ایران کا ایٹم بم سے زیادہ طاقتور ہتھیار

امریکہ ایران جنگ کا سیاسی فاتح تو بلا شبہ ایران کہلائے گا۔ مگر اس کے ساتھ دوسرا سیاسی فاتح پاکستان قرار پائے گا جس کی انتھک اور جرات مندانہ کاوشوں سے خطے میں امن بحال ہو گا۔  

امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ بمباری کے نتیجہ میں ایران میں نہتے انسانوں کی زندگیاں کھوجانے کی گنتی تو ہو سکتی ہے مگراس جنگی جنون سے ایران کو ہونے والے اقتصادی نقصان کا تخمینہ لگانا شاید انتہائی مشکل کام ہو گا۔تاہم امن بحال ہونے کے بعد ایرانی حکومت اور  عوام کو ایک عرصہ مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کے آمرانہ نظام ریاست اور عوام کو جمہوری آزادیوں سے محروم رکھنے کے عمل  کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔  مگر دنیا کی واحد سپر پاور  کہلانے والے امریکہ کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں ایران کی استقامت اور مزاحمت کی حکمت عملی کو قابل ستائش نہ ماننا تنگ نظری ہو گی۔ یہ کہنا درست ہو گا کہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور اس کے حواریوں کی اقتصادی پابندیوں اور بائیکاٹ کا سامنا کرنے اور متعد جنگوں کی تباہ کاریوں  سے بچ نکلنے کے بعد ایران مسلم دنیا کا شاید واحد ملک ہو گا جو ایک خودمختار ریاست کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔  

دوسری طرف ایران کے خلاف جارحیت کے مرتکب دونوں ممالک کو اپنی جارحانہ کاروائیوں سے جو حاصل ہو گا، وہ متوقع امریکہ ایران امن معاہدہ سے ظاہر ہو جائے گا۔مگر جارح ممالک خصوصاؔؔ امریکہ کو اس خطے میں اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصانات کا حساب کتاب کرنا مہنگا پڑتا نظر آ رہا ہے۔ ایران پر جارحیت کے دوران امریکہ کے واحد سپر پاور ہونے کے دعوے کو سنجیدہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو جنگ میں مدد حاصل کرنے کے لئے بار بار پکارا۔ مگر یورپی اتحادیوں کے علاوہ آسٹریلیا اور ہمسائے کینیڈا نے بھی امریکہ کی جنگی کارروائیوں میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ ایک آدھ عرب ملک کی حمایت  اور اسرائیل کے ساتھ کے علاوہ جنگ میں سپر پاور امریکہ یک و تنہا کھڑا نظر آیا۔ اس جنگ میں امریکی صدر ٹرمپ نے صرف اپنی ساکھ نہیں کھوئی بلکہ امریکہ نے اپنی فوجی طاقت اور دنیا بھر میں اپنے سیاسی اثرات کوزبردست دھچکا پہنچایا ہے۔         

 ایران کے اسرائیل کے اندر  کامیاب میزائل حملوں نے اسرائیل کے ناقابل شکست دفاعی نظام کا بھانڈا پھوڑ ڈالا ہے۔ ایران کے اسرائیل کے اندر جوابی حملوں سے ہونے والی تباہی کو چھپانے کے لئے اسرائیل نے فول پروف بند و بست کیا تھا۔ہر قسم کے میڈیا پر ایرانی حملوں سے متاثرہ علاقوں تک رسائی اور رپورٹنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔پانبدیوں کے باوجود چند غیر جانبدار میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجہ میں اسرائیل کو مشرق وسطٰی میں اپنی فوجی طاقت کا بھرم برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا۔     

 گلف ریاستوں میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر  ایران کےکامیاب میزائل حملوں نے ان اڈوں کو تقریباؔؔ ناکارہ بنا ڈالا تھا۔ گلف ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں سے عرب ریاستوں پر واضح ہو گیا ہے کہ امریکی فوجی اڈے یا اسرائیل ان ریاستوں کی فضاؤں اور قومی سلامتی کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔اب سعودی عرب اور گلف ریاستوں کو اپنی قومی سلامتی اور دفاع کے لئے ایران کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بدلنا پڑے گی۔ نئی صورت حال کی روشنی میں مغربی ایشیا میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور ایران کے درمیان بہتر تعلقات اور معاشی و عسکری اشتراک پورے خطے کی ترقی و خوشحالی کے لئے اہم ہو گا۔

اب ایران کو شاید کسی ایٹم بم کی ضرورت  پیش نہیں آئے گی۔ کیونکہ ایران پر آبنائے ہرمز  کی شکل میں ایٹم بم سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہتھیار کی موجودگی کا راز کھل چکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی روانی روک کر  دنیا کو جس اقتصادی بحران سے دوچار کیا جا سکتا ہے ، وہ ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور گلف ریاستوں میں امریکی اڈوں پر حملوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کا آپشن ایران کے پاس ہمیشہ موجود رہے گا۔ جنگ میں ایران کی اسی حکمت عملی نے امریکہ اوراسرائیل کو جنگ بند کرکے مذاکرات کرنے پر مجبور کیا ہے۔  

خطے میں امن کی کوششوں میں پاکستان کے اہم کردار کو بھی سراہا جانا چاہے۔ جنگ کے دوران مشکل ترین صورت حال میں پاکستان نے مذاکرات اور امن کا راستہ نکالنے کی جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج ایران نے آبنائے ہرمز   کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لئے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے اور جنگ بندی کے دوران جہازوں کی آمدورفت کے لئے کھلی رہے گی۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اسے آئیندہ چند  دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ہونے کی مضبوط دلیل کہا جا سکتا ہے۔