ہم اور ہمارا کاسۂ گدائی
- تحریر خالد مسعود خان
- جمعرات 16 / اپریل / 2026
گداگری کی بھی عجب مصیبتیں ہیں،جیسے جیسے گداگر کا سوشل سٹیٹس بلند ہوتا جاتا ہے اس کی مجبوریوں میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ گلی محلے میں، سڑک پر، کسی چوک یا کسی مارکیٹ میں کھڑا ہوا گداگر آپ سے خیرات مانگتا ہے۔
اگر آپ اسے خیرات دینے سے انکار کر دیں تو یہ اس کی صوابدید ہے کہ وہ خوش دلی سے اپنی راہ لے، آپ پر ملامتی نگاہ ڈالے اور چلا جائے۔ یا انکار کے باوجود آپ کو دعا دے یا پھر منہ میں بڑبڑاتے ہوئے آپ کے بارے میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کرے اور اپنی راہ لے۔ اس لحاظ سے اس عام تام گداگر کو خیرات ملنے یا نہ ملنے کی صورت میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنے کی کھلی چھوٹ اور آزادی ہے۔ ریاستی گداگری میں بہت سے سفارتی و غیرسفارتی معاملات، مختلف معاشی مجبوریاں اور بہت سی دیگر ناگفتنی رکاوٹیں آپ کو اپنے دلی جذبات کا اظہار بھی نہیں کرنے دیتیں۔ دل میں پیچ و تاب کھانے کے باوجود آپ چہرے پر مسکراہٹ رکھتے ہیں، لہجہ نرم رکھتے ہیں اور بیانات میں شیرینی استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ سراسر منافقت کرتے ہوئے دل میں کچھ اور زبان پر کچھ رکھتے ہیں۔
یو اے ای والے ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی والا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اخبارات آج بھی یہی لکھتے ہیں کہ ایک دوست ملک کی جانب سے قرض کی واپسی کے مطالبے کے بعد پاکستان کو دو دیگر دوست ممالک(سعودی عرب، قطر) نے مالی مشکل سے نکلنے کیلئے قریب پانچ ارب ڈالر کی فوری مالی امداد کی پیشکش کی ہے۔ اس امداد سے مراد کوئی مفت رقم نہیں بلکہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے کی غرض سے ادھار پر دی جانے والی ویسی ہی رقم ہے جیسی رقم پاکستان اب یو اے ای کو واپس ادا کر رہا ہے۔ متوقع طور پر ملنے والے ان پانچ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر کی تو سعودی عرب نے یقین دہانی بھی کروا دی ہے۔ باقی دو ارب ڈالر کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔
ان پانچ ارب ڈالر میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر تو اس قرض کی ادائیگی میں چلے جائیں گے جو ہم نے یو اے ای کو دینا ہے۔ تاہم اس لین دین میں جہاں قومی خزانہ ساڑھے تین ارب کی جگہ پانچ ارب لے کر ڈیڑھ ارب ڈالر کے فائدے میں رہے گا وہیں قرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ملک مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کے بوجھ تلے آ جائے گا۔ کیا عجب مجبوریاں ہیں کہ ہم کھل کر یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ اس برے وقت پر جب پوری دنیا معاشی شکنجے میں پس رہی ہے، ایسے میں اچانک ہی ان ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی کا تقاضا کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ کہنا کہ یو اے ای کی جانب سے قرض کی واپسی کا تقاضا کوئی زیادتی ہے، بذاتِ خود زیادتی ہوگا۔ قرض کی رقم واپس کرنا جہاں قرض لینے والے کا فرض ہے وہیں قرض کی واپسی کا تقاضا کرنا قرض دینے والے کا حق ہے۔ سو یو اے ای نے اپنے اس حق کا استعمال کیا جس پر اخلاقی اور قانونی طور پر قرض واپس کرنے والے کو واویلا کرنے کا نہ تو حق ہے اور نہ ہی اسے ایسا کرنا چاہیے۔
تاہم چیزیں اپنی ٹائم لائن اور وقت کے اعتبار سے بری یا بھلی ہو جاتی ہیں ۔ایسے وقت میں جبکہ اچھے بھلے اقتصادی طور پر مستحکم ممالک بھی تنگی اور پریشانی کا شکار ہیں، ہم جیسے ہما شما تو کسی قطار میں ہی نہیں۔ عشروں سے اقتصادی طور پر برے حالوں کا شکار پاکستان جو اپنے خسارے کے بجٹ کے باعث اپنی آمدن اور خرچ میں فرق کو قرضے لے کر پورا کرتا چلا آ رہا ہے، حالیہ عالمی صورتحال کے باعث مزید مشکلات کا شکار تھا اور ایسے میں دوستوں کو ہماری مدد نہ سہی، کم از کم ہمیں مزید مشکل میں بھی نہیں ڈالنا چاہیے تھا لیکن ہمیں مشکل میں ڈالا گیا۔
