اشرف جاوید سے ملاقات، طباق ، تپاک اور چشم نم ناک

17 اپریل جمعہ کا دن ہے ہم  نے یہ دن قمبر رضا نقوی کے ہمراہ اشرف جاوید صاحب کے ساتھ گزارا۔ ہم جمعرات 13 اپریل کو بھائی وجاہت مسعود کے پاس لاہور آئے تھے۔ قمبر کے ساتھ ہمارا وعدہ تھا کہ ہم جب بھی لاہور آئے اس سے رابطہ کریں گے۔

یہی وعدہ ہم نے اشرف جاوید صاحب کے ساتھ بھی کر رکھا تھا۔ ہم کل شام قمبر کے پاس آ گئے تھے۔ قمبر اتحاد ٹاؤن میں رہتے ہیں۔ ہم رات گئے تک جاگتے رہے۔ اس دوران بھابی صاحبہ کے ہاتھ کے لذیذ پکوانوں سے لطف اندوز ہوئے ۔ قمبر کے بیٹے کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ قمبر اپنے صاحب زادے اور بیٹی کے ہمراہ یہاں مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا کسی بین الاقوامی کمپنی کے ساتھ منسلک ہے اور سعودی عرب میں ایک پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ قمبر کو جب ہم نے بتایا کہ ہم نے سبزہ زار سکیم میں اشرف جاوید صاحب سے ملنے کے لیے جانا ہے اور ہم جانتے تھے کہ سبزہ زار سکیم شہر کے دوسرے کونے پر واقع ہے تو اس نے کہا لاہور میں اب فاصلے کوئی معنی نہیں رکھتے۔۔ یہاں اورنج ٹرین نے پورے شہر کے فاصلے سمیٹ دیئے ہیں۔ اور اس معلق ٹرین میں آج کل تو ٹکٹ بھی نہیں لینا پڑتی کہ مریم نواز صاحبہ نے پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ عوام کے لیے مفت کر دی ہے ۔

اورنج ٹرین کے احوال سے قبل آپ کو 1988 کے منظر میں لے چلتے ہیں، جب ہم نے لاہور میں تین سال قیام کے بعد ملتان کا قصد کیا۔ ہماری ملتان روانگی اپریل کے آخری ہفتے میں تھی کہ ملتان سے پچیس اپریل کو روزنامہ قومی آواز کا اجرا ہونے جا رہا تھا اور ہمیں اس کی بانی ٹیم کا رکن بننا تھا۔ یہ روداد بھی ہم اپریل کے مہینے میں ہی لکھ رہے ہیں۔ گویا یہ کم و بیش چالیس برس پرانی بات ہے۔ ہماری روانگی سے ایک روز قبل اشرف جاوید صاحب نے ہمارے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ لوہاری گیٹ میں مسلم مسجد کے قریب ایک ہوٹل ’’ طباق ‘‘ کے نام سے تھا۔ اب تو شاید وہ نئے تقاضوں کے مطابق تبدیل ہو چکا ہو گا لیکن اس زمانے میں وہ ملتان کے ’ اولڈ شنگریلا ‘ جیسا تھا۔ مجھے تو یاد نہیں تھا ، لیکن اشرف صاحب نے بتایا اس ضیافت میں اطہر ناسک اور طفیل ابنِ گل بھی موجود تھے۔

واپس اورنج ٹرین کی جانب آتے ہیں ، جس میں ہم نے پہلی بار سفر کیا۔ قمبر کے گھر کے قریب علی ٹاؤن میں اس ٹرین کا آخری سٹاپ ہے۔ گاڑی پارکنگ میں لگا کر ہم ٹرین میں سوار ہوئے اور اشرف صاحب کے بتائے ہوئے سٹاپ "صلاح الدین اسٹیشن " پر پہنچ گئے۔ ٹھوکر نیاز بیگ ، علی ٹاؤن ، ہنجر وال ، اعوان ٹاؤن ، وحدت روڈ یتیم خانہ چوک ( موجودہ نام ختم نبوت چوک ) سبزہ زار سے ہوتی ہوئی ٹرین منزل مقصود پر پہنچی تو اشرف صاحب ہمارے منتظر تھے ۔ وہ بہت تپاک کے ساتھ ہمیں ملے ۔ ہم اس دوران 1985 والے منظر میں کھوئے رہے۔

