امن معاہدہ کی طرف بڑھتے ہوئے فریقین کی لاچاری

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی طرف سے گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ایک دوسرے پر الزام تراشی اور زبانی گولہ باری سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ فریقین حتمی معاہدہ سے پہلے اپنے  اپنے لوگوں کے سامنے ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں جس  میں بعد از وقت دوعویٰ کیا جاسکے کہ جنگ انہوں نے جیتی ہے۔ اور معاہدہ ان ہی کی شرائط پر ہؤا ہے۔

تاہم ایک دوسرے کی پوزیشن کاا ندازہ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو جانچتے ہوئے سخت زبان اور تلخ الفاظکا استعمال آخری وقت میں  کسی مشکل کا سبب بن سکتا ہے۔  فریقین کے لیے مناسب تو یہی ہوتا  کہ اگر  جنگ روکنے اور تنازعات بات چیت کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کا فیصلہ کیا  گیاہے تو خلوص نیت سے  اس  جانب توجہ دی جائے اور میڈیا میں بیانات کے ذریعے ایک دوسرے کو بھڑکا کر ماحول خراب نہ کیا جائے۔ البتہ امریکہ اور ایران کے لیڈر جس حکمت عملی پر عمل کررہے ہیں اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ  صلح کے لیے اسلام آباد میں اکٹھا ہونا دونوں کی مجبوری ہے اور دونوں ہی درحقیقت امن کی بجائے تنازعہ ہی میں اپنا فائدہ دیکھ رہے ہیں۔  

دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف 47 سال سے برسر پیکار رہے ہیں۔ ایران ، امریکہ کو  ’شیطان بزرگ‘ قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ نے ایران کو  آدہشت گرد ریاست‘ کا درجہ دے رکھا ہے۔ البتہ فروری کے آخر میں  شروع ہونے والے آخری تصادم کے بعد اب  ایران ہی نہیں دنیا بھر کا معاشی   مفاد داؤ پر لگا ہؤا ہے۔  جس کی وجہ سے دنیا اس تنازعہ کو ختم ہوتے دیکھنا چاہتی ہے لیکن فریقین ایک دوسرے کو تولتے ہوئے امن کی طرف یوں پیش قدمی کررہے ہیں جیسے کوئی سزا یافتہ مجرم سوئے دار جاتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے 8 اپریل کو امریکہ اور ایران سے  دو ہفتے  جنگ بندی کی  اپیل کی گئی تھی اور اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی گئی۔ فریقین  یہ اپیل منظور کرکے جنگ بندی  پر راضی ہوگئے  اور 11 اپریل کو  اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے جو  اکیس گھنٹے تک تواتر سے جاری رہے۔ تاہم  فریقین کسی  معاہدے پر متفق نہیں ہوسکے۔ البتہ دونوں طرف سے جنگ بندی جاری رکھی گئی۔ یہ  مدت  ایک روز بعد 21 اپریل کو  ختم ہورہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے امریکی وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم  ایران کو ایک مناسب اور معقول ڈیل کی پیشکش کر رہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے قبول کر لیں گے ۔ کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا‘۔ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیل قبول نہ کی تو وہ ایران کے ساتھ وہ کریں گے جو گزشتہ 47 برس میں امریکہ کے سابق صدور کو کر دینا چاہیے تھا۔ دوسری طرف ایران  کی طرف سے   رات گئے تک ان مذاکرات میں شرکت کے لیے وفد بھیجنے کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی تھی ۔البتہ چند گھنٹے پہلے   مذاکرات کے پہلے دور میں  ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر  محمد باقر قالیباف  کا کہنا تھا کہ  معاملات آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے   بہت فاصلہ ہے۔

ایران کی خواہش ہے کہ  اسلام آباد مذاکرات کا  دوسرا دور شروع ہونے سے پہلے کسی بھی طرح امریکہ آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ ختم کردے ۔  ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس بلاکیڈ کی وجہ سے  ایران کو روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔  جبکہ ایران کا مؤقف  ہے کہ  بلاکیڈ  ایک قسم کی بحری قزاقی ہے۔ اس کے ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔  صدرٹرمپ کسی معاہدہ کے بعد ہی بلاکیڈ ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ  غالب امکان ہے کہ امریکی وفد کی اسلام آباد روانگی کے بعد ایران بھی اپنا وفد پاکستان بھیجے گا تاہم پاسداران انقلاب اور  سیاسی قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اور عسکری  قیادت کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے  آخری مرحلے پر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ پاسداران سے تعلق رکھنے والے میڈیا ادارے اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کی خبروں کو غلط قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کی مداخلت  پر امریکہ نے  ایران کو کم از کم دو رعائتیں دی ہیں۔ گزشتہ دنوں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران میں قیام کے دوران امریکہ نے  لبنان پر اسرائیلی حملے بند کرائے تھے اور اب  ٹرمپ کی طرف سے  نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان نہ بھیجنے کا اعلان کرنے کے باوجود  وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ وہی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔ خیال ہے کہ اس بارے میں بھی پاکستان نے ایرانی خواہش کی تکمیل کے لیے درخواست کی ہوگی۔ اب دیکھنا ہوگا کہ کیا پاکستانی حکومت ٹرمپ کو مذاکرات کے دوران خوشگوار ماحول پیدا کرانے کے لیے آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ ختم کرانے پر راضی کرپاتی ہے۔ یا ایرانی وفد  کو انہی حالات میں بات چیت کے لیے آنا ہوگا۔ اگر ایران امریکی وفد کی آمد کے باوجود وفد بھیجنے سے انکار کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج  ہوں گے البتہ اگر طوعاً  کرہاً ایرانی وفد اسلام آباد آتا ہے تو بات چیت کے  لیے ماحول کشیدہ اور تلخ ہوگا۔

