سفارت کاری کبھی نہیں مرتی

قم یونیورسٹی ایران کی جانب سے رابطہ کیا گیا کہ موجودہ حالات پر اپنی گزارشات پیش کروں۔ حالات کے سبب سے یہ تو ممکن نہیں تھا کہ ورچوئل تقریر کر سکوں لہذا طے یہ ہوا کہ ریکارڈ تقریر ان کے نمائندے کے حوالے کر دوں۔

میں نے گفتگو کے آغاز میں عرض کی کہ جے ڈی وینس نے Hillbilly Elegy کتاب تحریر کی تھی۔ اس کتاب میں اس نے تحریر کیا ہے کہ ”There is nothing lower than the poor stealing from the poor“ اس کتاب پر دی ٹائمز نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”مسٹر وینس کے پاس تمام جوابات نہیں ہیں لیکن وہ بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دی گارڈین نے تبصرہ کیا تھا کہ وینس کی کہانیاں خاص طور پر ریگن کے سالوں کے دوران سیاہ فام لوگوں کے خلاف سماجی تحفظ پر حملے کا جواز پیش کرنے کے لئے ’فلاحی ملکہ‘ کی کہانیوں کی یاد دلاتی ہیں“

بس حالیہ مذاکرات پر بھی یہ ہی تبصرہ ہے کہ وینس تمام جوابات نہیں رکھتے تھے مگر وہ بات چیت کو بھی آگے بڑھا گئے ہیں اور اسی طرح سے انہوں نے اس کا امکان بھی موجود رہنے دیا ہے کہ امریکہ کوئی سخت کارروائی کرے اور اس کو کرتے ہوئے ویلفیئر کوئین ہونے کا دعوی کیا جائے۔

اس وقت صورت حال نہایت پیچیدہ ہو چکی ہے اور سوائے ہٹ دھرمی کے اور کوئی بھی اس صورت حال میں پاکستان کے مثبت کردار سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے روابط کا جس مہارت سے استعمال کیا ہے اس نے پاکستان کی حقیقی طاقت کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ دو دشمنوں کو جب مذاکرات کی میز پر لایا جاتا ہے تو فوری طور پر یا ایک دو ملاقاتوں میں مسائل حل ہونے کی امید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اور جیسے کہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”یہ مذاکرات کسی ایک ایونٹ کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہیں، جس نے ایک ایسے سفارتی فریم ورک کی بنیاد رکھ دی ہے جو باہمی اعتماد اور سیاسی عزم مضبوط ہونے کی صورت میں تمام فریقین کے مفادات کے لیے پائیدار راستہ ہموار کر سکتا ہے“۔ جب راستہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے تو پھر وہ مکمل تیار بھی ہو ہی جاتا ہے۔

امریکہ کی سمجھ یہ تھی کہ جیسے ہی عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا تو آبنائے ہرمز کو کھل جانا چاہیے تھا جیسے کہ ایران یہ سمجھتا تھا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی فی الفور ہونا چاہیے تھا۔ اسی طرح سے امریکہ کا یہ خیال تھا کہ ایران بات چیت کو وہیں سے جوڑنے پر آمادہ ہوا ہے کہ جہاں سے جنگ سے قبل ٹوٹی تھی۔ مگر ایران کے پاس کچھ نئے امور بھی تھے۔ اتنی طویل دشمنی اور بد اعتمادی کے بعد اس قسم کی مس انڈر سٹینڈنگ ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں اور پہلی کامیابی یہ ہی ہوتی ہے کہ دونوں فریق کم از کم ایک میز پر تو بیٹھ سکیں جو کہ پاکستان نے ممکن کر دکھایا۔ پاکستان نے یہ بھی کر دکھایا کہ سعودی عرب نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس کے لئے بجا طور پر سعودی ولی عہد قابل تعریف ٹھہرتے ہیں۔

خبریں تو یہ بھی ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست گفت و شنید بھی شروع کرا چکا ہے، اسی وجہ سے ایران کے وزیر خارجہ نے جنگ بندی کے فوری بعد عرب ممالک میں سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کو فون کیا اور اب اسلام آباد ٹاکس کے بعد بھی عباس عراقچی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا۔ اسی دوران اس بات کی بھی امید تھی کہ شہزادہ خالد بن سلمان بھی پاکستان آ رہے ہیں، پاکستان نے اپنی فضائی فوج کو سعودی عرب میں تعینات کرکے اسرائیل کو بھی واضح پیغام دیا کہ وہ موجودہ حالات کے سبب سے سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کے قابل نہیں ہے کیوں کہ یہاں پاکستان موجود ہے۔

اسی دوران پاکستان مایوس نہیں ہوا ہے اور اس نے دوبارہ سے مذاکرات بحال کرانے کے لئے سفارتی سرگرمیاں شروع کردی ہیں کہ دوبارہ سے مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو جائے اور اس کی امید بھی رکھنی چاہیے۔ جس وقت اسلام آباد ٹاکس ہو رہی تھیں تو اس وقت ہی سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کے اعلی سطح کے لوگ موجود تھے۔ امریکہ کے لئے یہ بالکل بھی فیس سیونگ نہیں ہو سکتی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایرانی ٹول ٹیکس کو تسلیم کر لے۔ عرب یہ عام بات کر رہے ہیں کہ امریکہ نے اچھی بھلی چلتی ہوئی اس بحری گزر گاہ کو ان حالات کا شکار کر دیا اور اگر امریکہ ٹول ٹیکس قبول کر لے تو یہ امریکہ نے کیا کر دیا ہے۔ اسی لئے امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی کی بات کر رہا ہے مگر ایران کی سب سے بڑی ایکسپورٹ تیل کا 80 سے 92 فیصد تک خریدار چین ہے جو کہ اس سے 6 سے 10 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر پیٹرول خریدتا ہے۔ اگر ایران پیٹرول نہ بیچ سکا تو چین خرید بھی تو نہیں سکیں گا اور اگر چین نے کوئی کوشش ایرانی تیل لینے کی نہ کی اور عالمی منڈی میں چلا گیا تو اس سے اس کے اخراجات بھی لا محالہ بڑھ جائیں گے، پیٹرول کی قیمت بھی پر لگا کر مزید اڑنے لگے گی۔

کوئی طویل بحری ناکہ بندی بہت مشکل بات ہے اور اندھا دھند بمباری سے بھی اہداف حاصل کرنا بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔ ایران بھی اس صورت حال سے نکلنا چاہتا ہے اگر صرف پیٹرول ہی وہ مارکیٹ کی قیمت پر بیچ سکے تو سالانہ اربوں ڈالرز اس کے خزانے میں مزید شامل ہو سکتے ہیں۔ اس وقت امریکہ کے ساتھ ساتھ ایرانی قیادت کا بھی زبر دست امتحان ہے کہ وہ اپنے ملک اور خطے کو اس بحران سے کیسے نکال سکتے ہیں کیوں کہ مسٹر وینس کے پاس تمام سوالات کے جوابات نہیں تھے مگر وہ بات چیت کو آگے بڑھا گئے ہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)