پاکستان کو کیا ملا؟
- تحریر خورشید ندیم
- جمعرات 16 / اپریل / 2026
’مگر اس سے پاکستان کو کیا ملا؟ کیا اب پٹرول سستا ہو جائے گا؟ کیا پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہو جائے گا؟ کیا مہنگائی کم ہو جائے گی؟‘ ان سوالات کی لغویت اتنی ظاہر و باہر ہے کہ ایک بالغ نظر سماج میں ان کو زیرِ بحث آنا ہی نہیں چاہیے۔
خوش ذوق قارئین سے معذرت کے ساتھ مجھے انہیں موضوع بنانا پڑا کہ یہ سوالات یہاں اٹھائے گئے ہیں اور ایک بڑی تعداد اس کو دانش کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے دُہرا رہی ہے۔ یہ حالات کا جبر ہے کہ ہمیں بعض اوقات ایسے موضوعات پر قلم اٹھانا پڑتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہوتے کہ کسی سنجیدہ فورم پر زیرِ بحث آئیں۔
دنیا میں باعزت مقام کیلئے ریاستیں کروڑوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔ صرف امریکہ کے بااثر حلقوں میں اپنی ساکھ کو بہتر بنانا اب سفارتی ضرورت بن چکا۔ امریکی صدر کی زبان سے ایک آدھ توصیفی جملہ سننے کیلئے پاکستان جیسے ممالک لابنگ فرمز کو لاکھوں ڈالر ادا کرتے ہیں۔ محض یہ تاثر کہ امریکہ کا جھکاؤ آپ کی طرف ہے، آپ کیلئے مواقع سے مملو ایک دنیا کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ امریکہ کا اشارہ ہو تو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی تجوریوں کے دروازے آپ کیلئے کھل جاتے ہیں۔ یہ صرف امریکہ کے ساتھ خاص نہیں۔ ہر اُس قوت کا التفات آپ کی ضرورت ہے جو دنیاکے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے ریاستیں ہی نہیں سیاسی جماعتیں بھی پیسہ خرچ کرتی ہیں۔
گزرے کل جب امریکی کانگرس کے کچھ اراکین نے عمران خان صاحب کی رہائی اور تحریکِ انصاف کے حق میں آواز اٹھائی تو یہ خد مت فی سبیل اللہ سرانجام نہیں دی گئی۔ اس پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔ صدر ٹرمپ سے تحریک انصاف کی وابستہ توقعات کا سبب بھی یہی تھا۔ اس ثالثی سے پاکستان کو جو کچھ ملا، یہ لاکھوں ڈالرصرف کرنے سے بھی نہ ملتا۔ امریکی صدر کم و بیش روزانہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا تذکرہ کرتے ہیں اور تعریف کے ساتھ۔ مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی اسلام آباد میں ہونے کی بات ہو رہی ہے۔ یہ آپ پر عالمی قوتوں کے بھروسے کا اعلان ہے۔ اس سے آپ کی ساکھ بنتی ہے۔ یہ ساکھ ہی ہے جس سے معاشی و سیاسی امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ لوگ آپ کی ضمانت دینے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ عالمی معیشت نقد ادائیگی سے نہیں، ضمانتوں سے چلتی ہے۔ ساکھ بنتی ہے تو بند دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ کاروبار آگے بڑھتا ہے اور باہمی تعلقات بھی۔
ہم صدر ٹرمپ کو برا بھلا کہتے ہیں اور صحیح کہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں اتنے خلا ہیں جو انہیں ناقابلِ بھروسہ ثابت کرتے ہیں۔ اس کے باوصف وہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے صدر ہیں۔ ان کا کہیں جانا ایک واقعہ ہے۔ ان کی ایک ٹویٹ سے عالمی تجارت کے مراکز اوپر نیچے ہو جاتے ہیں۔ جب یہ بات پھیلتی ہے کہ وہ پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں تو اس سے سیاست،معیشت، ہر شے متاثر ہوتی ہے۔ بھارت کی تلملاہٹ کا سبب یہی ہے۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں۔ اسلام آباد کا نام ساری دنیا میں گونجنے لگا ہے۔ عام آدمی سوال کرتا ہے: یہ پاکستان کہاں ہے جہاں تیسری عالمی جنگ روکنے کیلئے عالمی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی ہے؟ یہ سوال اپنے اندر یہ جواب لیے ہوئے ہے کہ یہ کوئی اہم ملک ہے جس کو باہم متحارب قوتوں کا اعتماد حاصل ہے۔
