ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔ ایرانی قوم کبھی بھی ایسے رویے کو قبول نہیں کرے گی۔
بدھ کے روز تہران کے ایمرجنسی سروسز کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ تہران جنگ یا عدم استحکام کا خواہاں نہیں ہے۔ ایران نے ہمیشہ مختلف ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت اور روابط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت اگلے دو دنوں میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ مزید مذاکرات کے حوالے سے ’کوئی معلومات نہیں۔‘
اس کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو دنوں میں اسلام آباد میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ارنا کے مطابق، تہران اور اسلام آباد کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ضرور ہوا ہے تاہم کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آئی ہے۔
سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔ اس کے باوجود ’پاکستان ثالثی کی کوششوں کے لیے پُرعزم ہے۔‘
ایران نے بظاہر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ واضح رہے کہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کا اعلان 8 اپریل کو کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مدت 22 اپریل کو بدھ کے روز ختم ہوجائے گی۔
اتوار کے روز امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ پیر کو ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں پر ناکہ بندی کا نفاذ ہو گا۔ بی بی سی ویری فائی نے شپ ٹریکنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے وقت ایران سے منسلک کم از کم چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا۔ بتایا گیا کہ چھ تجارتی جہاز ’امریکی افواج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ میں‘ واپس چلے گئے۔
ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایران سے منسلک ایک جہاز رچ سٹاری مشرق کی جانب سفر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا تاہم جب وہ خلیجِ عمان پہنچا تو بظاہر واپس مڑ گیا۔ بی بی سی ویری فائی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی بندرگارہ سے روانہ ہو کر آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور جہاز،کرسٹیانا نے بھی بعد میں اپنا رخ تبدیل کیا۔
اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ’کوئی چھوٹا معاہدہ نہیں، بلکہ بہت بڑی بارگین کرنا چاہتے ہیں۔‘ امریکہ میں قائم ادارے ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے زیر اہتمام ایک گفتگو میں جے ڈی وینس نے ایران امریکہ امن مذاکرات کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز سمجھوتہ اس لیے نہ ہو سکا کیوں کہ ’ٹرمپ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس کے تحت ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہو اور وہ ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی نہ کر رہا ہو۔‘
اگر ایران وعدہ کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تو ہم یقینی بنائیں گے کہ ایران معاشی طور پر خوشحال ہو۔ یہ ہے وہ پیشکش جو امریکی صدر (ایران کو) کر رہے ہیں، اور اسے ممکن بنانے کے لیے ہم مذاکرات جاری رکھیں گے۔