امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں

ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکہ اور ایران کے  درمیان  امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج اور ایرانی قیادت  کے درمیان فیصلہ سازی میں ہم آہنگی  نہ ہونےکی وجہ سے  آخری مرحلے تک کوئی حتمی دعویٰ کرنا ممکن نہیں ہے۔

ایران اور امریکہ دونوں ہی جنگ سے نڈھال ہیں اور کسی بھی طرح جنگ ختم کرکے کسی باعزت معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ البتہ  ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ایرانی لیڈروں کی خواہش بھی یہی ہے کہ امن معاہدے کا متن اس طرح تحریر کیا جائے جس میں فریق ثانی شکست خوردہ دکھائی دے۔ حالانکہ امن کا مقصد ایک دوسرے کو مکمل احترام دیتے ہوئے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ شاید یہ طریقہ شائستہ اور مہذب بھی ہوتا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مسلسل اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے معاملہ اس حد تک  آگے لے جاچکے ہیں کہ   اس جنگ سے نکلنے کی شدید خواہش کے باوجود  وہ اسے اپنی فتح کی دستاویز بنانے پر مصر ہیں۔ گزشتہ دو روز کے دوران ان کے بیانات اور انٹرویوز کا جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ معاہدہ کی طرف  بڑھتے ہوئے وہ خود کو برتر پوزیشن میں ثابت کرنے سے باز نہیں آتے۔

حالانکہ اس جنگ نے یہ واضح کیا  ہے کہ صرف تباہی مچانے یا اسلحہ کے بے دریغ استعمال سے ہی کسی جنگ کے حتمی مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے لیے پوری صورت حال کا جائزہ لینے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ زمینی حالات کیسے رہے اور جنگ  سے پہلے اور بعد میں فریقین کی  اسٹریٹیجک پوزیشن کس سطح پر  ہے۔ کسی مبالغے کے بغیر جائزہ لیا جائے تو اس حوالے سے  ایران بلاشبہ فائدے میں رہا ہے۔ اگرچہ اسے امریکہ و اسرائیل کی شدید بمباری کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔  کئی ہزار لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ متعدد اہم لیڈر مار دیے گئے اور ملک کا  صنعتی  و عسکری ڈھانچہ بری طرح تباہ ہؤا۔ البتہ اس نتیجہ کا پہلے سے علم تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو  ایران کو شدید نقصان پہنچے گا۔

تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ جن اہداف کے حصول کے لیے شروع کی تھی، وہ پورے نہیں ہوسکے۔ وہ تہران میں ملا رجیم کا خاتمہ چاہتا تھا لیکن اب  اسی  حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد اپنی کامیابی کا اعلان  کرنے کے لیے بے چین ہے۔ تہران میں حکومتی ڈھانچے میں متعدد اہم سیاسی و عسکری لیڈر ہلاک ہوئے لیکن ان کی جگہ لینے والے لوگ زیادہ سخت گیر اور شدت پسند ثابت ہوئے۔ پاسداران انقلاب کی قیادت ہر قسم کے نقصان  کے باوجود مسلسل جنگ جاری رکھنے پر مصر رہی۔  البتہ پاکستان کی شبانہ روز محنت اور دانشمندانہ سفارت کاری کی وجہ سے ایرانی لیڈروں کو جنگ بندی پر مائل کیاگیا اور اب حتمی امن معاہدہ کی راہ ہموار  ہورہی ہے۔

اس کے برعکس امریکہ کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ ایران کی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی خواہش پر ضرور پابندیاں تسلیم کرانے میں کامیاب ہورہا ہے لیکن یہ ایک ایسا مقصد ہے  جو کسی جنگ اور تباہی کے بغیر بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔  28 فروری کو ایران پر شروع  ہونے والے حملہ سے قبل عمان میں ہونے والی بات چیت کے دوران ایران ایٹمی پروگرام کو تقریباً رول بیک کرنے پر متفق تھا لیکن اسرائیل کے  بہکاوے  میں آکر ٹرمپ نے فوجی طاقت آزمانے کا افسوسناک فیصلہ کیا۔ اس طرح  ایران کو آبنائے ہرمزبند  کرکے اسے ایک معاشی و ٹیکٹیکل ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا موقع ملا جس سے اس کے اعتماد  میں بے پناہ اضافہ ہؤا۔  اب امریکہ اس آبی راستے کو کھولنے پر بے حد خوشی کا اظہار کررہا ہے حالانکہ جنگ سے پہلے  اس آبی گزرگاہ پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ امریکہ کو مستقبل میں ہمیشہ  یہ سبق یاد رکھنا ہوگا کہ  غلط  فیصلوں کے نتیجے میں اس نے ایران کے ہاتھ میں ایک ایسا غیر معمولی ہتھیار دے دیا ہے جو اب ہمیشہ کے لیے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بنا رہے گا۔

