لبنان اور اسرائیل دس روزہ جنگ بندی پر متفق ہوگئے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے اور یہ دونوں ممالک 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں۔
ٹروتھ سوشل میں پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ امن کے حصول کے لیے ان دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایسٹرن ٹائم کے مطابق شام پانچ بجے باضابطہ طور پر 10 دنوں کے لیے جنگ بندی شروع کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب تک نو جنگیں ختم کرواچکے ہیں اور ’یہ 10ویں ہوگی۔‘
اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ نیتن یاہو اور جوزف عون کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ’معنی خیز بات چیت‘ کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کریں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان 1983 کے بعد پہلے مذاکرات ہوں گے۔ دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلد ہی ہو جائے گا۔
آج رات شروع ہونے والی متوقع دس روزہ جنگ بندی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان چھ ہفتوں سے زیادہ جاری رہنے والی جنگ کے بعد لبنان کے لیے بہت ضروری ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔ ملک میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں۔ ابتدائی اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ حزب اللہ اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔
سینیئر رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں قلیل مدتی جنگ بندی پر بریف کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ہر قسم کے حملے رُکنے کی صورت میں وہ اس جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری اس عمل میں بلاواسطہ ہیں سہی لیکن حزب اللہ کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
جنگ میں یہ وقفہ لبنان کے صدر جوزف عون اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی فون کال کے بعد سامنے آیا ہے۔ عون بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ لبنان اسرائیل کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک لڑائی بند نہیں ہو جاتی۔