پاکستان کا عالمی کردار اور عوام کی اُمیدیں

میں کل سبزی خریدنے گیا تو اقبال سبزی فروش نے باتوں باتوں میں پوچھا کیا ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان نے معاہدہ کرا دیا تو اس کا ہمیں بھی کچھ فائدہ ہوگا۔ میں نے پوچھا کس فائدے کی بات کررہے ہو،اس نے کہامہنگائی کم ہوجائے، پٹرول پرانی قیمت پر ملنے لگے، بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو،اس وقت تو بُراحال ہے۔

میں نے کہا ممکن ہے پاکستان کو ان مسئلوں سے نجات مل جائے لیکن کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اقبال سبزی والے نے جو سوال کیا، وہ آج کل اکثر لوگوں کے ذہن میں کلبلا رہا ہے۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ اس جنگ کے ساتھ ہی سب کچھ ہوا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، لاک ڈاؤن ہو گیا،اب بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہو رہی ہے۔

 پاکستان کااس وقت کردار بہت شاندار ہے۔ دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ پاکستان کی اہمیت بن چکی ہے۔ یہ معمولی بات نہیں، پاکستان کی سفارت کاری معجزے دکھا رہی ہے۔ مذاکرات کے دوسرے دور کا سلسلہ شروع ہونا چاہتا ہے مگر اس سے پہلے وزیراعظم شہبازشریف کی خلیجی ممالک اور ترکی کے دورے پر روانگی اور دوسری طرف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں موجودگی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔  اُدھر امریکہ بھی اس بات کا خواہاں ہے کہ دوسرا دور پاکستان میں ہو اور معاہدہ ہو جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے یہ اشارہ بھی دے چکے ہیں کہ وہ مذاکرات کے دور میں شریک ہونے کے لئے پاکستان جا سکتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہوگی اور پاکستان کے تاریخی کردار پر کامیابی کی مہر لگ جائے گی۔

 اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سارے عرصے میں پاکستانی قوم نے بھی بہت قربانی دی ہے۔ معاشی مسائل میں گھرے ہوئے عوام پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان کو جو اہمیت مل رہی ہے، اس پر بھی ہر پاکستانی کو فخر ہے ۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ پرائی شادی میں ہم کیوں عبداللہ دیوانے بنے ہوئے ہیں، تو یہ انتہائی جاہلانہ بات ہے۔ ہمارے خطے میں اگر اتنی بڑی جنگ چھڑ گئی تھی تو کیا ہم اس سے لاتعلق رہ سکتے تھے۔ خاص طور پر اس صورت میں کہ جب برادر اسلامی ممالک اس جنگ کی وجہ سے متحارب آ گئے تھے، پھر ہماری معیشت جن درآمدات سے چلتی ہے وہ اگر بند ہوتی ہیں تو ہماری زندگی کا پہیہ کیسے چلے گا؟ جو کردار پاکستان نے ادا کیا ہے اور کررہا ہے، اس کا فائدہ نہ صرف پوری دنیا کو ہوا ہے بلکہ پاکستان بھی بڑے امتحان سے بچ گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

 کچھ حلقے یہ رائے بھی دے رہے ہیں کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ سے یہ بات بھی منوا لینی چاہیے کہ پاکستان کو ایران سے تیل درآمد کرنے کی اجازت مل جائے۔ ایران پاکستان پائپ لائن منصوبہ پایہ  تکمیل کو پہنچے جس کے بعد پاکستان میں تیل بہت سستا ہو سکتا ہے۔ یہ خواہش بُری تو نہیں، تاہم اس موقع پر شاید اس قسم کی باتیں منوانا ثالثی کے اس کردار سے مطابقت نہیں رکھتا جو پاکستان ادا کررہا ہے، اس وقت تو بنیادی اہمیت اس امر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایسے معاہدے کے لئے فضا تیار کی جائےجو پائیدار بھی ہو اور جس کے نتیجے ہی نہ صرف ایران امریکہ کے اختلافات ختم ہوں بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی امن آئے۔

