مذاکرات کا دوسرا دور: ہوشمندی اور لچک کی ضرورت

ایران امریکہ تنازعہ حل کرنے کے لیے امریکہ اور ایران نے مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ دیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ یہ مذاکرات بھی  اسلام آباد میں ہوں گے۔ ایک طرف دوبارہ   بات چیت  شروع ہونے  کی خبر خوش آئیند ہے تو دوسری طرف  مذاکرات کے پہلے سیشن میں دکھائی جانے والے سخت گیر رویہ کے تسلسل اور اسی وجہ سے مذاکرات پھر سے ملتوی ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ   ایک دوسرے کو جانچنے  اور وقت ٹالنے کا طرز عمل اختیار کرنے کی بجائے، معاملات پر دو ٹوک بات کریں اور ایک دوسرے کے سامنے واضح کیاجائے کہ کیا قابل قبول نہیں ہوسکتا۔  یہ کوئی غیر معمولی سفارتی طرز عمل نہیں ہے کہ ایسے سنگین تنازعہ میں ملوث فریقین کے عوامی سطح پر دیے گئے بیانات اور حقیقی پوزیشن میں واضح فرق ہوتا ہے۔ تاہم  جیسا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد محسوس کیا گیا کہ فریقین   کچھ مطالبات ضرور لے کر آئے تھے لیکن شاید مذاکراتی ٹیمیں ان  ملکوں کے لیڈروں کی طرف سے عوامی سطح پر اختیار کی گئی پوزیشن کے سحر سے باہر نہیں نکل  سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طرف سے ایک ہی بات مختلف انداز میں کی گئی کہ بیشتر نکات  پر اتفاق رائے تھا لیکن چند باتیں حل طلب رہ گئیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں اگر کچھ باتیں حل طلب رہ بھی جائیں تو یہ طے کرکیاجائے کہ ان  کی وجہ سے بات چیت ختم نہ  ہو بلکہ حتمی جنگ بندی کے کسی معاہدے کا اہتمام کیا جائے۔ تاکہ دنیا بھر میں  اس جنگ کی وجہ سے جو پریشانی اور سراسیمگی موجود ہے، اس سے آگے بڑھا جاسکے۔

ایک بار جنگ بندی ہوجائے اور فریقین ایک دوسرے کے احترام کا ماحول پیدا کرلیں تو  اختلافات پر بات جاری رہ سکتی ہے۔ اختلاف کرنے اور بعد میں انہیں حل کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی لیکن کسی ایک عذر کو بنیاد بنا کر ایک خوفناک اور خطرناک جنگ جاری رکھنے کی غلطی امریکہ و ایران کو بہت مہنگی پڑے گی۔ اسلام آباد میں مذاکرات  کے پہلے دور کے دوران میزبان ملک نے نہایت چابکدستی سے یہ اہتمام کیا تھا کہ فریقین کے درمیان ہونے والی  باتوں کے بارے میں قیاس آرائیوں   سے گریز ہو۔ اسی لیے دنیا بھر کے میڈیا کو حقیقی صورت حال کے بارے میں نہایت محدود پیمانے پر معلومات مل سکیں۔ حتی کہ ان وفود کے  ہمراہ آنے والے صحافیوں کو بھی ان کے وفود میں شامل ارکان نے  ’اندر ‘ کی کوئی خاص بات نہیں بتائی۔