پاکستان کو حاصل ہونے والے اس مقام نے بھارت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون گرا دیا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ یہاں عالمی دہشت گردوں کو پناہ ملتی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں ہونے والے بعض افسوسناک واقعات سے اس مقدمے کو تقویت ملی جن میں پاکستانیوں کا نام آیا۔ اس سے پاکستان دباؤ کا شکار ہوا۔ پاکستان کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے۔ پاکستان کے پاسپورٹ کو مشکوک سمجھا جانے لگا۔ لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہونے لگے۔ پاکستانی معیشت مسائل کا شکار ہو گئی۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ تاثر درست تھا یا غلط لیکن یہ بھارت کی کامیابی تھی۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے اور بھارت امن کا علم بردار۔ اس کے پروپیگنڈا کے زیرِ اثر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پس منظر میں چلے گئے۔ سرمایہ کار بھارت کا رخ کرنے لگے اوروہ اس کے معاشی ثمرات سمیٹنے لگا۔
آج صورتحال بدل رہی ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جو عالمی جنگ روکنے کا سبب بن رہا ہے۔ جو دنیا کو امن کا پیغام دے رہا ہے۔ جو لاکھوں انسانوں کی جان بچانے کیلئے اگلے محاذوں پر سرگرم ہے۔ امریکہ اور ایران پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کر رہے ہیں۔ اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں دہشت گردوں کے حامی ہونے کا تاثر دم توڑ رہا ہے۔ ٹرمپ جیسی مشکل شخصیت کو جنگ بندی پر آمادہ کرنا آسان نہیں تھا۔ پاکستانی قیادت نے ان کی نفسیاتی ساخت کا ادراک کرتے ہوئے ان کے ساتھ معاملہ کیا اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ طاقت کے سامنے اخلاقیات کے مباحث بے معنی ہیں۔ اسے راہ پر لگانے کیلئے بصیرت اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان نے انہی سے کام لیا۔
بالغ نظر قارئین کے سامنے یہ مقدمہ رکھنا، میں جانتا ہوں کہ تحصیلِ حاصل ہے۔ پاکستان کو اس سے کیا ملا، اس سوال کا جواب اتنا بدیہی اور واضح ہے کہ اس پر الفاظ اور وقت ضائع کرنا عقل مندی نہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں لوگوں کو پیش پا افتادہ حقائق کی طرف متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ جو باتیں عقلِ عام کے استعمال سے معلوم ہو سکتی ہیں، وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ لوگ انہیں دیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ جیسے آنکھوں کے سامنے کوئی حجاب آ جائے۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں: پاکستان کو کیا ملا؟ کیا پٹرول سستا ہو گیا؟ کیا معیشت سنبھل گئی؟
پاکستان نے اگر اسی بصیرت کا مظاہرہ جاری رکھا تو ان سوالات کے نقد جواب بھی جلد سامنے آئیں گے۔ اگر پاکستان امریکہ کو اس دلدل سے نکالنے میں معاون بنتا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن اور پٹرول کی خریداری پر پاکستان کو پابندیوں سے استثنا مل جائے۔ اس سے ہمارا بنیادی مسئلہ حل ہو جائے گا جو صنعت کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ پٹرول اورگیس سستے ہو گئے تو مہنگائی کا جن قابو میں آ جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی کئی فوائد ہیں جو آج ہمارے لیے اَن دیکھے ہیں مگر عنقریب ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہ دنیا اسی طرح آگے بڑھتی ہے۔
مواقع اور امکانات کبھی آپ کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور کبھی آپ ان کو تلاش کرتے ہیں۔ ہر چیلنج اپنے ساتھ امکان رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ یورپ سے دور ہوئے۔ چین اور روس سے پہلے ہی دوری تھی۔ سعودی عرب اور خلیج کے دوسرے ممالک اس جنگ میں فریق بن چکے تھے۔ ٹرمپ اور ایران کسی کی طرف ثالثی کیلئے دیکھ رہے تھے کہ جنگ کے اختتام کیلئے ثالث ناگزیر ہوتا ہے۔ پاکستان کو موقع ملا اور اس نے آگے بڑھ کراس کا ہاتھ تھام لیا۔ مواقع اسی طرح انفرادی اور اجتماعی سطح پر دستک دیتے ہیں۔ ہمارا کام ان کا خیر مقدم کرنا ہے۔
پاکستان کو موقع ملا کہ وہ اپنی ساکھ کے بارے میں پھیلے تاثر کو بدلے اور اس نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہ خوشی کا موقع ہے، ماتم کا نہیں۔ امید کا مقام ہے، مایوسی کا نہیں۔ ہمیں بہت کچھ ملا ہے۔ یہ دیکھنے کیلئے دیدۂ بینا ضروری ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)