پاکستان اس وقت واحد ملک ہے جو مذاکرات کے ہر پہلو سے آگاہ ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ امریکہ کیا چاہتا ہے اور اس بات سے بھی باخبر ہیں کہ ایران کن باتوں پر ڈٹا ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا دورۂ ایران غالباً اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ ایران کو کچھ باتوں پر نرمی اختیار کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ اُدھر وزیراعظم شہبازشریف بھی سعودی عرب، قطر اور ترکی کے حکمرانوں کو معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے پاکستان کو اس حوالے سے جتنی اہمیت مل چکی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ دور گزر جائے اور پاکستان کونظر انداز کیا جا سکے۔ پاکستان اب خطے کا سب سے اہم ملک بن چکا ہے، بھارت جیسا بڑی آبادی اور فوج رکھنے والا ملک بھی اب پاکستان کے سامنے بونا نظر آ رہا ہے۔اتنے بڑے واقع اور جنگ کے باوجود بھارت اس سارے معاملے میں غیر متعلق ہو چکا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو یہ پہلو سرفہرست رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو معاشی لحاظ سے مضبوط بنانے کے لئے اس بڑھتے ہوئے کردار کی بدولت اقدامات  کرنا  ہیں۔ چاہے وہ باہمی تجارت کی صورت ہوں یا پھر تیل کی فراہمی کے سلسلے میں۔

 پاکستان میں توانائی کے ذرائع سستے ہوں گے تو سرمایہ کاری بھی آئے گی کیونکہ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ پاکستانی مصنوعات بیرون ملک سستے داموں دستیاب ہوں۔ امریکہ کی مارکیٹ میں قدم جمانے کے لئے پاکستان کی مصنوعات پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیرف کم کر دیں تو ہمیں معاشی لحاظ سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ جن ممالک سے ناراض ہوئے ان پر ٹیرف میں اضافہ کر دیا، اب اگر وہ پاکستان سے راضی ہیں، خوش ہیں تو ٹیرف میں کمی کر سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں کہا جائے۔

کل ایک غیر ملکی صحافی نے جو مذاکرات کی کوریج کے لئے اسلام آباد آیا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی بنائی ہوئی ایک ویڈیو اَپ لوڈکی جس میں وہ کہہ رہا ہے یہ ہے وہ اسلام آباد جو دنیا کے ایک بڑے تنازع کو ختم کرنے کا سٹیج بنا ہوا ہے لیکن اس کا حال یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ کہنا یہ چاہتا تھا  کہ دنیا کو روشنی اور امن دینے والے ملک میں اندھیرے ایک عجیب تضاد کو جنم دیتے ہیں۔  اس پہلو پر ہمارے قائدین کو بھی غور کرنا چاہیے۔ یہ باتیں تو روز و شب ہو رہی ہیں کہ پاکستان بلندیوں کی طرف جا رہا ہےلیکن بلندی کوئی کاغذی شے نہیں، یہ جب تک زمینی حقیقت نہ بنے، کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

پاکستان  بلندی کی طرف تب جائے گا جب یہاں غربت ختم ہو گی۔ جب سکول نہ جانے والے کروڑوں بچے پڑھنے جائیں گے، جب علاج معالجے کی اعلیٰ سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ جب بجلی سستی اور وافر ملے گی، تیل اور ڈیزل ارزاں ہوں گے، عدل و انصاف اور امن و امان مثالی قرار پائیں گے۔ ان باتوں پر اگر غور نہیں ہوتا تو ہم بے شک عالمی سطح پر ایک بڑی اہمیت اختیار کر جائیں گے مگر بھوک و ننگ کا آسیب ہماری جان نہیں چھوڑے گا۔ اللہ کرے ہمیں جو بین الاقوامی برادری میں عزت و اہمیت ملی ہے وہ ہمیں خوشحالی، ترقی اور سماجی بہتری کی راہ پر بھی ڈال دے، وہ خواب حقیقت بن جائے جو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دیکھا تھا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)