امن کے دشمن کون؟
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 18 / اپریل / 2026
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ نہایت کم رہ گیا ہے۔ حالیہ سفارتی کوششیں، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت شامل تھی، بظاہر ناکام ہو چکی ہیں۔ اگرچہ یہ خود ایک مثبت قدم تھا کہ دہائیوں بعد مکالمہ شروع ہوا، مگر اس کی ناکامی نے کئی خطرناک سوالات کو جنم دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 1979 کی ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطہ تقریباً ختم ہو گیا تھا۔ ایسے میں اعتماد کی کمی ایک فطری امر تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ناکامی واقعی ناگزیر تھی یا اسے ناکام بنایا گیا؟ایران نے مذاکرات سے پہلے اپنی چند واضح ’سرخ لکیریں‘ مقرر کی تھیں، جن میں آبنائے ہر مز کی خودمختاری، جنگی نقصانات کا ازالہ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خطے میں جنگ بندی شامل تھے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ جوہری مسئلہ اس فہرست میں سرِفہرست نہیں تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران لچک دکھانے کے لیے تیار تھا۔اس کے برعکس، امریکہ کا رویہ مشروط اور یکطرفہ مطالبات پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ویسے امریکہ نہ تو غیر مشروط طور پر اقتصادی پابندیاں ہٹانے پر آمادہ تھا، نہ ہی جنگی نقصانات کے ازالے پر۔ مزید برآں، اس نے اسرائیل کی پالیسیوں سے خود کو الگ رکھنے کا بہانہ بنا کر دراصل اس کی مسلسل عسکری کارروائیوں کو جواز فراہم کیا۔
یہاں اسرائیلی وزیراعظم بینجامین نیتن یاہو کا کردار بھی اہم ہے۔ لبنان میں جاری کارروائیاں، باوجود اس کے کہ ایران اسے اپنی ’سرخ لکیر‘ قرار دے چکا تھا، کسی بھی سنجیدہ سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف تھیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنا ہی ایک حکمتِ عملی بن چکی ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان کا ہے۔ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورا خطہ اور درحقیقت پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ تیل کی ترسیل، عالمی معیشت، اور خوراک کی فراہمی سب متاثر ہوں گے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما ماضی میں سخت اور متنازع بیانات دے چکے ہیں، جو کسی بھی بحران کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں کنزرویٹیو لیڈر کیمی بیدونوک کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگی اخراجات کا بوجھ ایک بار پھر عام شہریوں پر ڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جنگیں کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتیں۔ ہر جنگ کا انجام بالآخر مذاکرات ہی ہوتے ہیں۔ مگر اگر مذاکرات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے، اور انہیں سیاسی مفادات کی نذر کر دیا جائے، تو امن محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
آج دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے حقیقی نیت کے ساتھ مذاکرات، باہمی احترام، اور طاقت کے بجائے انصاف پر مبنی فیصلے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہیں کرتے، تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ خود ہی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے تصادم کی گرفت میں ہے جہاں بندوقوں کی گھن گرج تو سنائی دیتی ہے، مگر انجام دھند میں چھپا ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی عسکری کارروائیاں بظاہر طاقت کا مظاہرہ ضرور ہیں، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ ایک ایسے اسٹریٹجک بحران کی نشاندہی کرتی ہیں جس میں ’فتح‘کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔
غیر متناسب جنگوں میں کامیابی کا معیار میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی عارضی برتری نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آیا، ایک فریق اپنے مخالف کو اپنی سیاسی شرائط ماننے پر مجبور کر پاتا ہے یا نہیں۔ اسی پیمانے پر اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ عسکری کامیابیاں ابھی تک سیاسی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔ایران کی حکمتِ عملی نسبتاً سادہ مگر مؤثر دکھائی دیتی ہے جو کہ بقا ہی کامیابی ہے۔ جب ایک ریاست اپنے بنیادی ڈھانچے، علاقائی اثر و رسوخ اور سیاسی نظام کو برقرار رکھ لیتی ہے، تو وہ دراصل اس دباؤ کو ناکام بنا دیتی ہے جو اس پر ڈالا جا رہا ہوتا ہے۔اس کے برعکس، امریکہ اور اسرائیل کے اہداف نہ صرف وسیع بلکہ مبہم بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کیا مقصد ایران کی پالیسی تبدیل کروانا ہے؟ اس کی علاقائی طاقت کو محدود کرنا ہے؟ یا مکمل پسپائی پر مجبور کرنا؟ جب اہداف واضح نہ ہوں تو کامیابی بھی قابلِ پیمائش نہیں رہتی۔یہی وہ مقام ہے جہاں اس جنگ کی سب سے بڑی کمزوری سامنے آتی ہے۔
