آئیڈیل ڈپلومیسی اور متوقع اسلام آباد اکارڈ
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 17 / اپریل / 2026
اس وقت ایران امریکا بالواسطہ ڈائیلاگ کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ امریکا جن ایشوز کو اپنی ریڈ لائنز قرار دیتا چلا آ رہا ہے، بدلے ہوئے حالات میں ایک نوع کی تبدیل شدہ ایرانی قیادت نے تقریباً وہ تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں۔
اب اصل ایشو ایران کے لیے یقین دہانیوں یا مطلوبہ گارنٹیوں کا حصول ہے کیونکہ امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ کی سیمائی Unpredictable شخصیت اور لگاتار روا رکھے گئے یوٹرنز کے باعث ایرانیوں کے خدشات ہیں کہ اپنے مطالبات یا شرائط منوانے کے بعد ٹرمپ کہیں ہمارے ساتھ ہاتھ نہ کر جائیں۔ بشمول چائنا کسی کیلئے بھی ٹرمپ کی گارنٹی دینا مشکل ہے۔ اس پس منظر میں ایرانی قیادت یہ تقاضا کر رہی ہے کہ اسلام آباد اکارڈ میں جو کچھ طے پا جائے اس کی گارنٹی یو این سیکورٹی کونسل سے دلوائی جائے۔ لیکن اس میں بھی یہ احتمال موجود ہے کہ موقع نکلنے کے بعد ٹرمپ کو کیسے پابند رکھا جا سکے گا۔
سفارتی حلقوں میں اس نوع کی سوچ بھی پائی جا رہی ہے کہ کیوں نہ ٹرمپ خود اسلام آباد پہنچ کر ایرانی پریزیڈنٹ کے ساتھ مل کر اس متوقع امن معاہدے پر دستخط کریں اور اس پر کاربند رہنے کی یقین دہانی کروائیں۔ پندرہ امریکی مطالبات اور دس ایرانی شرائط کے حوالے سے باہم اشتراک پیدا کرنے اور ہر دو فریقین کو متفقہ لائحہ عمل یا حل پر لانے کے لیے پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بلا شبہ انتھک لگن اور محنت کے ساتھ ایرانی قیادت کو قائل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے جس میں انہیں ترک اور مصری ڈپلومیسی کا بھی پورا تعاون حاصل رہا ہے۔ نیز حسب موقع چائنا کی ہیلپ بھی لی گئی۔ لیکن سب سے بڑھ کر پاکستان کا یہ اصولی موقف نہ صرف ایران بلکہ اس کی ہمسایہ عرب خلیجی ریاستوں پر بھی واضح ہے کہ اگر ازسر نو ایران امریکا جنگ شروع ہوتی یا طول پکڑتی ہے جس کی لپیٹ میں حسب سابق گلف اسٹیٹس اور بالخصوص سعودی کنگڈم آتی ہے تو پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ کھلے بندوں عسکری طور پر مملکت سعودی عریبیہ کے دفاع میں کھڑے ہو جائے۔ اس سلسلے میں پیش بندی کے طور پر پاکستان اپنے جیٹ لڑاکا طیارے اور فوجی دستے دو طرفہ اسٹریٹیجک ڈیفنس معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر بھیج چکا ہے۔ اس سلسلے میں مشترکہ دفاعی مشقیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 کے بعد سے اسٹریٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کے تحت سعودی کراؤن پرنس ایم بی ایس کے ساتھ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کی کئی مشترکہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
اسی تسلسل میں پاکستان کے لیے یہ ممکن ہوا ہے کہ وہ سعودی عرب اور قطر سے اربوں ڈالرز کی وصولی کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو معاہدے کے مطابق واجبات کی ادائیگی یا واپسی کر سکے۔ سعودی فنانس منسٹر کا حالیہ دورہ اسلام آباد اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ اس کے بعد پاکستانی پرائم منسٹر نے حال ہی میں سعودی عرب اور قطر کا کامیاب دورہ کرتے ہوئے امریکا، ایران مذاکرات اور مجوزہ معاہدے کے حوالے سے بھی انہیں اعتماد میں لیا ہے۔ نیز ڈیفینس اور توانائی میں دوحا سے تعاون بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔ پاکستانی قیادت کی بھرپور کوشش ہے کہ ایران سعودی عرب کے بیچ جنگ کی نوبت نہ آئے۔ اسی شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں اب وہ ریاض اور دوحا کے بعد انطالیا پہنچے ہیں جہاں بشمول مصر اور ترکی ہر سہ ممالک کے ڈپلومیٹ موجود ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کرتے ہوئے امریکی تجاویز اور ایرانی شرائط پر نہ صرف ڈسکشن کی ہے بلکہ متوقع مذاکرات میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایرانی قیادت کو اعتماد میں لیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی ایرانی فارن منسٹر عباس عراقچی، ایرانی مجلس کے اسپیکر محمد باقر غالیباف کے علاوہ ایرانی پریزیڈنٹ مسعود پشکیان سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے نہ صرف واشنگٹن کے موقف پر انہیں اعتماد میں لیا بلکہ یہ امکان ہے کہ وہ انطالیا سے ہوتے ہوئے واشنگٹن پہنچیں گے۔
دوسری طرف واشنگٹن میں امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہرصحافیوں کے سوالات پر جو گفتگو کی ہے وہ بھی صورت حال سمجھنے میں معاونت کرتی ہے۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ایران کے ساتھ متوقع معاہدے پر مہر ثبت کرنے خود بھی اسلام آباد جائیں گے تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا امن معاہدے پر اسلام آباد میں دستخط ہوتے ہیں تو شاید میں بھی اسلام آباد جاؤں۔ بہرحال پاکستان میں فیلڈ مارشل اور پرائم منسٹر بہترین شخصیات ہیں۔ دونوں نے مذاکرات میں بہترین کردار ادا کیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن کی تقریباً تمام شرائط مان لی ہیں۔ وہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی ہمارے حوالے کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ ایران نے بیس برس تک ایٹمی ہتھیاروں سے سبکدوش ہونے پر اپنی آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔
دوسری طرف یہ پہلو بھی واضح رہے کہ ایرانی قیادت کے لیے بہت بڑا ایشو لبنانی حزب اللہ کی بقا یا اس کے مطالبات ہیں۔ ایرانی اپنی پراکسی کو ایران جتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ان کی جنگ بندی میں حزب اللہ کی شمولیت کو بھی لازم بنایا جائے۔ اس حوالے سے ٹرمپ کی ہدایت پر واشنگٹن میں سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے لبنانی اور اسرائیلی وزرائے خارجہ سے کامیاب مذاکرات کیے ہیں۔ اور کم از کم دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جس کا یورپی یونین نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ تہران میں ایرانی مجلس کے اسپیکر باقر غالیباف نے پاکستانی آرمی چیف سے مذاکرات کے دوران جب یہ کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی، اس لیے لبنان کو بھی اس جامع جنگ بندی معاہدے میں لازماً شامل کیا جائے تو پاکستانی جنرل آصم منیر نے ایرانی سپیکر کو یہ یقین دہانی کرائی کہ میں لبنان میں جنگ بندی کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہوں۔ اور میں اس پر پوری طرح نظر رکھوں گا۔
دوسری طرف اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ امریکی پریزیڈنٹ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل اور لبنان میں امن معاہدے کی کوششوں کو وقت دیا جا سکے۔ جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جلد لبنانی پریزیڈنٹ اور اسرائیلی پرائم منسٹر کو واشنگٹن مدعو کرنے والے ہیں تاکہ انہیں جامع امن معاہدے میں شامل کرایا جا سکے۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی واضح رہے کہ ایرانی قیادت نے ایٹمی پروگرام پر میعاد بیس کی بجائے پانچ سال کروانے کے اختلافی نکتے پر بات کرنے کے بعد یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دیگر پیچیدہ معاملات پر بریک تھرو ہو گیا ہے۔
اس پس منظر میں نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ پوری دنیا کے لیے یہ ایک خوشگوار لمحہ ہوگا جب اسلام آباد میں ایران امریکا آخری راؤنڈ کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہوئے باضابطہ طور پر “جامع اسلام آباد اکارڈ” کی کامیابی کا اعلان پوری دنیا میں خوشی کے ساتھ سنا جائے گا۔