مذاکرات میں ناکامی اور نئی توقعات
- تحریر افضال ریحان
- منگل 14 / اپریل / 2026
ایران امریکا اسلام آباد امن مذاکرات اگرچہ حسب خدشہ ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں لیکن ان دنوں ہمارے ملک کا نام ایران امریکا جنگ بندی اور مکالمے کے حوالے سے پوری دنیا کے میڈیا اور دارالحکومتوں میں خوب گونجا ہے۔
اگرچہ ہمارے غیر ذمہ دار ڈیفنس منسٹر خواجہ آصف نے اس شیرینی میں زہر گھولنے کی کوشش کی تاکہ ہمارے چہرے پر لگے جنونیت کے دھبے کہیں امن پسندی کی گنگا سے دھل نہ سکیں، پھر بھی ذمہ دار قیادت نے معاملے کو بگڑنے نہیں دیا۔
اسلام آباد ڈائیلاگ کی ناکامی کا جائزہ لینے سے پہلے ایک نظر ہم ان مذاکرات کے مثبت پہلو پر ڈال لیتے ہیں، جو یہ تھا کہ دونوں پہلوان چالیس روزہ دنگل کے بعد تھکاوٹ کا شکار تھے۔ ایرانیوں کی تکلیف یہ تھی کہ ان کی اول درجے کی قیادت اس جنگ میں اڑا دی گئی، بارہ ہزار حملوں میں ان کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہو چکا، ایرانی معیشت پہلے ہی بدتر صورت حال کا شکار تھی۔ کرنسی گراوٹ کی یہ حالت کہ ایک کروڑ ایرانی ریال کا نوٹ سات امریکی ڈالرز میں دستیاب، اب جنگ کے بعدایرانی معیشت مزید دگرگوں ہوئی ہے۔
گو کہ ایرانی رجیم نے جنگ سے قبل اپنے انقلاب مخالفین کی احتجاجی تحریکوں کو ٹارگٹ کلنگز سے کچل ڈالا تھا لیکن عوام کے اندر ایک نوع کی بددلی، مایوسی، گھٹن اور بےچینی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایرانی اداروں میں بھی گو اسلامی پاسداران انقلاب کی طاقت موجود ہے لیکن طاقت کے کئی مراکز یا ان میں الجھاؤ بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جن سے ایرانی رجیم کی کمزوری عیاں ہوئی ہے۔ دوسری طرف امریکا ہے جہاں کا آئینی و جمہوری سسٹم اپنے ٹرمپ جیسے بےلگام پریزیڈنٹ کو بھی شتر بے مہار ہونے سے روکتا ہے، آزاد میڈیا کھلے بندوں سوالات اٹھاتا اور سخت لتے لیتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ امریکی عوام جنگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح رہے کہ نومبر میں مڈٹرم الیکشن آ رہے ہیں، ایسے حالات میں جب عوامی سطح پر رائے عامہ اس قدر خلاف ہوگی تو ریپبلکن کو اقتدار بچانے کے لیے جان کے لالے پڑ جائیں گے۔
ایسی صورت حال میں ٹرمپ جنگ کو زیادہ طول دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ریپبلکن کے آئندہ متوقع امیدوار وائس پریزیڈنٹ جے ڈی وینس حالیہ ایران امریکا جنگ کی کھلے بندوں مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا ریکارڈ ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں ہمیشہ امن و سلامتی کی بات کی ہے۔ شاید اسی لیے خود ایرانی قیادت نے مذاکرات کار کے طور پر ان کا نام لیا جبکہ اسٹیو وٹکوف اور پریزیڈنٹ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے متعلق عمومی رائے ہے کہ وہ ٹرمپ کے قریبی ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے بھی کافی نزدیک ہیں۔ اس نوع کے مکالمے میں وفد کی قیادت بالعموم امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ کرتے ہیں۔ سو آنا تو مارکو روبیو کا بنتا تھا مگر مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی طور پر وائس پریزیڈنٹ کا انتخاب کیا گیا جنہیں بھیجتے ہوئے ٹرمپ نے از راہ تفنن کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کی ذمہ داری جے ڈی وینس پر عائد ہوگی۔