امن چاہنے کے باوجود ایران اور امریکہ اپنے اپنے طریقے سے امن معاہدے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ اور ان طریقوں میں بہت فرق  ہے۔ ایران زیادہ سے زیادہ وقت لے کر  عبوری جنگ بندی اور مذاکرات کی مدت کو کئی ہفتے یا ماہ  تک  پھیلانا چاہتا ہے ۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ فوری طور سے اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر امن معاہدہ یا مکمل تباہی کی طرف بڑھنے کا اعلان کررہے ہیں ۔ اپنے آخری پیغام میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ    معاہد ہ نہ ہؤا تو وہ جنگ بندی کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے۔ ابھی تک تہران سے جو اشارے مل رہے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں یہی محسوس کیا جاتا ہے کہ بیک وقت  مختلف مؤقف اختیار کرنے والا امریکی صدر اس بات سے بھی پیچھے ہٹ  جائے گا اور ایران کو اپنی مرضی کے مطابق التوا اکایک اور موقع مل جائے گا۔

البتہ    نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کی وجہ سے   ٹرمپ کے لیے اس مشکل اور غیر مقبول جنگ سے جلد نکلنا بے حد ضروری ہے۔ دوسری طرف ایران کی رجیم کو دکھائی دے رہا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوجاتا ہے تو  اسے جنگی تباہی کے مشکل مسئلہ سے نمٹنے کے علاوہ ملک میں معاشی بے چینی، بیروزگاری اور بدحالی و غربت کے مسائل کا سامنا ہوگا۔  دنیا کے  باقی لوگوں کی طرح رجیم کے انتہا پسند عناصر بھی جانتے ہیں کہ عوام اس حکومت اور نظام سے خوش نہیں ہیں۔   لوگوں نے قومی جذبہ سے جنگ کے دوران امریکی خواہش کے برعکس حکومت کے خلاف احتجاج سے گریز کیا لیکن جنگ کے بعد  شاید وہ بہت دیر تک خاموش نہ رہ سکیں۔  رجیم کے  حقیقی طاقت ور لوگوں کو اندیشہ ہے کہ جنگ کے دوران امریکہ جو مقصد حاصل نہیں کرسکا،  وہ مقصد  شاید ایران کے ناراض عوام کا غم و غصہ  چند دنوں یا ہفتوں میں حاصل کرسکتا ہے۔ ایرانی حکومت اس مشکل سے بچنے کے لیے بھی امریکہ سے امن معاہدہ کرنے  پر متفق ہونے کے باوجود اسے زیادہ سے زیادہ دیر تک تعطل  کا شکار رکھنا چاہتی ہے  تاکہ وہ قوم پرستی کے ماحول میں اپنی گرفت برقرار رکھ سکے۔

ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کے بعد بھی کہہ چکے ہیں کہ فریقین معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ اب بھی تہران سے یہی اشارے دیے جارہے ہیں کہ بیشتر نکات پر اتفاق ہوچکا ہے۔  پھر بھی مذاکرات کے دوسرے دور میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش ناقابل فہم ہے۔  آبنائے ہرمز کا مسئلہ  امریکی مطالبے کے مطابق تقریباً طے شدہ ہے۔ تہران  سے اس کا اعلان بھی ہوگیا تھا تاہم پھر بلاکیڈ کو عذر بنا کر یہ  آبی گزرگاہ ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ دونوں  ملکوں  کا اصل اختلاف ایران کی جوہری صلاحیت کے حق اور ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کی ایران سے بیرون ملک روانگی کے بارے  میں ہے۔ امریکہ  چاہتا ہے کہ ایران بیس سال کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی ہر کوشش سے دست بردار ہوجائے البتہ ایرانی لیڈر کسی نہ کسی قسم کا جوہری پروگرام جاری رکھنے پر  اصرار کرتے ہیں۔ تاہم یہ اختلاف دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بیانات کی شدت میں معمولی اختلاف کو ایک  بڑی اور ناقابل عبور خلیج کی صورت دی جارہی ہے۔

اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور رتاریخ ساز ساور امن کی طرف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر تہران اور واشنگٹن کی طرف سے سخت بیان بازی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو  امن کی بجائے  مشرق وسطیٰ میں  ایک مزید بھیانک اور زیادہ تباہ کن جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ یہ جنگ عالمی معیشت   اور دنیا کے تمام  ممالک کے لیے پریشان کن ہوگی۔