صحافی اظہار عباسی بے روزگاری کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے
- تحریر رضی الدین رضی
- سوموار 20 / اپریل / 2026
کئی سال پہلے کی بات ہے اظہار نے ہمارے جنم دن پر ہمیشہ کی طرح محبت کا اظہار کیا ۔ ہم نے شکریے کا فون کیا تو کہنے لگا میں آپ سے ملنا بھی چاہتا ہوں۔ میرے پاس آپ کی کوئی کتاب نہیں۔
اظہار اے پی پی آفس میں ہمیں ملنے آئے۔ بہت دیر تک ہم مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ۔ اس نے پوچھا کیسا لکھتا ہوں رہنمائی کیجیئے ؟ میں نے کہا ’’ اظہار آپ سب کو محبت سے یاد ضرور کریں لیکن آپ کی تحریروں میں تنوع ہونا چاہیئے۔ آپ جوش محبت میں سب کو دبنگ ، جرائت مند ، صاف ستھرا لکھ دیتے ہیں۔ سب ایسے نہیں ہوتے‘۔
اظہار عباسی کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی سچ کے ذریعے کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا ۔ اور اس کا یہ رویہ ہم عصروں میں سب کے ساتھ تھا۔ ان تھک کام کرنے والا نوجوان جو ہم سب کو بہت عزیز تھا ۔
اظہار کے ساتھ محبت کا ایک رشتہ نوائے وقت کے حوالے سے تھا ۔ ہم نے طویل عرصہ وہاں کام کیا لیکن ہم سخت جان نکلے، نوائے وقت سمیت کئی اخبارات کو بھگتنے کے بعد بھی جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اظہار ایسا نہیں کر سکا۔ وہ ایک سپورٹس رپورٹر تھا۔ رشید ارشد سلیمی ، عمران عثمانی اور ندیم قیصر کی طرح اپنے شعبے کا ماہر۔ کچھ عرصہ قبل اس نے اس نے ایک یو ٹیوب چینل بھی بنایا تھا اور اس کے ذریعے ہمیں کھیلوں کی خبریں بھی ملتی رہتی تھیں۔
اظہار عباسی کارکن صحافی تھا، اس لیے اخبارات میں ڈاؤن سائزنگ کی زد میں آتا رہا۔ نوائے وقت دنیا سمیت کئی اخبارات سے منسلک رہا اور اپنی ’’ کارکردگی کی بنیاد پر ‘‘ ہی ان اخبارات کے لیے بے کار ثابت ہوا ۔ شریف بچہ تھا ، ایمان دار اور رزقِ حلال پر یقین رکھنے والا تھا۔ اس نے دو وقت کی روٹی چلانے کے لیے کاروبار بھی شہد کا شروع کیا ۔ ورنہ تو آج کل بہت سے نام نہاد صحافیوں نے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔ دن بھر ڈی ایچ اے اور چائینہ کٹنگ کی باتیں ہوتی ہیں ، مرلوں اور کنالوں کے سودے کرتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ آخر تو ہمیں دو گز زمین ہی درکار ہے ۔ اور وہ دو گز زمین بھی نصیب والوں کو ہی ملتی ہے ۔۔
اظہار عباسی کے لیے صبح سے تعزیتی پیغامات لکھے جا رہے ہیں۔ وہ ناصر محمود شیخ کا جوڑی دار تھا۔ ناصرشیخ سالگرہ پر کیک اور تحائف بھیجتے ہیں۔ اظہار عباسی تحریر کے ذریعے جنم دن پر احباب میں خوشیاں تقسیم کرتا تھا۔ ناصر شیخ نے اظہار کی موت کی اصل وجہ بھی ناصر بھائی نے ہی درج کی ہے۔ اور یہ وجہ اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ اس پاک سر زمین پر لوگوں کے لیے رزق کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ انہیں اس کے لیے سات سمندر پار کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے اور سات سمندر پار اڑان کے لیے پروں میں دولت کی طاقت ہونا ضروری ہے۔ ورنہ اظہار جیسے پرندے اڑان کی کوشش میں ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔
دوستوں کے جنم دن پر خوشیاں تقسیم کرنے والا اظہار آج جاتے ہوئے ہمیں ایسا دکھ دے گیا کہ جس کا اظہار بھی مشکل ہے ۔
اظہار عباسی ہفتہ اٹھارہ اپریل کی صبح حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے ۔ اظہار عباسی سپورٹس رپورٹنگ میں مہارت رکھتے تھے تاہم دیگر صحافیوں کی طرح وہ بھی بے روزگاری کا شکار ہو گئے اور یہی ان کی موت کی وجہ بنی۔ روزنامہ جنگ کے سابق کلچرل رپورٹر ناصر محمود شیخ کے مطابق اظہار کی موت ایک بیروزگار صحافی کی موت ہے لیکن اس کے دل دماغ کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب فن لینڈ کی ایمبیسی سے ویزا ریجیکٹ ہونے کا لیٹر موصول ہوا۔ اس کے خواب چکنا چور ہوگئے۔
ان کے دو برادر نسبتی اظہار اور اپنی بہن کے لئے تین سال سے کوشش کررہے تھے کہ دونوں کے ورک ویزے کا مرحلہ مکمل ہوجائے۔ اور وہ ملتان سے سات ہزار 5سو کلو میٹر دور اپنی نئی دنیا بسالیں۔ جہاں خوشی اور خوشحالی ہو لیکن رب کو یہ منظور نہ تھا۔ اظہار عباسی کی کوئی اولاد نہ تھی لیکن میاں بیوی صابر شاکر تھے۔
سوشل میڈیا پر ہر صحافی کے جنم دن پر تحریر لکھتے تھے، خوب لکھتے تھے۔ جو خوبیاں ہم میں نہیں تھیں، وہ بھی محبت پیار احترام سے لکھ دیتے تھے۔ آج کل مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے شہد کی خرید و فروخت کا آن لائین کام کرکے گزارا کررہے تھے۔