ناروے سے مفرور ، اسلام آباد میں امریکی نائب صدر کا استقبال کرنے پہنچ گیا
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 16 / اپریل / 2026
گزشتہ روز ناروے کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار ’ورڈنز گانگ‘ (وے گے) نے امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کے اسلام آباد پہنچنے کے وقت ناروے میں بنک فراڈ کے ملزم اور مفرور عمر فاروق ظہور کی موجودگی کی خبر شائع کی ہے۔ مشکوک ماضی کے حامل ایک مفرور شخص کی ایک ہائی سکیورٹی ایونٹ میں موجودگی پاکستان کے دامن پر بدنما داغ ہے۔
پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان امن کی کوششیں کرنے، عبوری جنگ بندی کرانے اور دونوں ملکوں کے درمیان امن معاہدہ کے لیے بھاگ دوڑ کرنے پر پوری دنیا میں ایک مثبت پہچان کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کو مستقل کرانے اور دونوں ملکوں کو کسی مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں تعاون کررہا ہے۔ امن کے لیے پاکستان کے اس کردار کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔ تاہم ایسے میں عمر فاروق ظہور جیسے شخص کی ایک انتہائی حساس موقع پر موجودگی ،پاکستانی نظام کے اعتبار پر متعدد سوالات کھڑے کرتی ہے۔ دنیا بھر میں ایک نئی سفارتی پہچان اور احترام بناتے ہوئے پاکستانی حکومت اس پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔
عمر فاوق ظہور ناروے میں ایک جانی پہچانی پاکستانی کاروباری شخصیت کے ہاں پیدا ہؤا تھا۔ اس نے 18 سال کی عمر میں ایک ٹریول ایجنسی کھول کر اوسلو میں ہی کاروباری زندگی کا آغاز کیا۔ تاہم سفری دستاویزات کے فراڈ میں اسے اوسلو کی ایک عدلت نے ایک سال قید کی سزا دی۔ لیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ 2010 میں اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے ایک مقامی بنک نورڈیا سے 60 ملین کرونر حاصل کیے۔ وہ خود اس الزام سے انکار کرتا ہے۔ لیکن کبھی ناروے آکر اپنے خلاف الزامات کا دفاع بھی نہیں کرسکا۔ نارویجین پولیس تمام کوششوں کے باوجود بیرون ملک فرار ہوجانے کی وجہ سے اسے گرفتار نہیں کرسکی۔ اسی سال عمر فارق ظہور پر سوٹزرلینڈ میں 20 ملین ڈالر فراڈ کا الزام عائد ہؤا۔ تاہم یہ معاملہ ’پرانا‘ ہوجانے کی وجہ سے اس کے خلاف سوٹزر لینڈ کی کسی عدالت میں عدالتی کارروائی نہیں ہو سکی۔
دو نارویجن صحافیوں رولف جے ویدرو اور ہنس پیتر اوس نے 2014 میں عمر فاروق اور اس کے اہل خاندان کے فراڈ اور دھوکہ دہی کی تاریخ کے حوالے سے ’دی کو‘ The Coup کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس کتاب میں پولیس کی معلومات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں دونوں مصنفین نے اس شخص کے مجرمانہ کردار پر روشنی ڈالی اور معلومات فراہم کیں۔ البتہ نارویجن پولیس کی طرف سے دھوکہ دہی، فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں عمر ظہور کی غیر موجودگی کی وجہ سے کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوسکی۔ اسے اب بھی ناروے میں مفرور کی حیثیت حاصل ہے۔ پولیس نے انٹرپول کے ذریعے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ عمر فاروق ظہور کے نارویجین وکیل یون کرسٹیان ایلدن کا کہنا ہے کہ نارویجین پولیس اس معاملہ میں انٹر پول کو ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکی تھی۔ اگرچہ ناروے کی سپریم کورٹ پولیس کے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر کسی بھی صورت عمر ظہور کی گرفتاری کا حکم دے چکی ہے۔ شاید اسی لیے عمر فاروق ظہورپھر ناروے واپس نہیں آیا حالانکہ اس کے خاندان کے بیشتر ارکان یہیں آباد ہیں۔
عمر فاروق طویل مدت سے دوبئی میں مقیم ہے۔ گاہے بگاہے اس کے عالمی کردار کے بارے میں خبریں نارویجن میڈیا میں شائع ہوتی رہی ہیں جن میں اعلیٰ سطحی روابط میں دھوکہ دہی سے معاملات چلانے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے کووڈ 19 کی وبا کے دوران ایک افریقی ملک کو اس بیماری کی ویکسین فروخت کرنے کے سلسلہ میں بھی اس کا نام آیا تھا۔اسی دوران پاکستان میں اعلیٰ حکام سے اس کے تعلقات کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔ 2020 میں پاکستانی اداکارہ و ماڈل عظمی خان سے شادی اور علیحدگی کا معاملہ بھی پاکستانی میڈیا کی زینت بنتا رہا۔ اس سے پہلے مبینہ طور پر عمر فاروق نے ایک پاکستانی خاتون سے ہی شادی کی تھی اور اس سے اس کی دو جڑواں بیٹیاں بھی تھیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ عمر فاروق پاکستانی اشرافیہ میں اپنے تعلقات کی وجہ سے عدالتی حکم کے باوجود ان بیٹیوں کو 2009 میں جعلی پاسپورٹس پر دوبئی لے گیا تھا۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان دعوؤں کی تصدیق موجود نہیں ہے۔
