوئیں۔ نوٹس کے تبادلے ہوئے مشترکہ ڈنر ہوا گویا گلے ملنے سے کئی گلے شکوے جاتے رہے کی صورت حال بنی۔ یوں 1979 کے بعد پاکستان کی کوششوں سے برسوں سے جمی برف پگھلنے کے آ ثار دکھائی دئیے ہیں۔ ابتدائی طور پر امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
امریکی وفد کی قیادت سلجھے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے کی جبکہ صدر ٹرمپ کے داماد جیر ڈکشنز بھی امریکی وفد میں شامل ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت ایرانی اسپیکر باقر بالقیاب اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی ہے جبکہ دونوں وفود اپنی ملکی قیادت سے بھی رابطے میں رہے ہیں۔ اس سارے معاملے کا خوشگوار اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ پاکستان کے کردار سے مطمئن ہے اور دوسری طرف ایران اس سارے معاملے میں پاکستان کا شکر گزار ہے۔ ایران نے اپنے وفد کے طیارے کو میناب 168 کا نام دے کر سکول کے شہید بچوں کے کرب کا اظہار کیا ہے۔ اور ساتھ ہی ایران میں ان زخموں پر مرہم رکھنے والے پاکستان کی حمایت میں نغمے بھی چلائے جارہے ہیں جس میں شکریہ پاکستان، ویل ڈن فیلڈ مارشل کے نعرے بھی شامل ہیں۔
پاکستانی حکومت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کا عالمی اور قومی سطح پر اعتراف بھی پاکستان کے لئے بلاشبہ ایک اعزاز ہے، جس سے پاکستان کی خارجہ پالیسی مزید مضبوط ہوگی۔ اور دنیا ایک ثالث کی حیثیت سے پاکستان کے کردار کو ہمیشہ سراہے گی۔ پاکستان کے اس عالمی کردار پر بھارت کی نیندیں بھی اڑ گئی ہیں اور اس کے میڈیا کا ہاضمہ خراب دکھائی دے رہا ہے۔ ان مذاکرات کے موقع پر عالمی میڈیا کو بھی پاکستان کے کردار کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ حکومتی انتظامات اور بہتر سیکیورٹی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کی اہمیت اور صلاحیت بھی اجاگر ہو گئی ہے۔
اس بات میں بھی شک نہیں کہ برسوں کے اس مسئلےکا حل ایک دن یا چند گھنٹوں میں نہیں نکالا جاسکتا مگر یہ صورت حال اطمینان بخش ہے کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے ہے۔ مستقل جنگ بندی ہونی چاہیے۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو مستقل کھولنے اور ایران پر ایٹمی اور جوہری پابندیوں کے حق میں ہے۔ جبکہ ایران مستقل جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرنے کے ساتھ اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور امریکی اڈوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔
مذاکرات میں ان معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے جو کسی مشترکہ اعلامیہ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر چہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بغیر کسی معایدے کے واپس امریکہ گئے ہیں مگر سفارت کاری اور مزید مذاکرات کی گنجائش ابھی باقی ہے گویا پیدا کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں، اور صورت حال یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے والی بن گئی ہے۔
روس فرانس چین اور دوسرے ممالک کی طرف سے بھی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ پوپ لیو کا بھی کہنا ہے کہ امن اور سلامتی کی میز پر بیٹھیں۔ طاقت کے مظاہرے بہت ہو چکے، جنگیں بہت ہو چکیں۔ اب صرف امن اور سلامتی کی بات کریں۔ مذاکرات اور ثالثی کی میز پر بیٹھیں اسلحے اور جنگ کی میز پر نہیں۔ اور وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ الجھے ہوئے معاملات کا سلجھاؤ اور مفادات کا حصول اب میدان جنگ میں نہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے ہی ممکن ہے۔
اقوام متحدہ کو ایک مضبوط پلیٹ فارم ہونا چاہیے اور سب ممالک پر یکساں پابندیاں لاگو ہونا چاہیے۔ ہر ملک کے خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ اسلام آ باد مذاکرات کے جو بھی نتائج اور اثرات سامنے آ ئیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان نے ایک باوقار ثالث اور منصفانہ سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ کے 37 ویں دن جب میں اسلام آ باد سے مانچسٹر برطانیہ کے لئے عازم سفر ہوا تو ساری دنیا پر تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ مگر الحمدللہ اب اسی اسلام آ باد سے امن و آشتی کا پیغام پوری دنیا میں سنائی دے رہا ہے۔ برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ میں لوگ پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا رہے ہیں۔ اور یہاں رہنے والے پاکستانی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔
اکیس گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات اگر حتمی کامیاب نہ بھی ہو ئے ہوں مگر امید کی ایک کرن ضرور بنے ہیں، جو آ نے والے دنوں میں خوشی کی خبر بن سکتے ہیں۔