کئی ہفتوں سے جاری اس کشیدگی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، مگر اس کے باوجود کوئی فیصلہ کن پیش رفت نظر نہیں آتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تینوں فریق امریکہ، اسرائیل اور ایران اس تنازع کے اختتام کے بارے میں یکسر مختلف تصورات رکھتے ہیں۔ ایک فریق دباؤ کے ذریعے نتائج چاہتا ہے، جبکہ دوسرا محض اس دباؤ کو برداشت کر کے اسے بے اثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی صورتحال اکثر طویل تنازعات کو جنم دیتی ہے، جہاں وقتی عسکری کامیابیاں بالآخر اسٹریٹجک ناکامی میں بدل جاتی ہیں۔ ویتنام کی جنگ اور دیگر مثالیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ طاقت کا بے دریغ استعمال ہمیشہ سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔اس جنگ میں بھی ایک واضح تضاد موجود ہے:میدانِ جنگ میں برتری حاصل کی جا سکتی ہے، مگر اگر مخالف اپنی بنیادی پوزیشن سے پیچھے نہ ہٹے، تو یہ برتری بالآخر بے معنی ہو جاتی ہے۔آج کی حقیقت یہ ہے کہ یہ تصادم ایک اسٹریٹجک تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ اور تعطل ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس میں فریقین اکثر اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے تصادم کو مزید وسعت دیتے ہیں۔اگر یہی روش جاری رہی، تو یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی ایک طویل المدتی خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکہ کی دادا گری اور اسرائیل کے خونی پنجوں سے مغربی ایشیا ایک بار پھر ایسی آگ میں جل رہا ہے جس کی تپش صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی۔ گزشتہ دو برسوں میں امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ نے خطے کو مسلسل کشیدگی، خونریزی اور عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ صرف جنگی محاذوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے انسانی زندگی، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔اب ایران اس بڑھتی ہوئی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تصادم کسی واضح انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، یا محض طاقت کے مظاہرے کی ایک نہ ختم ہونے والی زنجیر بن چکا ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت، برتری اور تسلط کے نظریات نے جنم لیا، انہوں نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ دوسری جنگِ عظیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں عسکریت پسندی اور بالادستی کے نظریے نے کروڑوں انسانوں کو نگل لیا۔ اس جنگ کے بعد دنیا نے یہ عہد کیا تھا کہ ایسے نظریات کو دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔مگر آج کے حالات اس وعدے پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔موجودہ صورتحال میں طاقت کا غیر متوازن استعمال، خودمختاری کو چیلنج کرنا، اور سیاسی مقاصد کے لیے عسکری دباؤ بڑھانا ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ ایک ایسی سوچ کی عکاسی ہے جو طاقت کو حق پر ترجیح دیتی ہے۔تاہم، ایک حقیقت واضح ہے: جنگیں وقتی برتری تو دے سکتی ہیں، مگر وہ پائیدار حل کبھی فراہم نہیں کرتیں۔ اگر کوئی فریق یہ سمجھتا ہے کہ مسلسل دباؤ اور طاقت کے استعمال سے وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر لے گا، تو تاریخ بار بار یہ ثابت کر چکی ہے کہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔
آج دنیا کو ایک بار پھر ایک فیصلہ کن موڑ کا سامنا ہے۔ یا تو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے، یا پھر انہی راستوں پر چل کر ایک اور طویل اور تباہ کن بحران کو دعوت دی جائے۔امن کا راستہ طاقت کے استعمال سے نہیں، بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام سے نکلتا ہے۔ اگر یہ اصول نظر انداز کیے گئے، تو یہ آگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔توسوال یہ ہے کہ امن کا دشمن کون ہے؟ کیا وہ ریاستیں ہیں جو طاقت کے بل پر اپنی شرائط مسلط کرنا چاہتی ہیں، یا وہ پالیسیاں جو مکالمے کے دروازے بند کر کے تصادم کو ہوا دیتی ہیں؟
جب امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور فریق عسکری دباؤ کو سفارتکاری پر ترجیح دیتے ہیں، اور ایران جیسے ممالک اسے اپنی بقا کی جنگ سمجھتے ہیں، تو امن سب سے پہلے قربان ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کا دشمن کوئی ایک ملک نہیں، بلکہ وہ رویہ ہے جو طاقت کو حق سمجھتا ہے، اختلاف کو دشمنی میں بدل دیتا ہے، اور انصاف کے بجائے غلبے کو ترجیح دیتا ہے۔ جب تک یہ سوچ تبدیل نہیں ہوتی، امن صرف ایک خواہش رہے گا، حقیقت نہیں۔