بعد از وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سےجارحانہ بیانات  کے علاوہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے جیسا سخت فیصلہ کرنے کے باوجود ایران اور امریکہ نے مذاکرات کے حوالے سے کوئی خاص معلومات میڈیا کو فراہم نہیں کیں۔یہ نہایت دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔ اس سے اعتماد سازی میں مدد ملتی ہے اور بات چیت کرنے والے فریقین کو  یہ بھروسہ ملتا ہے کہ  وہ بند کمروں میں ہونے والی  ملاقات میں کھلے دل سے اپنا مؤقف بیان کرسکتے ہیں۔ اس مؤقف کو جزوی طور سے میڈیا کے سامنے بیان کرکے دباؤ کا ہتھکنڈا نہیں بنایا جائے گا۔ اسی دانشمندانہ سفارتی رویہ کی وجہ سے ہی شاید دونوں ممالک ایک بار پھر پاکستان میں دوبارہ ملنے کی تیاری کررہے ہیں۔ پاکستان نے بھی سکیوٹی کے علاوہ سفارتی سہولت کاری اور رازداری کا جو ماحول فراہم کیا، اسی کی وجہ سے اب امریکہ اور ایران  نے ایک  بار پھر اسلام آباد میں ہی ملاقات کا عندیہ  دیاہے۔ بلکہ صدر ٹرمپ نے  تو ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے اس کے نمائیندے سے کہا کہ آپ وہیں رہیں، بات چیت پاکستان میں ہی ہوگی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے اور پاکستان کی ثالثی پر گہرے اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ اعتماد کسی معاہدہ کے لیے معاون ہوسکتا ہے۔ البتہ ایرانی قائدین کو بھی حالات کی سنگینی کے مطابق اپنا طرز عمل طے کرنا ہوگا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف دو معاملات پر ہے۔ ایک یورینیم کی افزودگی کے  حق کا معاملہ اور   دوسرا آبنائے ہرمز کو  بدستور بین الاقوامی  آبی گزرگاہ تسلیم کرنے کا اصول شامل ہے۔  پہلے معاملے  میں اگر ایران کا مؤقف وزنی ہے کہ خود مختار ملک کے طور پر اسے پر امن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔ تو دوسرے معاملہ میں امریکہ کا مؤقف مسلمہ عالمی اصولوں کے مطابق ہے کیوں کہ آبنائے ہرمز دو ملکوں ایران اور عمان کی سرحدوں میں آتی ہے۔ ایک ملک کو اسے بند کرنے کا حق نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ یہ ایک فطری  بحری گزرگاہ ہے جسے دنیا کو  ’بلیک میل ‘ کرنے کے مقصد سے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔  امریکہ کے ساتھ  پیدا ہونے   والی تلخی کے تناظر میں یورینیم افزودگی کے حق پر چند سال کی مکمل پابندی سے ایران کی خود مختاری پر کوئی خاص آنچ نہیں آئے گی۔ قوموں کی زندگی میں دس بیس سال کی مدت پلک جھپکتے گزر جاتی ہے۔ تاہم اگر اس معمولی تنازعہ پر ایران بضد  رہا اور امریکہ کو جنگ جاری رکھنی پڑی تو ایرانی عوام کے  لیے حالات مزید خراب اور ناقابل برداشت ہوجائیں گے۔

ایرانی لیڈروں کو یہ سوچنے کی بجائے کہ امریکہ جنگ بند کرنے پر کتنا مجبور ہوچکا ہے، یہ دیکھنا چاہئے کہ ایران کو اس جنگ سے نکلنے کی کس قدر شدید ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگ بندی کا کوئی مناسب معاہدہ ایران پر عائد تجارتی و معاشی پابندیوں میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔   ایران کو 47 سال   میں پہلی بار یہ سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔ اور ایرانی عوام اپنی   تیل کی دولت سے بہرہ ور ہوکر ملک کی تعمیر و ترقی   کا کام شروع کرسکتے ہیں۔ سابقہ بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ  و دیگر ممالک میں  سال ہا سال سے منجمد ایرانی اثاثے واگزار کرنے پر کوئی اصولی اختلاف موجود نہیں ہے لیکن کسی امن  معاہدے کے بغیر امریکہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ صرف امریکہ میں ان اثاثوں کی مالیت ایک سو ارب  ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی  پابندیوں کی وجہ سے متعدد دوسرے ممالک میں بھی کثیر ایرانی اثاثے موجود ہیں۔ اگر یہ قیمتی وسائل ایران کو مل جاتے ہیں تو وہ اسے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کی تلافی پر صرف کرسکتا ہے۔ البتہ اگر اگر جنگ سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی تکرار جاری رکھی گئی تو ان مذاکرات میں تعطل کا امکان  بڑھ جائے گا۔ امریکہ کے لیے  جنگ سے ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دینے کا وعدہ یہ اعتراف کرنے جیسا ہوگا کہ  یہ جنگ غیر قانونی اور ناجائز تھی۔ اسے اعتراف شکست کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ ’ذلت‘ قبول کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اسی طرح  عوامی بیانات میں ایران عرب ممالک سے بھی  جنگ کے نقصانات کا ہرجانہ مانگ رہا ہے۔ حالانکہ ایران نے ان ممالک کو جنگ میں گھسیٹا تھا۔ کسی عرب ملک نے نہ تو جوابی کارروائی کی اور نہ ہی انہوں نے امریکہ کی حمایت کی۔  ہرجانے کی ضد پر قائم رہنے سے  عرب ممالک  بھی اپنے انفرا اسٹرکچر کو ہونے والے نقصان کا ازالہ چاہیں گے۔  اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ایران پر مسلط  کی ہوئی جنگ غیر قانونی  تھی۔ لیکن  اس وقت امریکہ کسی ضابطے یا ا صول کو نہیں مانتا، اقوام متحدہ بے وقعت ہوکر رہ چکی ہے۔ ان حالات میں کسی بھی طرح  دانشمندی سے امریکی جارحیت کا راستہ روکنا ضروری ہے۔

ایران کو دیکھنا چاہئے کہ کون سے عناصر یہ جنگ جاری رکھنے پر اصرار کررہے ہیں اور کون سے ممالک اس جنگ کے خاتمہ کی خواہش  رکھتے ہیں۔ ایرانی لیڈروں کو جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرکے دشمن ممالک کی خواہش پوری کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