عمران خان کے خلاف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے تحفہ میں ملنے والی گراف گھڑی دوبئی میں فروخت کرنےکے الزامات سامنے آنے کے بعد عمر فاروق نے پاکستانی میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے عمران خان کو دی گئی گھڑیاں بالواسطہ طور سے دو ملین ڈالر میں خریدی تھیں۔ تاہم وہ کبھی اس دعوے کے ساتھ کسی پاکستانی عدالت میں پیش نہیں ہؤا۔ البتہ حیران کن طور سےان الزامات کے بعد حکومت پاکستان نے اگست 2024 میں عمر فاروق ظہور کو نشان امتیاز کا سرکاری اعزاز دینے کا اعلان کیا ۔ سرکاری اعلان میں انہیں سرمایہ کاری پاکستان لانے کے لیے خدمات سرانجام دینے پر یہ اعزاز دیا گیا۔ عمر فاروق نے یہ تمغہ، مارچ 2025 میں ایوان صدر میں وصول کیا۔
پاکستانی حکومت نے کبھی عمر فاروق ظہور کے ساتھ اپنے تعلقات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اور نہ ہی میڈیا میں اس کے بارے میں الزامات کی وضاحت کرنے اور پاکستانی حکومت کے بری الذمہ ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ناروے میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد آباد ہے ۔ پاکستانی تنظیمیں اور افراد ناروے میں پاکستان کا نام روشن کرنے کی اپنی سی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر حکومت پاکستان ایک مشکوک کردار کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط کے بارے میں کوئی وضاحت کرنے یا حکومت ناروے کی درخواست پر اسے گرفتار کرنے میں معاونت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حالانکہ بعض دوسرے معاملات میں پاکستانی پولیس نے ناروے کی پولیس کے ساتھ تعاون کیا اور مجرموں کی گرفتاری و حوالگی عمل میں آئی۔ ان میں سب سے مشہور معاملہ دہشت گردی کے ایک معاملہ میں ملوث عرفان بھٹی کی پاکستان میں گرفتاری اور اس کی ناروے کوحوالے کرنے کے بارے میں ہے۔ بھٹی کو اسی سال ایک عدالت نے 2022 کے دوران دہشت گردی کے ایک معاملہ میں ملوث ہونے پر تیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اوسلو میں پاکستانی سفارت خانہ بھی مؤثر طریقے سے کام کررہا ہے۔ سفیر پاکستان اور ان کے عملے کو مختلف معاملات میں پاکستان کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں اور نارویجین حکومت و عوام کی حساسیات کے بارے میں اسلام آباد کو مطلع کرنا چاہئے۔ تاہم لگتا ہے کہ عمر فاروق ظہور کے پاکستانی اشرافیہ میں رابطے اور تعلقات کسی سفارت خانے کی سفارشات کو خاطر میں نہیں لاتے۔ 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد کے موقع پر عمر فاروق کی موجودگی اور سٹیو وٹکوف کا اسے وینس سے متعارف کرانا، پاکستان کی سکیورٹی اور سفارتی شفافیت کے بارے میں سنگین پہلو سامنے لاتا ہے۔ ایسے اعلیٰ سطحی ایونٹ میں ناروے سے سنگین الزامات میں مفرور اور دوبئی میں مقیم ایک شخص کی موجودگی حیران کن ہے۔ اگرچہ اس معاملہ میں براہ راست کسی پاکستانی عہدیدار کا نام نہیں آیا لیکن حکومت پاکستان کو اس بات کا جواب تو فراہم کرنا چاہئے کہ عمر ظہور کو ایک ایسے ہائی سکیورٹی ایونٹ تک کیسے رسائی ملی۔ اس موقع پر سخت پابندیاں لگا کر اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی تین روز تک اجیرن کی گئی تھی لیکن عمر فاروق جیسا شخص ہر رکاوٹ عبور کرکے امریکی نائب صدر سے مل لیا۔ پاکستانی نظام میں کسی کے پاس تو اس کا جواب ہونا چاہئے۔ ناروے کی حکومت اور لوگ ہی نہیں یہاں آباد ہونے والے ہزاروں پاکستانی بھی اس سوال کا جواب جاننا چاہتے ہیں۔
عمر فاروق ظہور کے نارویجن وکیل ایلدن کا دعویٰ ہے کہ ’میرا کلائنٹ کئی سال سے بطور ڈپلومیٹ کام کررہا ہے‘۔ اپنے تازہ ترین’ سفارتی رول‘ میں یہ شخص پاکستان کی سخت ترین سکیورٹی عبور کرکے اسلام آباد ائرپورٹ پر دیکھا گیا ہے۔ حکومت جواب دہ ہے کہ کیا پاکستان نے اسے سفارتی اسٹیٹس عطا کیا ہے۔ اور اس کی کیا وجوہات ہیں۔ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی بے توقیری کی روشنی میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کیا عمر فاروق کے پاس پاکستان کا آفیشل یا ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہے؟ دنیا بھر میں پاکستان کو ملنے والی پزیرائی ایسی افسوسناک چوک سے متاثر ہوسکتی ہے۔
اب عمر فاروق ظہور کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی وضاحت عالمی سطح پر پاکستان کے وقار و احترام کی حفاظت کے لیے اہم ہے۔ بتایا جائے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو مجرمانہ پس منظر کے اس شخص کی سرپرستی کررہے ہیں۔ اس حوالے سے صرف ان افراد کا نام عام کرنا بھی قومی و عوامی مفاد میں ہوگا جنہو ں نے گزشتہ برس عمر فاروق کو تمغہ امتیاز دلوانے میں کردار ادا کیا تھا۔