ٹرمپ کا پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان

  • بدھ 22 / اپریل / 2026

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف حملہ فی الحال مؤخر کیا جا رہا ہے تاکہ ایرانی قیادت اور نمائندے متفقہ تجویز پیش کر سکیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہا جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں۔بعدازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور ایران دراصل اسے کھولنا چاہتا ہے تاکہ یومیہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی دوبارہ حاصل کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے کھلا رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے وہ روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کماتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران محض اپنی ساکھ بچانے کیلئے آبنائے ہرمز کی بندش کی بات کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں امریکا نے اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔ چند روز قبل بعض افراد نے مجھ سے رابطہ کر کے بتایا کہ ایران فوری طور پر آبنائے کو کھولنا چاہتا ہے۔امریکی صدر نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھولا گیا تو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی گنجائش نہیں رہے گی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج مذاکرات کیلئے پاکستان نہیں آئیں گے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اس بیان سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے جواب نہ دینے پر امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوگیا ہے۔تاہم اس حوالے امریکی حکام کی جانب سے میڈیا نمائندگان کو بتایا گیا ہے کہ جے ڈی وینس کا دورہ کسی بھی وقت دوبارہ طے ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں شرکت کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب بھی مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے، ایران اس میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

دریں اثنا قوام متحدہ میں ایران کے نمائندے امیر سعید کا کہنا ہے کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ امیر سعید کے مطابق ’ہمیں کچھ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ یہ ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ جیسے ہی انہوں نے بحری ناکہ بندی ختم کی، مذاکرات کا اگلا دور ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے عسکری جارحیت شروع نہیں کی بلکہ انہوں نے ہمارے خلاف جنگ شروع کی اور ہم تیار ہیں۔ ایران کے نمائندے نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ (امریکہ) میز پر بیٹھ کر مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں، تاکہ سیاسی حل تلاش کیا جاسکے تو وہ ہمیں بھی تیار پائیں گے اور اگر وہ جنگ چاہتے ہیں تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