ایران نے عرب ممالک میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کے نام پر امریکی حملوں کا جواب عرب ممالک   کی تنصیبات و معیشت کو شدید نقصان پہنچا کر دیا ہے ۔ اس جنگ سے پہلے ایران کو اپنی اس طاقت کے  اثرات کا بھی اندازہ نہیں تھا۔ دوسری طرف دہائیوں تک امریکی چھتری میں پناہ لینے   اور کھربوں  ڈالر امریکی اسلحہ پر صرف کرنے والے عرب ممالک کو اندازہ ہوگیا ہے کہ مشکل وقت میں امریکہ ان کی مکمل حفاظت نہیں کرپائے گا بلکہ انہیں امریکہ کے ساتھ دوستی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ آنے والے وقت میں اس امکان کو  نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ متعدد عرب ممالک امریکہ کی بجائے  کوئی  متبادل دفاعی میکینزم اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدے اور اس شدید بحران میں پاکستان کی طرف سے ثالثی کی کوششوں کے باوجود اسلام آباد نے ریاض کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کو آنچ نہیں آنے دی۔ اس طرح یہ ڈیفنس پیکٹ عرب ممالک کے لیے ایک متبادل دفاعی  منصوبہ کی صورت اختیار  کرسکتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر پہلے ہی کسی ایسے اتحاد کے لیے کا م کررہا ہے جس میں  مسلمان ممالک ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکیں اور کسی مشکل میں  ایک دوسرے کی مدد کریں۔ البتہ ایسے انتظامات کو عملی شکل دینے میں کچھ وقت ضرور درکار ہوگا۔ لیکن یہ واضح ہورہا ہے کہ اب  اس جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ میں عسکری تسلط جمائے رکھنا آسان نہیں رہے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ابراہم اکارڈ کے نام سے ایک معاہدہ متعارف کرایا تھا جس کے تحت عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرکے درحقیقت علاقے میں اس کی بالادستی قبول کرنے  کی ترغیب دی جارہی تھی۔ متعدد عرب ممالک نے اس  معاہدے کو مان لیا تھا۔ ٹرمپ اپنے دوسرے دور میں سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کو بھی اسرائیل کے قریب لانا چاہتے تھے۔ البتہ اسرائیل کے ساتھ مل کر مشرق  وسطی ٰ  میں یک طرفہ تباہ کن جنگ کے بعد عرب ممالک کو یہ سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ درحقیقت اسرائیل کے ذریعے اس پورے علاقے پر کنٹرول مسلط کرنا چاہتا تھا ۔ایرانی مزاحمت سے ابراہم اکارڈ کا مستقبل مشکوک ہوگیا ہے۔ اب اسرائیلی لیڈر جس عظیم ریاست کے منصوبے پر عمل کرنا چاہتے تھے، اسے عملی جامہ پہنچانا آسان نہیں ہوگا۔ آسان طریقے سے اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ  ایران  نے حماس کے ذریعے  7اکتوبر  2023  کواسرائیل پر حملہ کرانے کی جو غلطی کی تھی، ویسی ہی غلطی اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے کی۔ جیسے اکتوبر 2023 میں  علاقائی تسلط کا ایرانی خواب پورا نہیں ہؤا، ویسے ہی  ایران پر حملہ کرکے مشرق وسطیٰ کا نمبر دار بننے کا اسرائیلی خواب بھی  شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اسرائیل کی پوزیشن اس جنگ کے بعد بہت کمزور ہوئی ہے۔ اس پر معاشی دباؤ میں اضافہ  ہوگا، سفارتی تنہائی بڑھے گی اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف زیادہ سخت عالمی مؤقف سامنے آئے گا۔

آج آبنائے ہرمز کھولنے سے پہلے امریکی صدر نے لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرانے کا وعدہ کیا تھا۔  اس اعلان کے بعد  تہران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان سامنے آیا۔   تہران کے دورے پر گئے ہوئے  فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی لیڈروں کو آبنائے ہرمز کھولنے اور غیر طے شدہ امور پر اتفاق کرکے امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے  پر آمادہ کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔  ایران  کی سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان  عدم اتفاق کے علاوہ عدم مواصلت بھی اہم مسئلہ تھا۔ سکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے متعدد عسکری لیڈر ایک دوسرے سے براہ راست مواصلت کے جدید الیکٹرانک طریقے استعمال کرنے سے محروم ہوچکے تھے۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل نے تین روز   ایران میں گزار کر اس کی سیاسی و عسکری قیادت کو باہمی اختلافات ختم کرکے  امن کی طرف بڑھنے پر آمادہ کیا۔

یہی وجہ  ہے صدر ڈونلڈٹرمپ پاکستانی لیڈروں کی تعریف میں رطب اللساں ہیں۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد  سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ : ’پاکستان اور اس کے عظیم وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، یہ دونوں شاندار شخصیات ہیں‘ ۔ پاکستان نے یہ سفارتی شناخت سخت محنت اور  ہوشمندی سے روابط استوار کرکے اور انہیں کسی نتیجہ تک پہنچنے  کے لیے استعمال کی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ آئیندہ ہفتے کے شروع میں اسلام آباد میں  ایران و امریکہ کے درمیان حتمی امن معاہدہ کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

  ایسے  معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے کوئی بھی بات حتمی طور سے کہنا    غیر ذمہ دارانہ  ہوگا۔ البتہ یہ امن معاہدہ ہونے کی صورت میں دنیا کے تمام ممالک پاکستان کے شکر گزار ہوں گے۔ عالمی معیشت کے  استحکام اور مزید نقصان سے بچنے کے لیے  ایران جنگ کا ختم ہونا بے حد اہم تھا۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ایک ایسا کارنامہ کردکھایا ہے جو اقوام متحدہ یا دنیا کوئی بھی ادارہ کرنے  میں ناکام تھا۔