ایرانیوں کا اجتماعی آئی کیو اور مولوی

ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے تھے لیکن ان مذاکرات کا مقصد کسی مفاہمت پر پہنچنے سے زیادہ امریکہ کے سامنے مذاکرات کی میز پر ڈٹ جانا دکھانا تھا۔ تاکہ اندرون ملک اس کی پوزیشن بحال ہو سکے۔

ہمارے عوام خوش یوٹیوبرز اور یک رخے رویے کے تجزیہ کار آپ کو کچھ بھی سمجھاتے رہے ہوں، حقیقت یہ ہے کہ ایران حکومت نہ اپنے بچوں کے سکولوں کو امریکی اور اسرائیلی بمباری سے بچا سکی ہے، نہ اپنے تیل کی انسٹالیشنز کو، نہ پلوں اور ہسپتالوں کو اور نہ اپنے حکومتی عہدیدار اور فوجی جرنیلوں کو۔ ہر کسی کی پناہ گاہ اور ہر کسی کے سر پر بم اور میزائل برستے رہے۔ عوام کو دوران جنگ کہیں پناہ نہیں ملی۔ جواب میں صرف دھمکیوں یا عرب ممالک پر چند میزائل پھینکنے اور اسرائیل تک روزانہ تین چار میزائل پہنچانے کے علاوہ ایرانی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ یہ حقیقت ہم سے اور آپ سے زیادہ ایرانی عوام جانتے ہیں۔

قالیباف جن بچوں کی تصاویر ساتھ لے کر آئے تھے، ان کا مقصد اپنے ملک میں حکومتی پوزیشن بہتر کرنے کے علاوہ کیا تھا؟ کیا وہ اسلام آباد میں کسی عدالت میں اپنی مظلومیت کا کیس لڑنے آئے تھے؟ جن سے جج اور گواہ متاثر ہو کر فیصلہ ان کے حق میں کر دیتے یا وہ اپنی کمزوری اور پٹ جانے کا اعلان کرنے آئے تھے کہ گزشتہ جنگ میں ہمارے اتنے بچے مارے گئے ہیں، ہم پر مزید ظلم نہ کیا جائے؟ ایران کی مصیبتیں کم کرنے کے لئے مذاکرات ہو رہے تھے، وکٹم کارڈ کھیلنے اور بیک وقت جنگ جیتنے کے اعلان کرنے سے مذاکرات کو کس لاجک کے تحت کامیاب بنایا جاسکتا تھا؟

بچوں کی تصاویر ساتھ لانا، برباد ہونے کے باوجود جنگ جیتنے کا اعلان کرنا، خود کو بہت بے لچک ظاہر کرنا، اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد سارا الزام مخالف پر لگانا، حقیقت میں اندرون ملک حکومتی مسائل کو کم کرنے کی کوشش تھی۔ ایرانی حکومت ایک غیر مقبول حکومت ہے۔ چند مہینے پہلے سارا ایران سڑکوں پر تھا۔ سال پہلے ایک لڑکی کو قتل کرنے کی وجہ سے پورا ایران جل رہا تھا۔ مظاہروں میں ہزاروں ایرانیوں کو پھانسیاں دی گئی ہیں۔ ایرانی حکومت ایک غیر مقبول حکومت ہے۔ کرنسی ٹشو پیپر بنی ہوئی ہے۔ اشیائے خورد و نوش اور ضروریات زندگی پہلے سے مہنگی تھیں، جنگ کے بعد تو انفراسٹرکچر بھی نہیں رہا۔ حکومت سے کوئی توقع رکھنے کی بجائے عوام دوران جنگ، امام مہدی کو مدد اور آمد کی آوازیں دیتے رہے۔ ایرانی بہت کلچرڈ اور خوبصورت لوگ ہیں، ان کا کلچر، تاریخ اور سماجی آئی کیو، ان لوگوں سے بہت بلند ہے، جو لوگ ان پر مسلط ہیں۔

پاکستان نے ایران کو ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا، جس کو ایرانی حکومت کی آنا پرستی نے تقریباً ضائع کر دیا ہے۔ جس ملک نے دامن پھیلا کر دشمن کو ایران کے ساتھ بٹھانے کی انتھک محنت کی، مجبوراً اسی ملک کو اپنی فوج اور ائر فورس ایران کے خلاف اپنے معاہد ملک کو دینی پڑی ہے۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے اور ایران سعودی عرب پر حملے کرتا ہے تو پھر اس کو پاکستان میں مفاہمت کاری کی جو سہولت، کل تک میسر تھی، آئندہ وہ بھی نہیں رہے گی۔

ہرات اور کوئٹہ میں قتل ہونے والے شیعہ، اور پاکستانی سمندر میں پاکستان پر ہونے والے حملے، جنگ کو نیا رخ دینے کی کوشش ہے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ایرانی میزائلوں کا رخ کسی خاص سمت میں نہیں ہوتا۔ اس صورت میں، کیا ایران پر مستقبل میں ہر سمت سے ہونے والے حملے ایران کو محفوظ بناتے ہیں۔ امریکہ نے وقتی جنگ بندی کرکے ایرانی عوام کو نفسیاتی اسسمنٹ کا ایک موقع دیا ہے تاکہ وہ سوچیں کہ جنگ اچھی ہے یا امن۔ خدانخواستہ حملے دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو اس کا اظہار پھر ایرانی عوام کھل کر کریں گے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی مولوی عوام میں بہت مقبول ہیں، اس لیے جنگ کے دوران لوگ ان کے خلاف نہیں نکلے، ان کے لئے عرض ہے کہ ایرانی تاریخ کا شعور رکھنے والے، قوم پرست لوگ ہیں۔ وہ جنگ میں مولویوں کے ساتھ کھڑے نہیں تھے۔ بلکہ ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے تیار نہیں تھے، جو ان پر بمباریاں کر کے انہیں حکومت کے خلاف نکلنے کے لئے کہہ رہے تھے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)