ہمارے عزیز دوست میاں غفار نے ایک بار ایک واقعہ سنایا کہ ان کی کالج میں کسی لڑکے سے دوستی ہو گئی جو جلد ہی گہری دوستی میں بدل گئی۔ ممکن ہے کہ ابھی اس دوستی میں مزید گہرائی پیدا ہوتی اور یہ گہری دوستی لنگوٹیے پن اور بھائی چارے میں بدل جاتی، ایک روز اس نئے دوست نے میاں کو کہا کہ میرے والد صاحب نے مجھے تین نصیحتیں کی ہیں۔ پہلی یہ کہ جب تمہارے کسی دوست کی کسی سے لڑائی ہو جائے تم نے وہاں سے خاموشی سے کھسک جانا ہے۔ دوسری یہ کہ صورتحال خواہ کیسی بھی کیوں نہ ہو تم نے اپنے کسی دوست کو ادھار نہیں دینا کیونکہ ادھار محبت کی قینچی ہے۔ اس لیے دوستی برقرار رکھنے کیلئے ادھار کو درمیان سے نکالنا پڑے گا۔ تیسری بات یہ کہ اگر تمہارا دوست کبھی رات کے وقت آ کر تمہارا دروازہ کھٹکھٹائے تو نہ صرف یہ کہ تم نے دروازہ نہیں کھولنا بلکہ اس کو گھر میں اپنی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہونے دینا۔
میاں کہتا ہے کہ میں نے سوچا کہ یہ کیسا دوست ہے جو دوستی کا دعویدار تو ہے مگر کسی مشکل میں، مصیبت میں، لڑائی میں اور میری معاشی تنگی میں میرے ساتھ نہیں ہے۔ میاں غفار کہتا ہے کہ میرے تو دماغ کا فیوز اُڑ گیا، میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس کو ایک زور دار طمانچہ رسید کیا اور اس کے بعد اس لڑکے سے کبھی کوئی تعلق نہ رکھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ عام گداگر اور عام آدمی کو بہت سی سہولتیں حاصل ہیں۔ میاں غفار بھی ہماری طرح کا عام آدمی ہے۔ اس نے جب اپنے نام نہاد دوست کی تین باتیں سنیں تو جو اس کے جی میں آیا اس نے اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے اس کو طمانچہ مار کر اپنے دلی جذبات کو ٹھنڈا کیا۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے اسے یہ سہولت حاصل تھی جو اس نے استعمال کی لیکن ہمیں بحیثیت ریاست ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ عام آدمی ہونے کے جہاں بہت سے نقصانات ہیں وہاں کچھ فوائد بھی ہیں۔
ہماری مجبوری یہ ہے کہ یو اے ای میں سترہ لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی کام کرتے ہیں اور یہ ورکر وہاں سے اوسطاً 700سے 800 ملین ڈالر ماہانہ جو تقریباً آٹھ سے نو ارب ڈالر سالانہ بنتے ہیں، پاکستان بھجواتے ہیں۔ ہماری حکومتیں اس صورتحال میں کوئی رسک نہیں لے سکتیں۔ انہیں علم ہے کہ بیک جنبش قلم بلا وجہ بتائے پاکستانیوں کے ویزے بند کرنے والا ہمارا یہ دوست ملک ایسی کسی ناخوشگوار صورتحال میں ایک حکم کے ذریعے ان سترہ اٹھارہ لاکھ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کر دے گا۔ مجبوریوں کا یہ عالم ہے کہ ہم تو واپسی کے مطالبے پر ادھر ادھر سے مانگ تانگ کر یہ قرض بروقت ادا کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں لیکن ہم یہ نہیں کر سکتے کہ یو اے ای سے 2005 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص کی 2.6ارب ڈالر میں فروخت کی رقم کے بقایا 800 ملین ڈالر ہی وصول کر لیں یا اس قرض کی رقم میں سے منہا ہی کروا لیں۔ 2005سے واجب الادا یہ آٹھ سو ملین ڈالر آج کے حساب سے صرف افراطِ زر کو شامل کرکے ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر بن جاتے ہیں۔ اگر اس آٹھ سو ملین پر وہی چھ فیصد کمپاؤنڈ سود لگائیں جو یو اے ای ہم سے اپنے قرض والے ڈپازٹ پر لے رہا تھا تو یہ رقم اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ بن جاتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجبوریوں نے زبان بند اور ہاتھ باندھ رکھے ہیں ۔
میں گزشتہ تیس سال کے دوران بارہا یو اے ای جا چکا ہوں اور ان تیس سالوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت کے سمتِ معکوس کی جانب ہونے والے سفر کا عینی شاہد ہوں۔ کبھی وہاں پاکستانی روپیہ بھی چلتا تھا اور پاکستان کا ’سکہ‘ بھی قائم تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سب کچھ ختم ہو گیا۔ امارات ایئر لائن اور اتصالات کو پی آئی اے اور پی ٹی سی ایل کے ماہروں اور انجینئروں نے چلایا اور پھر اسی اتصالات نے پی ٹی سی ایل کو خرید لیا اور امارات ایئر لائن نے پی آئی اے کو کئی نوری سال پیچھے چھوڑ دیا۔
فرق صرف اخلاص کا ہے وگرنہ ہم پاکستانی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔ نہ ہمارے حکمرانوں کو ملک سے کوئی غرض ہے اور نہ ہمیں ہی اس ملک کے مستقبل کی کوئی فکر ہے۔ سو ہم ہیں اور ہمارا کاسۂ گدائی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)