یہ سب لاہور کے مضافاتی قصبے اور پسماندہ علاقے تھے، جہاں اب کئی کئی منزلہ عمارتیں ہیں۔ سبزہ زار سکیم والے علاقے کو سکیم موڑ کہا جاتا تھا۔ ہم اس کے قریب ہی شاہ نور سٹوڈیوز کے سامنے محلہ سید پور میں رہتے تھے اور نو نمبر ویگن پر شہر کی جانب جاتے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ یہاں تعمیراتی کام شروع ہوا اور روڈ رولر چلنے لگے۔ اشرف صاحب کے ساتھ لاہور میں قیام کے دوران کم و بیش روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ وہ سٹیٹ بینک کے ساتھ منسلک تھے اور ہمیں جب بھی فرصت ملتی ہم ان کے پاس آ جاتے۔ وہ کام میں مگن رہتے اور ہمیں کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ تھما دیتے۔ آفس سے فراغت کے بعد ہم ٹی ہاؤس یا کسی تقریب میں جاتے ۔ واپسی پر ہم ایک ہی ویگن میں سوار ہو کر شاہ نور سٹوڈیوز اترتے اور پھر انتظار کرتے رائیونڈ جانے والی بس کا۔ اشرف صاحب ان دنوں رائیونڈ میں مقیم تھے۔ انہیں روانہ کر کے ہم اپنے کمرے میں لوٹ جاتے۔

اشرف بھائی سے ہمای ملاقات 2010 کے بعد ہوئی تھی اور 2010 والی ملاقات تو ہمیں یاد بھی نہیں۔ ہم دنیا ٹی وی کے آ غاز کے موقع پر لاہور میں موجود تھے اور اشرف صاحب ہمیں ملنے کے لیے ایمبیسڈر ہوٹل آئے تھے۔ ا شرف جاوید صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ’’ نخلِ نوا ‘‘ شائع ہوا، تو ہم اس وقت لاہور میں ہی تھے اور پھر ہم نے ملتان میں نخلِ نوا کی تعارفی تقریب کا اہتمام بھی کیا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے ہم اشرف جاوید ، سعید بدر ، اطہر ناسک کے ہمراہ ملتان آئے تھے۔ یہ تقریب منگول ہوٹل میں ہوئی۔ اب یاد نہیں کس کس نے خطاب کیا لیکن حسین سحر اور اقبال ارشد تو مسند پر موجود تھے۔

بعد کے دنوں میں جب بھی لاہور ہمیں بلاتا ہم اشرف صاحب سے ضرور ملتے تھے۔ گوال منڈی میں محفل سجتی ۔ اشرف جاوید بعد ازاں انجمن ترقی ادب سے منسلک ہو گئے ، پھر اس کے بعد ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے بھی منسلک رہے۔ اب تک ان کے چھ شعری مجموعوں سمیت مختلف سیاسی و ادبی موضوعات پر ، جو کتب شائع ہوئیں ، ان میں عالمی سیاست کے فرمانروا ، پاکستان میں انتخابات کی تاریخ، امنِ عالم خدشات و خطرات، آفتابِ داغ ( داغ دہلوی کے کلام کی تدوین، حواشی کے ساتھ ) شامل ہیں۔

اشرف جاوید صاحب کے ساتھ یہ ملاقات کم و بیش ایک گھنٹے پر محیط رہی۔ قمبر بھائی نے اس دوران ان لمحات کو اپنے موبائل فون میں محفوظ کرلیا۔۔ ہم نے ایک دوسرے کو اپنا تازہ کلام سنایا اور اس وعدے کے ساتھ اجازت لی کہ اگلی مرتبہ ہم زیادہ وقت کے لیے ان کے پاس آئیں گے اور اشرف صاحب کو بھی ایک بار پھر ملتان بلائیں گے۔ آخر میں اشرف جاوید کی سنائی ہوئی تازہ غزل کا ایک شعر جو دل میں اترنے کے ساتھ ساتھ حافظے میں بھی محفوظ ہو گیا ہے۔ میں نے بھی اس شعر سے پہروں لطف لیا آپ بھی شعر پڑھیں اور لطف لیں:
دونوں پڑے ہیں خون میں لت پت محاذ پر
یکساں ہوئی ہے ان کے لیے جیت ہار بھی

(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)