میزبان پاکستان کی ہر دو شخصیات پرائم منسٹر شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کا تعلق اور رویہ ہر دو ممالک امریکا اور ایرانی قیادتوں کے ساتھ خاصا فرینڈلی اور قربت والا رہا جس کی تحسین کی گئی ۔جن کی پوری لگن تھی کہ مذاکراتی بیل خیریت سے منڈے چڑھے۔ کاش وہ دونوں مذاکراتی ٹیموں پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہوتے۔ اس کے ساتھ ہی یہ منفی رخ بھی قابلِ ملاحظہ تھا کہ امریکا اور ایران ہر دو ممالک خود کو جنگ کے فاتحین خیال کیے بیٹھے تھے۔ کسی بھی شخص کے ذہن میں جب خود کو فاتح سمجھنے کا خمار ہو تو پھر وہ زیادہ ماننے کی بجائے منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ دوسرا اس کے لیے مذاکراتی گنجائشیں یا لچک پیدا کرے۔ مذاکرات کا عمل بہت نازک اور حساس ہوتا ہے۔ مذاکرات کاروں پر اپنے اپنے ممالک کے عوام کا دیدہ و نا دیدہ دباؤ قابلِ فہم ہونا چاہیے، جو مطالبات منوائے جانے کی صورت میں قد اونچا کرنے کا باعث بنتا ہے، تو رعایت دینے کی صورت میں سیاسی نقصان کا کارن ثابت ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی بھی مذاکرات کار کے لیے نرمی یا لچک دکھانا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔ اکیس گھنٹے کی مذاکراتی نشستوں میں جے ڈی وینس کو ٹرمپ کی بارہ کالیں اس دباؤ کو واضح کرتی ہیں۔
اب آتے ہیں مذاکرات میں زیرِ بحث ایشوز کی طرف۔ جس طرح امریکی انتظامیہ نے مذاکرات کے لیے اپنے پندرہ پوائنٹس دے رکھے تھے، اسی طرح ایرانیوں کی بھی دس شرائط تھیں جنہیں وہ منوانا چاہتے تھے۔ ایرانی اپنی طرف سے امریکا کو یہ رعایت تو دے رہے تھے کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم پر سختی سے قائم ہیں لیکن ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کر رہے تھے کہ ایک مخصوص و محدود حد چاہے تین فیصد تک یورینیم انرچمنٹ کے حق کو تسلیم کر لیا جائے۔ ایرانیوں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ نہ صرف ایران بلکہ ایران سے باہر ہمارے حامی گروہوں یعنی ہماری پراکسیوں کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ جیسے کہ لبنان کی حزب اللہ پر اسرائیل کے حالیہ حملوں پر انہوں نے شدید احتجاج کیا اور یہ ایشو کھڑے ہو گیا کہ کیا لبنان کا ایشو بھی سیز فائر کا حصہ ہے یا نہیں۔ اور پھر یہ طے پایا کہ امریکا اس سلسلے میں نیتن یاہو پر دباؤ ڈالے گا اور واشنگٹن میں لبنان امریکا مذاکرات ہوں گے۔ اگرچہ ان میں حزب اللہ کو براہ راست شامل نہیں کیا جائے گا۔
درویش نے مذاکرات شروع ہونے سے قبل لکھا تھا کہ ایرانی دس شرائط کا ون بائی ون جائزہ لینے سے یہ واضح ہے کہ بیشتر ایسے پوائنٹس ہیں جنہیں امریکا کسی قیمت پر قبول نہیں کرے گا۔ ان میں سے اول ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ایرانیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ بدلے ہوئے حالات میں اس کی گنجائش زیرو ہو چکی ہے۔ اوباما دور میں پر امن جوہری توانائی کی جو گنجائش دی گئی تھی، اب ایران نے اسرائیل سمیت امریکی اتحادی ہمسایہ عرب ریاستوں پر جس نوع کی مزائل بازی کی ہے۔ اس نے امریکا اور دیگر تمام امریکی اتحادیوں کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اس لیے امریکا نہ صرف یورینیم کی انرچمنٹ پر قطعی کوئی گنجائش نہیں دے گا بلکہ ایران کے پاس جتنا بھی افزودہ یورینیم موجود ہے امریکا اسے نکلوا کر عالمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے حوالے کرے گا۔ ہمارے ایرانی بھائی جس شان بے نیازی سے یہ کہتے ہیں کہ ایران کا یہ بونا فائیڈ رائٹ ہے کہ وہ پر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا حصول کرے، چاہے یورینیم کے انرچمنٹ تین فیصد تک ہی رکھی جائے۔ جواب میں امریکیوں کا استدلال ہوتا ہے کہ ایران تیل اور قدرتی گیس سے مالا مال ملک ہے جسے اگلے سو برس تک بھی توانائی کی کوئی محرومی و مجبوری نہ ہے۔ اس پس منظر میں پر امن جوہری توانائی کا مطالبہ محض ڈھکوسلا ہے جو وقت آنے پر آگے بڑھتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں تک جائے گا ایسی صورت میں بشمول اسرائیل مڈل ایسٹ کے عرب اتحادی کبھی سکون سے نہ رہ پائیں گے۔ اس سے بڑھ کر امریکی عرب اتحادی ایرانی میزائلوں کی رینج اور صلاحیت پر بھی سخت سوالات اٹھائیں گے۔ اور یہ مطالبہ کریں گے کہ خطرناک ایرانی میزائل پروگرام پر بھی سخت پابندیاں لگائی جائیں۔
اسی طرح اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا سخت پوائنٹ سٹریٹ آف ہرمز کو کھلا رکھناہے اور یہی وہ خطرناک کارڈ ہے جسے بقول ٹرمپ ایران کھیل رہا ہے۔ لیکن وہ اسے یہ کھیل کسی صورت نہیں کھیلنے دیں گے۔ سٹریٹ آف ہرمز پر کنٹرول کے کارن ہی ایرانیوں نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔ آج ایرانیوں کے لیے اس نوع کی بلیک میلنگ اگر روا رکھی گئی تو کل چائنا اور رشیا جیسے کئی طاقتور ممالک بھی اس نوع کی سوچ پالنے لگیں گے۔ اس سلسلے میں سویز کنال کی مثال دی جاتی ہے مگر سویز کنال انسانی کاوش کا شاہکار ہے جبکہ آبنائے ہرمز تو قدرتی سمندر کا حصہ ہے۔ جس کے جتنے حصے پر سلطنت اومان کو حق حاصل ہے، اتنے پر ہی ایران کو بھی اور یہ عالمی ضابطے کے مطابق دس بارہ کلو میٹر سے زائد نہیں ہے۔ اور وہ بھی لنگر اندازی کی صورت میں۔
اب اگر ایران یہاں سے گزرنے پر ٹول ٹیکس یا بھتہ لگائے تو اسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جاۓ گا۔ پوری دنیا میں اس نوع کا استحقاق کسی کو بھی حاصل نہیں۔ بلاشبہ اس حوالے سے خود پریزیڈنٹ ٹرمپ نے بھی اپنے بدلتے ہیجانی موڈ کے تحت کئی ناروا فقرے بولے ہیں جیسے کہ ہم ایران کے ساتھ مل کر اس نوع کا عالمی بھتہ وصول کر سکتے ہیں یا سٹریٹ آف ہرمز کو کھلوانے کی تگ و دو وہ کریں جن کی یہ ضرورت ہے۔ یا جن کا یہ ایشو ہے۔ ٹرمپ نیٹو اور یورپ پر بھی چلاتے رہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسے کھلوائیں۔ امریکی پریزیڈنٹ کو اس نوع کے مزاق زیب نہیں دیتے۔
سیدھی اور اصولی بات تھی آپ اس وقت عالمی سپر پاور کے مقام پر ہیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اتحادیوں کی دلجوئی کرتے ہوئے انہیں ساتھ ملا کر عالمی معاملات میں کسی کو اجارہ داری یا بے اصولی نہ کرنے دیں۔ بصورت دیگر کمزور اقوام کے لیے ایک سو ایک مسائل پیدا ہو جائیں گے۔